تاریخ الطبری مصنفہ ابو جعفر محمد بن جریر طبری - ردِ رافضیت…

تاریخ الطبری مصنفہ ابو جعفر محمد بن جریر طبری

  محمد علی

صفحہ 3 از 4

 ترجمہ: کہا محمد (واقدی) نے مجھے عبداللہ بن موسیٰ محزومی نے روایت بیان کی کہ جب عثمان کو شہید کر دیا گیا اور قاتلوں نے آپ کا سر انور جدا کرنے کی کوشش کی تو عثمان کی بیویاں نائلہ اور ام البنین آپ پر گر پڑیں اور ان کو اس سے روک دیا اور خوب چیخیں چلائیں اور اپنے چہرے پیٹے اور کپڑے بھی پھاڑے۔

 تاریخ طبری: قال ابو مخنف فَحَدثني ابو زهير العیسیٰ عن قرة بن قيس التميمي قَالَ نَظْرَت إِلى تِلْكَ النِّسْوَةِ لَمَّا مَرُونَ بِحُسَيْنٍ وَأَهْلِهِ وَوَلَدِهِ صعَنَ وَلَطَمَنَ وَجُوبهُنَّ قَالَ فَاعْتَرفتُهُنَّ عَلَى فَرَسٍ فَمَا رَأَيْتُ مَنْظَرًا مِنْ نِسْوَ وَقَطَّ كَانَ أَحْسَنَ مِنْ مَنْظر رأَيتُهُ مِنْهُنَّ ذَالِكَ 

(تاريخ طبری: جلد 6 صفحہ 262)

 ترجمہ: ابو مخنف نے کہا مجھے ابو زہیر عیسیٰ نے قرہ بن قیس تمیمی سے روایت بیان کی کہ میں نے ان عورتوں کو دیکھا جو سیدنا حسینؓ کی نعش کے قریب سے گزریں ان کے اہلِ اور ان کی اولاد کے پاس سے گزریں تو چیخیں اور اپنے چہروں کو پیٹا۔ راوی کہتا ہے کہ میں جب گھوڑے پر سوار ان کے پاس آیا تو ان عورتوں کا ایسا منظر دیکھا جیسا کہ زندگی بھر میں نے نہ دیکھا۔

 نوٹ: مذکورہ دونوں روایات ثبوت ماتم اور کپڑے پھاڑنے پر دلالت کرتی ہیں ان دونوں میں اول الذکر کا راوی "واقدی اور مؤخر الذکر کا راوی ابو مخفف ہے۔ یہ دونوں مسلک و مذہب کے اعتبار سے امامی شیعہ ہیں۔ ان کا گزشتہ اوراق میں تفصیلی ذکر ہو چکا ہے ایک سنی العقید شخص کو بھلا کیا ضرورت تھی کہ ایک مسئلہ کے لیے روایات شیعہ ذکر کرتا پھرے جو اہلِ سنت کے نزدیک سرے سے ہی غلط ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ محمد بن جریر کا تشیع کی طرف میلان تھا۔ یہ تھیں وہ سات عدد دلیلیں جو ابنِ جریر کے تشیع اپنانے کے ثبوت میں تھیں۔ ان دلائل میں سے دلیل چھ پر اگرچہ امام ذہبی نے جرح کی اور لکھا کہ جو لوگ ابنِ جریر پر رافضیوں کی خاطر احادیث وضع کرنے کا الزام لگاتے ہیں وہ یہ ابنِ جریر نہیں بلکہ ایک ایسے نام کا رافضی یعنی محمد بن جریر بن رستم تھا۔ پھر علامہ ذہبی یہ بھی فرماتے ہیں کہ رافضیوں کی خاطر ابنِ جریر صاحب طبری کا حدیثیں وضع کرنا یہ طعن بھی کاذب ہے۔ لہٰذا اس سے ان کی شخصیت مطعون نہیں ہوتی امام ذہبی نے ابنِ جریر کی صفائی میں جو کچھ فرمایا وہ اس قدر مضبوط نہیں کہ اس سے بقیہ چھ دلائل بھی ختم ہو جائیں۔ حدیث خم غدیر کے بارے میں ابنِ جریر کا دو ضخیم جلدیں لکھ دینا اور اس کی صحت ثابت کرنا کیا یہ اس امر کی دلیل نہیں۔ ابنِ جریر سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خلافت کو منصوص من اللہ بلواسطہ نبی کریمﷺ سمجھتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس نے رافضیوں کو خوش کرنے کی خاطر اس حدیث کو اِدھر اُدھر من گھڑت طریقوں سے منسوب کر کے صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی ہو۔ اسی طرح اگر یہ کٹر سنی تھا۔ تو ابو مخنف اور واقدی وغیرہ سے ثبوت ماتم پر روایات جمع کرنے کی کیا ضرورت تھی خود اس کا حقیقی بھانجا محمد بن عباس خوارزمی قسمیہ بیان کرتا ہے کہ میں اور میرا ماموں ابن جریر جدی پشتی شیعہ ہیں۔

