تاریخ ابو الفداء مصنفہ ملک حماد الدین - ردِ رافضیت | دفاع…

تاریخ ابو الفداء مصنفہ ملک حماد الدین

  محمد علی

صفحہ 2 از 2

ترجمہ: ابو الفداء کہتا ہے عثمان کے خلاف جس بات سے لوگ برانگیختہ ہوئے ایک یہ بھی تھی کہ انہوں نے حکم بن عاص کو واپس بلا لیا جنہیں رسول اللہ نے باہر نکال دیا تھا پھر ابوبکر نے نکالا اور پھر عمر نے بھی نکالا اور مروان بن حکم کو افریقی مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ دیا جو پانچ لاکھ دینار بنتا تھا اور یہ بھی ابو الفداء نے کہا کہ عثمان نے مروان بن حکم کو فدک بھی دے دیا تھا۔

عبارت پنجم: قال ابو الفداء ابن شحنه اروى بنت الحارث بن عبد المطلب بن هاشم دَخَلَتْ عَلَى مُعَاوِيَة وھی عَجُوز كَبِيرَةٌ فَقَالَ مُعَاوِيَةٌ مَرْحَبًا بِكِ يَا خَالَةُ كَيْفَ أَنْتِ فَقَالَتْ بِخَيْرٍ يَا ابْنَ اخْتِى لَقَدْ كَفَرْتَ النِّعْمَةَ وَأَسَأْتَ لِابْنِ عَمكَ الصُّحْبَةَ وَقَسَمْتَ بِغَيْرِ اسْمِكَ وَأَخَذْتَ غَيْرَ حَقِّكَ وَكُنَّا أَهْلَ بَيْتِ أَعْظَمَ النَّاسِ فِي هَذَا الدِّينِ بَلاءحَتَّى قَبَضَ اللَّهُ نَبِيَّهُ مَشْكُورًا سَعْيَةً مَرْفُوعًا مَنْزِلَةً وَ ثَبَتَ عَلَيْنَا بَعْدَهُ الخ

( تاریخ احمدی: صفحہ 218)

ترجمہ: تاریخ ابوالفداء ابن شحنہ میں ہے کہ اروی بن الحارث بن عبد المطلب بہت بڑھیا تھیں تو ایک مرتبہ معاویہ کے ہاں گئیں معاویہ نے دیکھ کر کہا خوش آمدید خالہ جان! آپ کیسی ہیں کہنے لگیں، بھانجے اللہ کی خیر ہے تو نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کی اور اپنے بھتیجے کے ساتھ برا سلوک کیا اپنے لیے وہ لقب اختیار کیا جس کا تو مستحق نہ تھا ہم اس دین میں تمام لوگوں سے زیادہ پریشان تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اپنے پاس بلا لیا اور تم لوگ ہم پر حاکم بن بیٹھے حالانکہ ہمارا مرتبہ تم سب میں ایسا تھا جیسا کہ بنی اسرائیل کا مرتبہ آل فرعون میں تھا اور حضورﷺ کے ساتھ علی کی وہ منزلت تھی جو موسیٰؑ کے ساتھ ہارونؑ کی تھی یہ سن کر عمرو بن العاص نے کہا بڑھیا! خاموش ہو جا تیری عقل جواب دے گئی اور بےہودہ گوئی پر اتر آئی ہے اروی نے جواباً کہا اے باغیہ کے بیٹے! تو مجھ سے گفتگو کی جرأت کر رہا ہے اپنی حقیقت تجھے یاد نہیں تیری ماں مکہ میں بدکارہ تھی اور معمولی معاوضہ پر اپنی عصمت لوٹاتی تھی چنانچہ تجھ پر پانچ مردوں نے اپنا بیٹا ہونے کا دعویٰ کیا بالآخر تیری ماں سے پوچھا گیا تو اس نے پانچ آدمیوں کے ساتھ تعلق کی تصدیق کی اس لیے ان میں سے جس کی شکل و صورت سے اس بچے کی شکل و صورت ملے۔ اسی کا سمجھو تو عاص بِن وائل کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے تم اس کے بیٹے قرار پائے اروی کی یہ باتیں سن کر معاویہ نے کہا پچھلی باتوں کا تذکرہ نہ کرو اللہ نے اُسے معاف کر دیا۔

(تاریخ احمدی: صفحہ 318 تا 319 مصنف خان بہادر نواب احمد حسین مطبوعه نیوگارڈن لاہور)

لمحہ فكريہ: تاریخ ابوالفداء کے چند اقتباسات ہم نے ذکر کیے انہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے بعض کی جس بےہودگی سے تصویر پیش کی ہے وہ ظاہر کرتی ہے کہ تاریخ ابو الفداء کا مصنف گستاخ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ہونے کی وجہ سے کٹر شیہ ہے ہم نے ان عبارات کا تفصیلی جواب تحفہ جعفریہ جلد چہارم میں لکھ دیا ہے اب آئیے دوسری طرف کہ شیعہ محققین اس کے مذاہب کے بارے میں کیا کہتے ہیں الذریعہ کی عبارت ملاحظہ ہو:

