تاریخ ابو الفداء مصنفہ ملک حماد الدین - ردِ رافضیت | دفاع…

تاریخ ابو الفداء مصنفہ ملک حماد الدین

  محمد علی

صفحہ 1 از 2

تاریخ ابو الفداء مصنفہ ملک حماد الدین:

 ملک مؤید ابو الفداء اسماعیل کی یہ تصنیف ہے اس میں بھی کئی ایک جگہ پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف گندی روایات اور نازیبا زبان استعمال کی گئی ہے۔ یہ شخص کٹرشیعہ ہے لیکن غلام حسین نجفی وغیرہ اسے سنی بنا کر اس کی عبارات سے استدلال کرتے ہیں نجفی کی تحریر ملاحظہ ہو:

سیدنا عمرؓ کا دروازہِ سیدہ فاطمہؓ پر آگ لے کر آنا اور ان کا گھر جلانے کی دھمکی دینا

تاريخ ابوالفداء: ثُمَّ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ بَعَثَ عُمَرَ ابْنَ الخَطَابِ إِلى عَلي وَمَنْ مَعَهُ لِيَخْرُجَهُمْ مِنْ بَيْتِ فَاطِمَةً وَقَالَ ان أبَوْا عَلَيْكَ فَقَاتِلُهُمْ فَأَقْبَلَ عُمَرُ بِشَيْ مِنْ نَارٍ عَلى أَنْ يَضرِمَ الدَّارَ فَلَقِيتُهُ فَاطِمَةُ وَ قَالَتْ إِلى أَيْنَ يَا بْنَ الْخَطَابِ أَجِئْتَ لِتُحرِقَ دارَنَا قَالَ نَعَمْ أَوْ تَدْخُلُوا فِيمَا دَخَلَ فِيهِ الْأُمَّةُ

(اہلِ سنت کی معتبر کتاب تاریخ ابوالفداء: جلد 1 صفحہ 156 ذکر بیعت سیدنا ابي بكرؓ )

ترجمہ: پھر ابوبکر نے عمر بن الخطاب کو علی اور ان کے ساتھیوں کی طرف بھیجا تاکہ ان کو فاطمہ کے گھر سے نکالے اور کہا کہ اگر وہ تیری بات نہ مانیں تو ان سے لڑائی کر لہٰذا عمر آگ لے کر چلا تاکہ فاطمہ کے گھر کو جلا دے۔ لہٰذا جب فاطمہ کی عمر سے ملاقات ہوئی انہوں نے پوچھا اے عمر تو کہاں جا رہا ہے کیا تو اس لیے جا رہا ہے کہ میرا گھر جلائے سیدنا عمر نے کہا ہاں اس لیے جا رہا ہوں یا تو تم ابوبکر کی بیعت کر لو ورنہ میں تمہارا گھر جلا دوں گا۔

(سهم مسموم: صفحہ 69 مصنفہ غلام حسین نجفی مطبوعہ ماڈل ٹاؤن لاہور )

تاريخ ابو الفداء کی شیعہ نواز عبارتیں

جواب: تاریخ ابو الفداء کے بارے میں اس سے چند عبارات ہم درج کر رہے ہیں تاکہ ان عبارات کے آئینہ میں اس کے مصنف کی اصلی شکل نظر آ سکے پھر دوسرے طریقے یعنی کتب شیعہ سے کا سوانحی و مذہبی خاکہ پیش کیا جائے گا لیجیے چند عبارات ملاحظہ ہوں:

عبارت اول:

قَالَ أَبُو الفِدَاءِتُ فِي الْحَسَنُ مِنْ سَمِّ سَقتْهُ امْرَأَتُهُ جُعْدَة إلى أن قَالَ وَكَانَ قَدْ اوصی أنْ يُدْفَنَ عِنْدَ جدہ رَسُول الله فَلَمَّا توفِي أَرَادُوا ذَالكَ وَكَانَ عَلَى الْمَدِينَةِ مروان ابن الحكم من قِبَلِ مُعَاوِيَة فَمَنَعَ مِنْ ذالِكَ وَ كَانَ يَقَعُ بَيْنَ بَنِي أُمَيَّةِ وَ بَنِی هَاشِمٍ بِسَبَبِ ذَالِكَ فِتْنَةٌ فَقَالَتْ عائشَةُ الْبَيْتُ بَيْتِي وَلَا أَذَنْ أَنْ يُدْفَنَ فِيهِ فدْفِنَ بِالْبَقِيعِ 

 (تاريخ ابوالفداء بحوالہ تاریخ احمدی: صفحہ 213 مطبوعہ نیو گارڈن لاہور)

