تاریخ الطبری مصنفہ ابو جعفر محمد بن جریر طبری - ردِ رافضیت…

تاریخ الطبری مصنفہ ابو جعفر محمد بن جریر طبری

  محمد علی

صفحہ 2 از 4

 ترجمہ: ابو جعفر جریر طبری کی وفات بوقت مغرب ہفتہ کے دن ہوئی۔ جبکہ 310 ہجری مکمل ہونے کو صرف دو دن باقی تھے۔ بوقت انتقال ابنِ جریر کی عمر پچاسی یا چھیاسی برس تھی اور اس کے سر اور داڑھی کے بال اکثر سیاہ تھے اپنے گھر میں ہی دفن کیے گئے کیونکہ کچھ حنبلی حضرات نے دن کے وقت انہیں دفن کرنے سے روک دیا تھا اور انہیں رافضیوں کی طرف منسوب کیا تھا۔ جب فوت ہوئے تو تمام اطراف کے لوگ بغداد جمع ہو گئے اور اسی گھر میں ان کی نماز جنازہ پڑھی جس میں انہیں دفن کیا گیا تھا۔ 

(البدایہ والنہایہ: جلد 11 صفحہ 146، 147 مطبوعہ بیروت طبع جدید) 

 دلیل چہارم 

 تذكرة الحفاظ: حدیث خم غدیر جو کہ اہلِ تشیع کے ہاں سیدنا علی المرتضیٰؓ کی ولایت کی بہت بڑی دلیل ہے اس حدیث کو ابنِ جریر نے کئی طریقوں سے صحیح ثابت کیا ہے چونکہ اس کی صحت شیعت کی تقویت ہے۔ لہٰذا اس وجہ سے بھی ابنِ جریر کے تشیع ہونے کو بیان کیا گیا ہے چنانچہ امام ذہبی تذکرۃ الحفاظ میں رقم طراز ہیں۔

 تذكرة الحفاظ:  وَلَمَّا بَلَغهُ إِنَّ ابْنَ أَبِي دَاوُد تَكَلَّمَ فِي حَدِيثِ غَدِ يُرِحْم عَمَل كِتَابِ الْفَضَائِلِ وَتَكَلَّمَ عَلَى تَصْحُم الحديث قُلْتُ رَأَيْتُ مُجَلِدًا مِنْ طُرُقِ الْحَدِيث لابن جرير فاند ھشتُ لَهُ وَلِكَثْرَةِ تِلْكَ الطرق 

 (تذكرة الحفاظ: جلد 2 صفحہ 13، مطبوعہ بیروت طبع جدید)

 ترجمہ: جب ابنِ جریر کو یہ علم ہوا کہ ابنِ ابی داؤد نے غدیر خم کی حدیث پر اعتراض کیا ہے تو اس نے اس کی تردید اور حدیث کی صحت کے موضوع پر کتاب الفضائل لکھی میں (ذہبی) نے ابنِ جریر کی مزکور کتاب کی ایک جلد دیکھی ہے میں اسے پڑھ کر حیران ہو گیا اور اس کے کثرت طرق نے مجھے ششدر کر دیا۔

 نوٹ: ابنِ جریر کی ایک کتاب الخصائص نامی کا تذکرہ الذریعہ جلد 7 صفحہ 163 پر بھی ہے جو سیدنا علی المرتضیٰؓ کے فضائل پر لکھی گئی ہے۔

 دلیل پنجم

 لسان الميزان: أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ السليماني الحَافِظُ فَقَالَ كَانَ يَضَعُ لِلرَّوَافِضِ

(السان الميزان: جلد 5 صفحہ 100 مطبوعہ بیروت، ميزان الاعتدال: جلد 3 صفحہ 35)

 ترجمہ: حافظ احمد بن علی سلیمانی کہتے ہیں کہ ابن جریر رافضیوں کے لیے حدیثیں گھڑا کرتا تھا۔

 دلیل ششم

 البدايہ والنہايہ: إِنَّهُ كَانَ يَقُولُ بِجَوَازِ مَسْحِ الْقَدَمَيْنِ فِي الْوُضُوء وَإِنَّهُ لَا يُوجِبُ غَسْلَهُمَا وَقَدْ اشْتَهَرَ عَنْهُ هذا

(البدايہ والنهايہ: جلد 11 صفحہ 147 مطبوعہ بیروت) 

 ترجمہ: ابنِ جریر وضو کے دوران پاؤں کے مسح کا قول کیا کرتا تھا اور ان کا دھونا واجب نہیں سمجھتا تھا اور یہ بات اس کی بہت مشہور تھی۔

 تفسیر طبری: عَنْ عِكْرَمَة قَالَ لَيْسَ عَلَى الرجلَيْنِ عغسْلٌ إِنَّمَا نَزَلَ فِيهِمَا الْمَسَحُ عَنْ أَبِي جَعْفَرَ قَالَ امْسَح عَلَى رَأْسِكَ وَقَدْمَيْكَ وَ الصرَابُ مِنَ الْقَوْلِ عِنْدَنَا فِي ذَالِكَ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَ بِعُمُوم مَسْحِ الرِجلَيْنِ بِالمَاءِ فِي الْوُضُوء كَمَا أَمَرَ بِعَمُوم مَسْحُ الوَجْهِ بِالتُّرَابِ فِي التَّيَمُّمِ

