الملل و النحل مصنفہ محمد بن عبد الکریم شہرستانی - ردِ…

الملل و النحل مصنفہ محمد بن عبد الکریم شہرستانی

  محمد علی

صفحہ 2 از 3

شہرستانی کی اس تحریر میں جو خبط اور بد حواسی ہے، وہ بالکل ظاہر ہے۔ معجم البلدان میں حموی کا کہنا ہے کہ اگر یہ شخص اعتقادیات میں خبطی نہ ہوتا اور بےدینی کی طرف اس کا میلان نہ ہوتا تو امام وقت ہوتا ہمیں بہت مرتبہ تعجب ہوتا ہے کہ اس قدر صاحب فضل و عقل کس طرح بےاصل باتوں اور بےدلیل امور کی طرف مائل ہو گیا۔ جن پر نہ کوئی عقلی دلیل اور نہ ہی نقلی موجود ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اس ذلت اور محرومی کی پناہ چاہتے ہیں۔ جو نور ایمان کے چھن جانے سے ہوتی ہے۔ شہرستانی کا یہ سب کچھ ایسا اس لیے ہوا کہ اس نے نور شریعت سے منہ موڑ لیا تھا اور فلسفیانہ ظلمتوں میں مشغول و مصروف ہو چکا تھا۔ شہرستانی ہم سے محاورات و مفاوضات بیان کیا کرتا تھا اور فلسفیوں کے نظریات و مذاہب کی مدد کے لیے بہت آگے بڑھ جایا کرتا تھا اور ان پر کئے گئے اعتراضات کا جواب دینے میں دور نکل جاتا تھا۔ میں اس کی متعدد مجالس وعظ میں شریک ہوا۔ کسی مجلس میں اس نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی کوئی بات نہ کی اور نہ ہی کسی شرعی مسئلہ کا جواب دینا گوارا کیا۔

لمحہ فكريہ: کتاب الملل والنحل کے حوالہ سے نجفی نے سیدنا فاروق اعظمؓ کو سیدہ فاطمہؓ کا دشمن ثابت کیا اور دُرّہ مار کر ان کا ہونے والا بچہ شہید کرنے کا ڈرامہ پیش کیا، اور پھر یہ سب کچھ "اہلِ سنت کی معتبر کتاب" کے حوالے سے لکھا اب آپ فیصلہ کر سکتے ہیں۔ کہ یہ کتاب اور اس کا مصنف جس کو شیعہ (بحوالہ الذریعہ) اپنا آدمی کہتے ہیں اور پھر بےدین خبطی اور فلسفہ کا غلام بھی کہہ رہے ہیں اس کی کتاب کے حوالے سے تو سرے سے کوئی دلیل و حجت بن ہی نہیں سکتی اور اگر نجفی وغیرہ اسے حجت قرار دیں تو ہمیں کیا نقصان کیونکہ وہ جب ہے ہی تمہارا۔ تو پھر تمہاری طرح ہی بڑھ مارے گا۔ یہ تو خود شیعہ مصنفین نے اس کی حقیقت بیان کی۔ آیے ایک دو حوالے اہلِ سنت کی کتب سے بھی پڑھ لیں کہ وہ صاحب الملل والنحل محمد بن عبد الکریم شہرستانی کے عقیدہ کے بارے میں کیا لکھتی ہیں۔

علماء اہلِ سنت کے نزدیک صاحب الملل والنحل شہرستانی غالی شیعہ ہے

طبقات الشافعية:   فِي تَارِيخ شَيْخِنَا الذَّهَبِي أَنَّ ابْنَ السَّمْعَانِي ذَكَرَ أَنَّهَ كَانَ مُتَّهِما بالمَيْلِ إِلى أَهْلِ القِلاع يَعْنِي الْإِسْمَاعِيلية والدَّعْوَةِ اليَهِم والنصرة بِطَاعَاتِهِمْ وَ أَنَّهُ قَالَ فِي التَّحْبِيرِ إِنَّهُ مُتَّهِمْ بالاِلْحَادِ وَالْمَيْلِ إِلَيْهِمُ غَالِ فِي التَّشَيعِ (طبقات شافعية الكبرى: جزء رابع: صفحہ 79)

ترجمہ: شیخ ذہبی متوفی 768ه‍ کی تاریخ میں تحریر ہے کہ ابن سمعانی نے شہرستانی کے متعلق ذکر کیا کہ وہ فرقہ اسماعیلیہ کی طرف مائل تھا۔ (جو شیعہ ہے) اور ان کے نظریات کی دعوت دیا کرتا تھا اور ان لوگوں کی مدد کرتا جو اسماعیلی ہوتے تھے انہوں نے "تحبير" نامی کتاب میں کہا ہے کہ شہرستانی بے دینی کی وجہ سے بدنام تھا اور بےدینوں کی طرف اس کا میلان تھا۔ شیعیت میں بہت غالی تھا۔ (یعنی عام شیعوں کی بہ نسبت یہ متعصب اور پرلے درجے کا ضدی شیعہ تھا)

