خصائص نسائی مصنفہ احمد ابن شعیب النسائی - ردِ رافضیت | دفاع…

خصائص نسائی مصنفہ احمد ابن شعیب النسائی

  محقق اسلام حضرت مولانا علی صاحب

صفحہ 2 از 3

إِنَّ أبا عبد الرحمٰن فارَقَ مِصْرَ فِي اخر عُمْرِه وَخَرَجَ إِلى دَمِشْقَ فَسُئِلَ عَنْ مَعَاوِيَةؓ فما رَوَى مِنْ فَضَائِلِهِ فَقَالَ أَمَا يَرْضَى معاوِيَةؓ أَنْ يَخْرُجَ رَأَسا بِرَاسٍ حَتَّى يَفْضُلَ وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى مَا أُعْرِفُ لَهُ فَضِيلَةً إِلَّا لَا أَشبَعَ اللهُ بَطَنَكَ 

(الكنى والالقاب: جلد سوم صفحہ 248 تنقيح المقال جلد اول صفحہ 72)

ترجمہ: ابو عبدالرحمٰن نسائی نے آخری عمر میں مصر کو چھوڑ کر دمشق میں سکونت اختیار کی ان سے سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کے فضائل کے بارے میں پوچھا گیا تو کہنے لگے کیا سیدنا امیر معاویہؓ اس پر راضی نہیں کہ وہ سر کے بدلے سر سے نکلیں، یہاں تک کہ وہ فضیلت پائیں ایک اور روایت میں ہے کہ امام نسائی نے کہا میں ان میں کوئی فضیلت نہیں جانتا صرف یہ جانتا ہوں پر حضورﷺ نے ان کے بارے میں یہ فرمایا تھا اللہ تعالیٰ تیرا (سیدنا امیر معاویہ) پیٹ نہ بھرے امام نسائی میں تشیع پایا جاتا تھا۔

الذريعة:

الْخَصَائِصُ فِي فَضَائِلِ عَلَى (ع ) وَقَدْ يُقَالَ لَهُ الخَصَائِصُ العَلَوِيَّةُ لِلْإِمَامِ النِّسَانِي أَبِي عبد الرحمٰن احمد بن على بن العيب بن سنان بن بحر الخراساني المولود 215 والمتوفى بمكة 303 بَعْدَ إِخْرَاجِهِ مِنَ الْمُسَجِدِ الْأُمُوي بشام بِسَبَبٍ تَصْنِيف هَذَا الْكِتَابِ فَتَمرَضَ عَلَى أَثَرِ الْضَرَبِ والرفس والدفع في خُصْبَعِهِ فَطَلَبَ حَمْلَهُ إِلَى مَكَّةَ وَهُوَ عَلِيلٌ فَتُوفي بِهَا فِي شَعْبَانَ تِلْكَ السنَّةِ قَالَ ابن خلكان إنَّهُ كَانَ يَتَشيع 

(الذريعة الى تصانيف الشيعة: جلد 7 صفحہ 163 مطبوعہ بیروت طبع جدید)

 ترجمہ: سیدنا علی المرتضیٰؓ کے فضائل میں کتاب الخصائص امام نسائی نے لکھی جسے خصائص العلویہ بھی کہتے ہیں امام نسائی 215 میں پیدا ہوئے اور مکہ میں 303 میں فوت ہوئے اس کتاب کی تصنیف کی وجہ سے انہیں شام میں واقعہ "مسجد اموی" سے نکالا گیا اور لوگوں نے ان کو دھکے دیے اور سینے اور خصیتین پر ضربات لگائیں جن کی وجہ سے بیمار ہو گئے اور مکہ پہنچانے کے لیے لوگوں کو کہا بیماری کی حالت میں مکہ پہنچے اور اسی سال شعبان کے مہینہ میں انتقال کر گئے ابنِ خلکان نے کہا کہ ان میں تشیع تھا۔

لمحہ فکریہ:

اِمام نسائی کے بارے میں کتب شیعہ کے حوالہ جات سے یہ بات سامنے آ گئی کہ ان میں تشیع پایا جاتا تھا اگرچہ ہم ان کو شیعہ نہیں کہتے لیکن اتنا ضرور ہے کہ ان کی غیر محتاط روش اور غلو کی وجہ سے جن عبارات و روایات پر ان پر تشیع کا پایا جانا ثابت کیا جاتا ہے۔ وہ روایات ہم اہلِ سنت پر ہرگز حجت نہیں بن سکتیں۔ اِمام نسائی میں تشیع کا پایا جانا اب جبکہ کتب شیعہ سے حوالہ جات کے ذریعہ ثابت کر چکے اب اہلِ سنت کی کتب سے بھی اس کا ملاحظہ ہو جائے۔

اہلِ سنت کی کتب سے اِمام نسائی کا تعارف

تذكرة الحفاظ:

