خصائص نسائی مصنفہ احمد ابن شعیب النسائی - ردِ رافضیت | دفاع…

خصائص نسائی مصنفہ احمد ابن شعیب النسائی

  محقق اسلام حضرت مولانا علی صاحب

صفحہ 3 از 3

ترجمہ: محمد بن اسحاق اصبہانی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے مشائخ سے مصر میں سنا وہ کہتے ہیں کہ امام نسائی نے آخری عمر میں مصر سے دمشق چلے گئے وہاں ان سے پوچھا گیا کہ سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کے فضائل کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں تو کہنے لگے کیا سیدنا معاویہؓ اس پر راضی نہیں کہ سر بہ سر نکلیں۔ حتیٰ کہ فضیلت لے جائیں ایک اور روایت میں ہے کہ مجھے ان کی فضیلت کے بارے میں اس کے سوا کوئی حدیث نہیں آتی اللہ تعالیٰ اس کے پیٹ کو سیر نہ کرے اور ان میں تشیع تھا لوگ متواتر ان کو ستاتے رہے اور ان کے خصیتین میں مارا بالآخر مسجد سے نکال دیا ایک اور روایت میں ہے کہ ان کے خصیتین کو لوگوں نے بہت تکلیف دی اور انہیں مروڑتے تھے پھر انہیں وہاں سے رملہ لایا گیا اور یہیں ان کا انتقال ہوا مذکورہ روایات جو کتب اہلِ سنت سے پیش کی گئی ہیں ان کے مطابق بھی امام نسائی میں تشیع کا وجود ملتا ہے ہم تسلیم کرتے ہیں کہ امام موصوف کا شمار اہلِ سنت کے ان علماء میں ہوتا ہے جو بگانہ روزگار تھے نہایت متقی اور دیندار تھے لیکن ان کی جن عبارات و آیات پر علماء نے تشیع کا الزام لگایا وہ بہرحال ہمارے خلاف حجت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔

قابل توجہ:

 اب تک جن کتب کا ہم نے تذکرہ کیا ان میں سے تین کے مصنف ابنِ حجر مکی محمد بن جریر طبری اور اِمام نسائی اہلِ سنت کے مقتدر علماء میں سے ہیں اور انکی تصانیف بھی اہلِ سنت کی تصانیف شمار ہوتی ہیں لیکن ان تصانیف میں وہ روایات و واقعات جو ان کے تشیع ہونے پر دلالت کرتی ہیں وہ ہرگز ہم اہلِ سنت پر حجت نہیں ہوسکتیں ان کے علاوہ عقد الفرید اور معارج النبوۃ ویسے ہی اس درجہ کی نہیں ان پر اعتبار کیا جا سکے اور یہ مختصر طور پر ان کتب کا تذکرہ تھا جو اہلِ سنت کے علماء نے لکھیں ان کے بغیر جن کتب کا ہم نے تذکرہ کیا وہ تمام کی تمام اہلِ تشیع کے علماء کی ہیں جنہیں آئے دن کچھ بیوقوف قسم کے شیعہ مولوی"اہلِ سنت کی معتبر کتاب" کے طور پر اپنی کتابوں میں ذکر کرتے ہیں اور پھر ان کی عبارات سے اپنے مذہب کی تائید چاہتے ہیں حالانکہ وہ دراصل مذہب شیعہ کی ترویج واشاعت کے لیے ہی لکھی گئیں۔

ہم سے جس قدر ہو سکا ان کتب کے بارے میں حقائق سے پردہ اٹھایا ہے ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری یہ کوشش علماء اہلِ سنت کے لیے باعث نفع ہو گی اور ہم قارئین کرام سے خلوص دل کے ساتھ اس امر کے متمنی ہیں کہ وہ ہماری ان معروضات سے جب مستفید ہوں تو اپنی مخصوص دعاؤں میں ضرور یاد فرمائیں اور اللہ کریم سے بتوسل نبی کریمﷺ بخشش کی دعا فرمائیں۔

 واخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين الخ


صفحہ 3 از 3