(تفسیر طبری: جلد 5 صفحہ 82، 83 مطبوعہ بیروت)

 ترجمہ: عکرمہ سے روایت ہے کہ پاؤں کا دوران وضو دھونے کا حکم نہیں بلکہ ان کا مسح کرنا نازل ہوا ہے۔  ابوجعفر کہتے ہیں کہ اپنے سر اور دونوں قدموں پر مسح کیا کرو ہمارے نزدیک صحیح یہ ہے کہ پاؤں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے عام مسح کرنے کا حکم دیا ہے جس طرح تییم میں چہرہ کے عموم کا مسح کرنا فرمایا ہے۔

 نوٹ: شیعہ سنی فقہ کے مابین مختلف مسائل میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اہلِ سنت وضو کے دوران پاؤں کے دھونے کے قائل ہیں اور اہلِ تشیع ان پر مسح کے قائل ابنِ جریر نے شیعہ مسلک کو صواب قرار دے کر اپنی شیعیت بیان کر دی۔

 دلیل ہفتم: ابنِِ جریر کی تاریخ الامم والملوک بہت مشہور تصنیف ہے اس کتاب کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ابو مخنف لوط بِن یحییٰ سے مروی ہے گذشتہ اوراق میں کتاب یازدہم کے عنوان کے تحت ہم مقتل ابی مخنف کی روشنی میں اس کا امامی شیعی ہونا ثابت کر چکے ہیں۔ علاوہ ازیں ابنِ جریر نے وہ روایات جو اہلِ سنت کے عقائد کے مخالف ہیں انہیں واقدی سے بھی روایت کیا ہے واقدی یعنی محمد بن عمر کو اگرچہ اہلِ سنت کی کتب اسمائے رجال میں سنی بھی لکھا گیا ہے اور تنقید بھی کی گئی ہے یہ بہت بڑا کذاب ہے لیکن کتب شیعہ میں اسے تقیہ باز شیعہ کہا گیا ہے۔ اہلِ سنت تو بس ظاہر پر چلتے ہیں لیکن گھر کے بھیدی بخوبی جانتے ہیں کہ یہ ہمارا آدمی ہے اور گدھا شیر کی کھال پہن کر شیر بنا ہوا تھا واقدی کو شیعہ تسلیم کرنے کا کتب شیعہ سے حوالہ ملاحظہ ہو:

 الذريعة : قَالَ ابْنُ النَّدِيم أَنَّهُ كَانَ يَتَشَيعُ حُسْنَ المَذْهَبِ يَلْزِمُ التَّقِيَّةَ  

(والذریعه: جلد 16 صفحہ 120)

 ترجمہ: ابنِ ندیم نے کہا کہ واقدی مذہب شیعہ رکھتا تھا اور وہ اس میں اچھے مذہب پر تھا اور اپنے لیے تقیہ لازم کیے ہوئے تھا۔

 الكنى والالقاب: وَقَالَ ابْنُ القَدِيمِ إِنَّ الوَاقِدِى كَانَ يَتَشَيَّعُ حُسْنَ الْمَذْهَبِ يَنْزِمُ التَّقِيَّةَ وَهُوَ الَّذِي روى أَنَّ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَامِ كَانَ مِن مُعْجِزَاتِ النَّبِيّ ﷺ كالعصا لموسٰى عليه السلام و احْيَاءِ الْمَوْتى لِعِيسَىٰ بْنَ مَرْيَمَ عليه السلام وَ غَيْرِ ذَالِكَ مِنَ الأَخْبار 

 ( الكنى والالقاب: جلد 3 صفحہ 280 تذكرة الواقدی) 

 ترجمہ: ابنِِ ندیم نے کہا کہ واقدی مذہب شیعہ میں بہت اچھا تھا اور تقیہ کا خوگر تھا یہ وہی ہے کہ جس نے روایت کی کہ علی علیہ السلام حضورﷺ کے معجزات میں سے تھے جس طرح حضرت موسیٰؑ کے لیے عصا اور حضرت عیسیٰؑ کے لیے مردے زندے کرنا۔ وغیر ذانک

 تاریخ طبری: قال محمد وحدثني عبد الله بن موسىٰ المخزومي قَالَ لَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ  أَرَادُ وسَقَ رَأْسِهِ فَوَقَعَتْ عَلَيْهِ نَائِلَةٌ وَامَ البَنِينَ فَمَنَعْنَهُمْ وَصَحن وَضَرَبْنَ الْوُجُوهَ وَخَرَقْنَ ثِيَابَهُنَّ 

( تاریخ طبری: سن 35ھ جلد 5 صفحہ 144)

صفحہ 2 از 4