الذريعة: الملك المريد عماد الدين اسماعيل بن الافضل نور الدين على بن الملك المظفر محمود بن الملك المنصور محمد بن المظفر تقى الدين ابي الخطاب عمر بن شهنشاه الايوبي الملك العَالِمُ الْمُورِخُ الفلسفي الجغرافي مجالس العلماء وَمُرَتِّبِهُمُ وَصَاحِبُ (حماہ وَ مَلِكُهَا مُسْتَقِلا ولد سن 672 وَ مَاتَ بِحَماهُ سَن 632 وَلَہ تَقوِيم الْبُلْدَان الْمَطْبُوعِ كَمَا طَبَعَ تَارِيخَهُ الْمُرَتَبَ عَلَى أَرْبَعَةِ أَجزاء فِي مُجَلدَيْنِ مُكَرَّرًا وَهُوَ إِنْ عُدَّ مِنَ الشَّافِعِيهِ لكِن فِي مَوَاضِعَ مِن تَارِيخِهِ عِنْدَ ذِكْرِ امير المُؤْمِنين عليه السلام وذكر و الده ابي طَالِبٍ وَغَيْرِهما يَظْهرُ مِنْهُ آثار التشيع وَقَدْ مرفِي (جلد 2 صفحہ 340) 

آنه أَخْرَجَ فِي كِتَابِ إِمَامَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنين عليه السلام عَنْ تَارِيخ المويدِ هَذَا جُمْلَةٌ وَافِرَةٌ مِنْ مَنَاقِبهِ عَلَيْهِ السلام في الغزوات غَزْوَةُ فَرَاجِعُهُ (الذريعه: جلد سوم صفحہ 227)

ترجمہ:ملک حماد الدین سن 672 میں پیدا ہوا اور سال 732 میں مقام حماہ میں اس کا انتقال ہوا تقویم البلدان اس کی ایک تصنیف ہے اسے اگرچہ شافعی المسلک کہا گیا ہے لیکن اپنی تاریخ میں بہت سے مقامات پر اس نے جس انداز سے علی اور ان کے والد ابو طالب کا تذکرہ کیا اس سے اس کا شیعہ ہونا ظاہر ہوتا ہے اور امامت امیرالمؤمنین جو حسن بن نوع شیعی کی مشہور تصنیف ہے۔ اس نے تاریخ ابوالفداء سے ہی علی کے غزوات کے بارے میں مناقب لکھے ہیں۔

لمحہ فكريہ: ابو الفداء کے بارے میں خود اس کی تحریرات اور پھر محقق شیعہ علماء کی تعریفات اس کی تائید کرتی ہیں کہ یہ شخص شیعہ تھا اگر اس میں شیعیت نہ ہوتی تو صاحبِ الذریعہ اس کو ہرگز اپنی کتاب میں جگہ نہ دیتا جگہ دینے کے ساتھ ساتھ اس نے اس کے شیعہ ہونے کی دلیل بھی پیش کر دی ان تصریحات کے ہوتے ہوئے نجفی وغیرہ کا اسے سنی اور اس کی کتاب کو اہلِ سنت کی معتبر کتاب لکھنا کہاں تک درست ہو سکتا ہے ایسے علماء جو متنازعہ فیہ ہوں کچھ انہیں سنی کہیں اور کچھ انہیں شیعہ ایسے ہی لوگوں کی پہچان کے لیے تو الذریعہ تصنیف ہوئی تاکہ کم ازکم وہ اپنوں کی نشاندہی تو کر دیں کیونکہ وہی جانتے ہیں کہ کون سا ہمارا تھا جو تقیہ کر کے سنی بنا رہا وہ اس کے مرنے کے بعد اس کی تقیہ والی چادر ہٹا کر رونمائی کر دیتے ہیں لیکن ہم اہلِ سنت کے ہاں تقیہ منافقت کا نام ہے اس لیے اس کی ہرگز اجازت نہیں اس لیے اگر کسی نے اپنے آپ کو سنی کہلایا تو ظاہر اسے سنی ہی کہنا پڑا لیکن جب اس کے ہم خیالوں نے لکھا کہ وہ تقیہ کے طور پر سنی تھا تو ہمارے خلاف اس کی عبارات کیونکر حجت تسلیم ہوں گی اس لیے تاریخ ابوالفداء کی کوئی عبارت ہمارے خلاف حجت ہرگز ہرگز نہیں بن سکتی۔

فاعتبروا يا اولى الابصار


صفحہ 2 از 2