ثمَّ إِنَّهُ صَنَّفَ بَعْدَ ذالكَ فَضَائِلَ الصَّحَابَةِؓ فَقِيلَ لَهُ وَأَنَا أَسْمَعُ أَلَّا تَخْرُجَ فَضَائِلَ مَعَاوِيهؓ فَقَالَ أَيُّ شَى أَخْرُجُ حَدِيثَ اللهُمَّ لَا تَشبَعُ بَطْنَهُ فَسَكَتَ السَّائِلُ

( تذكرة الحفاظ: جلد دوم صفحہ 699 تذكرة النسائی 719 مطبوعہ بيروت طبع جدید) 

ترجمہ: فضائل سیدنا علی المرتضیٰؓ پر کتاب تصنیف کرنے کے بعد امام نسائی نے ایک کتاب فضائل صحابہؓ پر لکھی ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ آپ فضائل سیدنا معاویہؓ کے بارے میں کوئی حدیث بیان نہیں کرتے؟ کہنے لگے کون سی حدیث لکھوں کہ تم نے حضورﷺ کی سیدنا معاویہؓ کے بارے میں یہ حدیث نہیں سنی اے اللہ اس کے پیٹ کو سیر نہ کر یہ سن کر سائل خاموش ہو گیا۔ 

تهذيب التهذيب:

قَالَ أَبُو بَكْرِ المَامُونِي سَأَلْتُهُ عَنْ تَصْنِيفِهِ كِتَابِ الْخَصَائِصِ فَقَالَ دَخَلْتُ دمشق والمنحرف بِهَا عَنْ عَلِيؓ كَثِيرٌ وَصَنَّفَ كِتَابَ الْخَصَائِصِ رِجَاءَ أَنْ يَهْدِيَهُمُ اللهُ ثُمَّ صَنْفَ بَعْدَ ذَالِكَ كِتَابَ فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ وَقَرَاهَا عَلَى النَّاسِ وَقِيلَ لَهُ وَأَنَا حَاضِر الَّا تَخْرُجَ فَضَائِلَ مُعَاوِيَةؓ فَقَالَ أَيُّ شَيْ اخْرُجُ اللَّهُمَّ لَا تَشْبَعُ بَطْنَهُ سكَتَ وَسَكَتَ السَّائِلُ 

(تهذيب التهذيب لابن حجر العسقلانی: جلد اول صفحہ 38 مطبوعہ بیروت طبع جدید)

ترجمہ: ابوبکر المامونی کہتے ہیں کہ میں نے امام نسائی سے ان کی تصنیف کتاب الخصائص کے بارے میں پوچھا کہنے لگے کے میں جب دمشق پہنچا تو وہاں مجھے بہت سے لوگ سیدنا علی المرتضیٰؓ سے منحرف ملے میں نے یہ کتاب اس امید پر لکھی کہ شائد اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت عطا فرما دے پھر اس کے بعد امام نسائی نے فضائل صحابہؓ پر ایک کتاب لکھی اور وہ لوگوں کو سنائی گئی پوچھا گیا اور میں اس وقت موجود تھا کہ آپ سیدنا امیر معاویہؓ کے فضائل کے بارے میں کوئی حدیث بیان نہیں کرتے کہنے لگے اس ارشاد نبویﷺ کے بعد کونسی روایت ان کے بارے میں بیان کروں حضورﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا اللہ تیرے پیٹ کو سیر نہ کرے اس پر نسائی بھی خاموش ہو گیا اور سائل بھی خاموش ہو گیا۔

وفيات الاعيان:

قالَ مُحَمَّد ابن اسحاق الاصبهانی سمعت مَشَائِخَنَا بِمِصْرَ يَقُولُونَ إِنَّ أَبَا عَبدِ الرحمن فَارَقَ مِصْر في اخِرِ عُمْرِهِ وَخَرَجَ إِلى دمشق فَسُئِلَ عَنْ مُعَاوِيَةؓ وَمَا رُوِيَ مِنْ فَضَائِلِهِ فَقَالَ أَمَا يَرْضَى مُعَاوِيَةؓ أَنْ يُخْرَجَ رَأَسا بِرَأُسٍ حَتَّى يُفَضَّلَ وَفِي رِوَايَةٍ أَخْرى مَا أَعْرِفُ لَهُ فَضِيلَةً إِلَّا (لا اتَّبَعَ اللهُ بَطَنَكَ ) كانَ يَتَشَتع فَمَا زَالوا يَدُفَعُونَ فِي خضره حتى أخْرَجُوهُ مِنَ الْمَسْجِدِ وَفِي رِوَايَة أخرى يَدفعُونَ فِي خَصْيَتِهِ وَدَاسُّوهُ ثُمَّ حمل إلى الرَّمَلةِ فَمَاتَ بِهَا 

(وفيات الاعيان لابنِ خلكان: جلد اول صفحہ 77 ما ذكر ابو عبدالرحمٰن نسائی مطبوعہ بیروت طبع جدید)

صفحہ 2 از 3