تاریخ الطبری مصنفہ ابو جعفر محمد بن جریر طبری - ردِ رافضیت…

تاریخ الطبری مصنفہ ابو جعفر محمد بن جریر طبری

  محمد علی

صفحہ 1 از 4

تاریخ الطبری مصنفہ ابو جعفر محمد بن جریر طبری

تاریخ طبری تصنیف ابو جعفر محمد بن جریر طبری بھی ایسے مواد پر مشتمل ہے جو اہلِ سنت کے معتقدات کے خلاف ہیں انہیں باتوں کو کچھ ناسمجھ شیعہ پیش کر کے عوام اہلِ سنت کو گمراہ کرنے کی ناپاک کوشش کرتے ہیں۔ ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

 تاریخ آئمہ: آنحضرتﷺ کے انتقال کے بعد جن لوگوں نے ابوبکر کی بیعت سے انکار کیا وہ فاطمہ کے گھر پر تھے تو ابوبکر نے عمر کو بھیجا کر جو لوگ فاطمہ کے گھر میں ہیں ان کو وہاں نہ رہنے دیں اور وہ نکلنے سے انکار کریں تو بزور شمشیر وہاں سے نکالیں اس پر عمر آگ لکڑی لے کر وہاں اس قصد سے پہنچے کہ گھر میں آگ لگا دیں۔ یہ سن کر سیدہ فاطمہ نے کہا اے پسر خطاب! کیا تو میرا گھر جلانے آیا ہے؟ حضرت نے کہا بےشک اسی ارادے سے آیا ہوں، ورنہ جو لوگ اس گھر میں ہیں وہ سب چل کر ابوبکر کی بیعت کریں۔ دوسری روایت میں ہے کہ جب عمر نے گھر میں آگ لگانے کی قسم کھائی تو لوگوں نے کہا کہ اس گھر میں تو سیدہ فاطمہ بھی ہیں عمر نے کہا ہیں تو کیا کریں۔ 

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 98 )

(تاریخ ائمہ مصنفہ سید علی حیدر نقوی: صفحہ 151 تا 152)

 نوٹ: یہ عبارات اور ایسی ہی دوسری عبارات سے اہلِ تشیع یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ ہمارا مسلک صحیح ہے۔ کیونکہ خود سنیوں کی کتابوں میں ایسی کئی شہادتیں موجود ہیں کہ سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ سیدہ فاطمہؓ کے دشمن تھے اور بِنت رسولﷺ کی دشمنی دراصل رسول اللہﷺ سے دشمنی ہے۔ لہٰذا دشمنانِ رسولﷺ و آلِ رسولﷺ منصب رسولﷺ سے وہ خلافت کے مستحق کیونکر ہو سکتے ہیں۔

جواب:"تاریخ طبری" کے مصنف، محمد بِن جریر طبری کا مختصر سوانحی خاکہ پہلے پیش خدمت ہے۔

ابو جعفر محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب 324ھ میں طبرستان کے شہر آمل میں پیدا ہوئے، آمل شہر کی نسبت سے آملی بھی کہلائے اور طبرستان کی طرف نسبت سے طبری بھی کہلائے دونوں میں سے مشہور طبری ہے علم و فضل میں اپنے وقت کے بے مثل شخص تھے اور مسلمان علماء میں ان کا بہت اونچا مقام تھا۔ اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کی کتابوں میں انہیں اہلِ سنت کا امام لکھا گیا ہے لیکن ان کے بارے میں بعض حضرات اس بات کے قائل ہیں کہ ان میں تشیع پایا جاتا تھا۔ ان قائلین کے چند دلائل ملاحظہ ہوں:

 دلیل اول

 ابنِ جریر طبری میں تشیع تھا

 دلائل ملاحظہ ہوں: ان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جو شیعیت میں غلو رکھتا تھا ان کا حقیقی بھانجا ابوبکر محمد بن عباس خوارزمی جو ایک بلند پایہ ادیب اور ہجو گو شاعر تھا غالی رافضی تھا۔ اس کا باپ علاقہ خیوا کے مقام خوارزم کا رہنے والا تھا اور ماں مؤرث طبری کی بہن جریر کے گھرانے کی تھی۔ 

وَهُوَابْنُ أُخْتِ أَبِي جَعْفَر محمد بن جرير الطبري صاحب تاریخ

(ابنِ خلکان: صفحہ 400)