سیدنا امیر معاویہؓ کو " لعنۃ اللہ علیہ کے الفاظ سے ذکر کرنا کسی سنی کا عقیدہ ہے اور بوقت مرگ حنبلی العقیدہ مسلمانوں کا انہیں قبرستان میں دفن کرنے سے روکنا آخر اس کی کیا وجہ تھی اور پاؤں پر مسح کو دھونے کی بنسبت صحیح کہنا یہ وہ الزام ہیں کہ جن سے برأت ناممکن ہے۔

مختصر یہ کہ اگر تسلیم بھی کر لیا جائے کہ ابنِ جریر سنی تھا تو پھر اس کی وہ روایات جو اہلِ تشیع کے حق میں جاتی ہیں۔ وہ صرف اس ایک آدمی کی ہیں اس کے خلاف دیگر تمام علمائے اہلِ سنت نے ان کو تسلیم نہ کیا بلکہ ان کے خلاف بکثرت روایات ذکر فرمائیں۔ اس لیے ایسی روایات ہم اہلِ سنت پر قطعاً حجت نہیں ہو سکتیں۔ مثلاً مخفف اور واقدی سے مروی ثبوت ماتم کی روایات اگرچہ باالفرض ابنِ جریر نے سنی ہوتے ہوئے ذکر کیں اور دیگر سنی تصانیف میں اور عقائد میں ماتم حرام ہے۔ تو ہم ابنِ جریر کی اس کاوش کو کس طرح تسلیم کر لیں کہ ایک یہ سچا ہے اور دوسرے تمام سنی حضرات جھوٹے ہیں؟ ایسی روایات سے شیعہ تو خوش ہو سکتے ہے۔ لیکن اہلِ سنت پر حجت ہر گز نہیں ہو سکتیں۔

 فاعتبرو يااولى الابصار

 توضيح: قارئین کرام! یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ طبری نسبت والے تین آدمی مشہور ہوئے ہیں:

اول: محمد بن جریر بن رستم طبری آملی، اس شخص کے شیعہ ہونے میں کسی کو انکار نہیں۔ الذریعہ، الکنی والقاب، اعیان الشیعہ وغیرہ کتب میں اس کے تشیع کی تصریح موجود ہے۔

دوم: محمد بن جریر بن زید طبری یہ وہ ہے کہ جن کے بارے میں گزشتہ صفحات میں آپ نے پڑھا تاریخ طبری کے مصنف اور تفسیر طبری کے مؤلف یہی ہیں۔ ان کا بظاہر شمار اگرچہ اہلِ سنت کے علماء میں ہوتا ہے۔ لیکن ان پر تشیع کا الزام دلائل کے ساتھ ہے کیونکہ ایسے اختلافی مسائل جن میں اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کا اختلاف ہے۔ اُن میں اُن کی کتابوں میں اہلِ تشیع کی طرف جھکاؤ ہے اسی بنا پر ان کی تحریرات ہم اہلِ سنت پر حجت نہیں ہو سکتیں۔

تیسرا: شخص احمد بن عبداللہ محب الدین طبری ہے جس کی مشہور تصنیف ریاض النضرة ہے ان کے حالات فی الحال نہ ہمیں لکھنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی ہم نے کتب اسمائے رجال میں انہیں تلاش کیا آخر میں ابنِ جریر طبری کے بارے میں ایک ثبوت پیش خدمت ہے۔ جس میں خود شیعہ بھی اس میں تشیع کے قائل نظر آتے ہیں۔

 تنقيح المقال: وَرَامَ فِي رَوْضَاتِ الْجَنَّاتِ إِثْبَاتِ كَوْنِ الرَّجُلِ إِمَامِيَّا لَا عَامِيَّا وَاسْتَدَلَ بِوُجُوْہ قَاصِرَةٍ عَنْ ذَالِكَ مِثْلَ كَوْنِهِ بَلْدَةِ كَانُوا قَدِيمي التشِيعِ خُصُوصًا فِي زَمَنِ السَّلاطين آل بويه وَ عَدْمٍ قُبُولِهِ أَحَدًا مِنَ الْمَذَاهِبِ الْأَرْبَعَةِ السُّنَّةِ. بانه الَّتِي انْصَرَ فِيهَا أَهْلا ذَكَرَ طَرَقَ خَبرِ الغَدِيرِ وَلَا يَفعلُهُ إِلَّا شيعي 

( تنقيح المقال: جلد 2 صفحہ 90 مطبوعہ تہران طبع جدید باب میم)

صفحہ 3 از 4