 ترجمہ: ابو الفداء کہتا ہے حسن کا انتقال اس زہر کی وجہ سے ہوا جو ان کی بیوی جعدہ نے دیا تھا اور یہ بھی کہا حسن نے یہ وصیت کی تھی کہ ان کی میت حضورﷺ کے پاس دفن کی جائے جب ان کا انتقال ہوا اور لوگوں نے وصیت پوری کرنے کا ارادہ کیا ان دنوں مدینہ کا گورنر مروان بن حکم تھا جو معاویہ کی طرف سے مقرر تھا اس نے اس وصیت پر عمل کرنے سے روک دیا اسی وجہ سے بنی ہاشم اور بنی امیہ کے درمیان فتنہ اٹھ کھڑا ہوا عائشہ نے فرمایا میرا گھر ہے لہٰذا میں حسن کو یہاں دفن ہونے کی اجازت نہیں دیتی پھر بقیع میں آپ کو دفن کیا گیا۔

عبارت دوم: قال ابو الفداء وَ لَما بَلَغَ مُعَاوِيَة مَوْتُ الحَسَنِ ابْنِ عَلِی خَرَ سَاجِدًا لِلَّهِ

(تاريخ ابو الفدا بحوالہ تاریخ احمدی: صفحہ 148)

ترجمہ: ابوا الفداء کہتا ہے جب معاویہ کو حسن بن علی کے انتقال کی خبر پہنچی تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ میں گر گئے۔

عبارت سوم: قال ابو الفداء ثُمَّ دَخَلَتْ سَنَهُ ثَلَاثِينَ فِيهَا تَكَلمَ جَمَاعَةٌ مِّنَ الْكُوفَةِ فِي حَقَّ عُثْمَانَ بِأَنَّهُ وَلى جَمَاعَةً مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ لَا يَصْلُحُونَ للَولايَةِ فَكَتَبَ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ وَالِي الْكُوفَةِ مِنْ قِبَلِ عُثْمَانَ عَلَيْهِ بذالِكَ بِذَالك فَأَمَرَهُ عثمانُ بِسَيرِ الَّذِينَ تَكَلَّمُوا بِذَالِكَ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ فَأَرْسَلَهُمُ وَفيهِمُ الْحَارِثُ بْنُ مَالِكِ الْمَعْرُوفُ بِالاشْتَرِالنخعي و ثابت بن قيس الخعي وجميل ابن زیاد و زید ابن صوحان العبدي واخوہ صعصعه وجندب ابن زهير وعروة ابن الجعد و عمر و بن الحمق فَقَدِمُوا على معاویۃ و جَرى بَيْنَهُمْ كَلامٌ كَثِيرٌ فَوَثَبُوا وَأَخَذُوا بلِحِية مُعَاوِيَة فَكَتَبَ بِذَالِكَ إلى عثمان فَكَتَبَ إِلَيْه عثمان أَن تَرَدَّهُمْ إلى سعيد بن العاص فَرَدَّهُمُ إلى سعيد فاتلقوا السْنتَهم فِي عُثْمَانَ وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِم أَهْلُ الْكُوفَةِ  

(تاريخ البو الفداء بحوالہ تاریخ احمدی: صفحہ 148)

ترجمہ: ابو الفداء کہتا ہے کہ 33ھ اہلِ کوفہ کو عثمان کے بارے میں چہ میگوئیوں کا موقعہ ملا وہ بھی اس بات پر کہ انہوں نے اپنے کچھ رشتہ داروں کو امورِ مملکت سپرد کر دیے حالانکہ وہ اس کے اہل نہ تھے عثمان نے سعید بن العاص والی کوفہ کو لکھا کہ ان نکتہ چینی کرنے والوں کو امیر معاویہ کے پاس شام بھیج دیا جائے چنانچہ انہیں وہاں بھیج دیا گیا ان لوگوں میں حارث بن مالک المعروف اشترنخعی جمیل ابن زیاد زید ابن صوحان العبدی ان کے بھائی صعصعہ، جندب ابن زہیر عروہ ابن جعد اور عمرو بن حمق تھے جب یہ لوگ معاویہ کے ہاں پہنچے اور ان کے مابین گفتگو بڑھی تو ان لوگوں نے جوش میں آ کر بھی کر معاویہ کی داڑھی پکڑ لی معاویہ نے یہ سارا واقعہ عثمان کو لکھ بھیجا جواباً عثمان نے لکھا کہ ان لوگوں کو سعید بن عاص کے ہمراہ واپس بھیج دو چنانچہ وہ سعید بن عاص کے پاس آ گئے یہاں پہنچ کر انہوں نے عثمان کے بارے میں اور تیز زبانی شروع کر دی اور پھر کوفہ کے بہت سے لوگ ان کے ساتھ جمع ہو گئے۔

عبارت چہارم: وَقَالَ ابو الفداء و ممانعتم الناس عَلَيْهُ رَدُّه الحکم بن العاص طرِيد رَسُول الله وطريد ابوبكر وعمر أيضًا واعطاه مروان بن الحكم خَمْسَ غَنائم افريقيه وَ هُوَ خَمْسٌ مِائَةِ الْفِ دِينَارٍ إِلَى أَنْ قَالَ وَاقْطَعَ مَروان بن الحكم فدك

(تاريخ ابوالفداء بحواله تاريخ احمدی: صفحہ 149)

صفحہ 1 از 2