منهاج السنة: مَا يَنْقُلُه الشَهْرستاني وَأَمْثَالُهٗ مِنَ المُصَنِّفِيْنَ في المللِ والنَحَل عَامَتْهُ مِمَّا يَنْقُلُهُ بَعْضُهُمُ عَنْ بَعْضٍ وَكَثِيرٌ مِنْ ذَالِكَ لَمْ يُحَرِّرُ فِيهِ أَقْوَالَ المَنقُول عَنْهُمْ وَلَمْ يُذْكَرِ الْأَسْنَادُ فِي عَامَةِ مَا يَنْقُلُو بَلْ هُوَ يَنْقُلَ مِنْ كُتُبِ مَنْ صَنَّفَ المَقَالَاتِ قَبْلَهُ مِثْل أبي عيسى الوراق وَ هُوَ مِنْ المُصَنِّفِينَ لِلرَافِضَةِ المُتَّهِمِينَ فِي كَثِيرٍ مِنَ الصَّحَابَةِ وَ بِالْجُمُلَة فالشهرستاني يظهرُ المَيْلَ إِلَى الشَّيْعَةِ امَّا بِبَاطِنِهِ وَ إِمَا مُدَاهَنَةً لَهُمُ فَإِنَّ هذا الكِتَابَ المِلل والنحل صَنَّفَهُ لرئيس من رؤسَائهِمْ وَكَانَتْ لَهُ وِلَآيَةً ديوانية و كان للشهرستاني مقصود في استعطَافِهِ لَهُ وَكَذَالِكَ صَنفَ لَهُ كِتَابٌ المُصَارَعَةِ بَيْنَة وَبَيْنَ ابْنِ سینَالِمَيْلِهِ إلى التشيع وَالْفلسَفةِ وَاحْسَنَ أَحوَالِهِ أَن يَكُونَ مِنَ الشَّيْعَةِ إِن لَمْ يَكُنْ مِنَ الْإِسْمَاعِيلَيَّةِ أَعْنِي المُصَنَفَ لَهُ وَلِهِذَا تَحَامَلَ فِيهِ للشَّيعَةِ تَحامُلَا بَيِّنا وَإِذَا كَانَ فِي غَيْرِ ذَالِكَ مِنْ كُتُبِهِ يَبْطُلُ مَذْهَبَ الإِمَامِيَّةِ فَهٰذَا يَدُلُّ عَلَى المَدَاهَنَةِ لَهُمْ فِي هَذَا الكِتَابِ لَاجل مَنْ صَنفَ لَهُ

 (منهاج السنة لابنِ تيميه: جزء ثالث صفحہ 209، 207) 

ترجمہ: شہرستانی اور اس جیسے دوسرے مصنفین الملل والنحل میں جو ذکر کرتے ہیں اس میں سے عام باتیں وہ ایک دوسرے سے نقل کرتے ہیں اور بہت سا حصہ ایسا بھی ہے کہ جس میں منقول عنہم کے اقوال نہیں لکھے اور نقل کرنے میں عام طور پر اسناد کو چھوڑ دیا بلکہ وہ اپنے سے پہلے مصنفین کی کتابوں سے نقل کرتا ہے۔ جیسا کہ ابو عیسیٰ وراق جو کہ شیعہ مصنفین میں سے تھا اور اپنی بہت سی تحریرات میں متہم تھا اور ابو یحیٰی وغیرہ شیعہ مصنفین کے علاوہ زیدیہ کی کتابوں سے بھی نقل کرتا ہے اور کچھ باتیں معتزلہ کی درج کیں۔ جنہوں نے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر طعن کئے ہیں۔ مختصر یہ کہ شہرستانی کا شیعیت کی طرف میلان تھا اس کی وجہ یا تو یہ تھی کہ وہ حقیقت میں شیعہ تھا یا پھر ان کی خوشامد کرنے کی وجہ سے شیعہ بن گیا تھا اس نے الملل والنحل ایک رئیس کے حکم پر لکھی تھی جو شیعہ تھا اور حکومت کا آدمی تھا۔ شہرستانی کا مقصد یہ تھا کہ کسی بہانے اس رئیس کا دل موہ لے کتاب المصارعہ بھی شہرستانی نے اسی کے کہنے پر لکھی جو شہرستانی اور ابنِ سینا کے مابین کچھ باتوں پر مشتمل ہے۔ اس رئیس کا شیعیت کی طرف اور فلسفہ کی طرف میلان تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شہرستانی نے شیعیت کی طرفداری میں بہت کچھ برداشت کیا ہے۔ اگرچہ دوسری کتابوں میں مذہب امامیہ کی تردید بھی کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شہرستانی کی شیعیت بطور خوشامد تھی۔

صفحہ 2 از 3