 اس نے اپنے ننہال میں پرورش پائی اور آخر میں جو یہ ایسے نامی غالی شیعہ افراد کی سرپرستی میں رہا وہ اپنے ماموں ابن جریر طبری کے رافضی مسلک ہونے کا اظہار درج ذیل اشعار میں فخریہ بیان کرتا ہے۔

یہی اشعار شیخ عباس قمی نے اپنی کتاب الکنی و الالقاب میں بھی درج کیے ہیں۔

 الكنى والالقاب: بآمل مَوْلَدِي وَبَنُو جَرِيرٍ فَاخْوَالِي وَيَحْكِي الْمُرُوخَالَه فَهَا أَنَا رَافِضِي عَنْ تُرَاث وَغَيْرِى رَافِضِي عَنْ كَلاله 

(الكنی والالقاب: جلد 1 صفحہ 22 مطبوعه تہران طبع جديد بحث ابوبكر) 

 ترجمہ:  مقام آمل میری جائے پیدائش ہے اور جریر کے بیٹے میرے ماموں ہیں اور آدمی اپنے ماموں کے مشابہ ہوتا ہے ہاں ہاں میں جدی پشتی شیعہ ہوں اور میرے سوا شیعہ کہلانے والا جدی پشتی نہیں بلکہ دور کا شیعہ ہے۔

 دلیل دوم: ابنِ جریر اپنی تصنیف تاریخ الاسم والملوک (المعروف تاریخ طبری) میں سیدنا امیر معاویہؓ کے متعلق یوں کہتا ہے۔

 تاریخ طبری كَانَ جَعْفَرُ بن ابي سفيان مِمَّنْ ثَبَتَ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ مِنْ أَصْحَابِهِ وَلَمْ يَزَلُ مَعَ أَبِيهِ مُلَانزما لِرَسُولِ اللَّهِ حَتَّى قُبِضَ وَتْوفي جَعْفَرُ فِي وَسُطِ خِلَافَةِ مُعَاوِيہ لعنه الله 

(تاریخ طبری: جلد 13 صفحہ 24 ذكر من مات او قتل سن 80 مطبوعہ بيروت)

ترجمہ: جعفر بن ابی سفیان ان صحابہ میں سے ایک ہیں جو غزوۂ حنین میں حضور کے ساتھ ثابت قدم رہے اور زندگی بھر یہ اپنے والد ابوسفیان کے ساتھ حضور کی بارگاہ میں حاضر ہے۔ یہ جعفر معاویہ کی خلافت کے درمیان میں فوت ہوئے۔

 تاریخ طبری: وقد روى نوفل بن معاويہ عن النبي تُوفي نوفل بالمدينة في خلافة يزيد بن معاويه لعنهما الله

 ترجمہ: نوفل بن معاویہ نے حضور سے حدیث روایت کی ہے اور یہ نوفل مدینہ منورہ میں یزید بن معاویہ (ان دونوں پر لعنت ہو) کی خلافت کے دوران فوت ہوا۔

( تاریخ طبری: جلد 13 صفحہ 28)

 نوٹ: ان دونوں حوالہ جات میں ابنِ جریر طبری نے سیدنا امیر معاویہؓ پر لعنت بھیجی اور فعل یہ عقیدہ کسی سنی کا ہرگز نہیں ہو سکتا اس لیے اس فعل کی وجہ سے بھی اس کی شیعت ثابت ہوتی ہے۔

 دلیل سوم

 البدایہ والنہایہ: ابنِ جریر طبری کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ ہونے دیا

 ابوجعفر بن جرير الطبرى وقد كانت وَفَاتُهُ وَقَتَ الْمَغْرِبِ عَشِيَّةَ يَوْمِ الْأَحَدِ ليَوْمَيْنِ بَقِيَا مِن شوال من سَنَة عَشَرَ وَ ثلثمائة وَقَدْ جَاوَزَ الثَّمَانِينَ بِخَمْسِ سِنِينَ أَوْ سِتِ سِنِينَ وَفِي شَعْرِ رَأسِهِ وَلِحْيَهِ سَوَادٌ كَثِيرٌ وَ دُفَنِ فِي دَارِہ لانَ بَعْضَ عَوَامِ الْحَنَابَلَةِ وَرُعَاعِهِمْ منَعُوا مِنْ دَفَنيْهِ نَهَارًا وَنَسَبُوهُ إِلَى الرِّقْضِ وَلَمَّا توفى اجْتَمَعَ النَّاسِ مِنْ سَائِرِ الْأَقْطَارِ بَغدَادَ وَصَلُّوا عَلَيْهِ بدَاره دفن بھا

صفحہ 1 از 4