عوام کو معاشی خوشحالی فراہم کرنے کی جدوجہد
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر فرمایا: ’’اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے صحیح سالم باقی رکھا تو میں عراق کی بیواؤں کو اس حال میں چھوڑوں گا کہ وہ میرے بعد کسی کی محتاج نہ رہیں گی۔‘‘ اس موضوع کے تحت ہمیں آپؓ کا وہ مؤقف نہیں بھولنا چاہیے جو آپؓ نے عام الرمادہ میں قحط کے موقع پر اختیار کیا تھا کہ جب آپؓ نے لوگوں کی بھوک مٹانے اور بحران سے نمٹنے کے لیے ملک کے تمام تر ممکنہ وسائل و ذرائع کو استعمال کر ڈالا تھا۔ امام بیہقیؒ نے اپنی سنن میں روایت کیا ہے کہ حضرت عمرؓ نے عام الرمادہ کے موقع پر متاثرین کے درمیان سب کچھ خرچ کر دیا اور جب بارش ہو گئی اور لوگ اپنے گھروں کو واپس ہونے لگے تو حضرت عمرؓ گھوڑے پر سوار ہو کر حالات کا جائزہ لینے باہر نکلے، آپؓ نے دیکھا کہ لوگ اپنے بال بچوں کے ساتھ اب کوچ کرنے لگے ہیں، اس وقت آپؓ کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔ بنو محارب بن خصفہ کے ایک آدمی نے آپ کی تعریف کرتے ہوئے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ بلا آپ سے ٹل گئی، آپ آزاد خاتون کے سپوت ہیں۔ آپ نے اس سے فرمایا: تیرا ستیاناس ہو! اس تعریف کا میں اس وقت حقدار ہوتا جب اپنے مال سے یا اپنے باپ خطاب کے مال سے خرچ کیا ہوتا، میں نے تو اللہ کا مال خرچ کیا ہے۔
(سنن البیہقی: جلد 6 صفحہ 357، موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 135) آپ نے ایک موقع پر فرمایا: اے لوگو! تمہارا مجھ پر یہ حق ہے کہ اگر تم سے تمہارا مال میرے ہاتھوں میں آ جائے تو وہ اللہ کے راستہ ہی میں خرچ کروں۔ نیز تمہارا مجھ پر یہ بھی حق ہے کہ اگر اللہ چاہے اور توفیق دے تو تمہارے عطیات اور وظائف میں اضافہ کر دوں۔
(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 137) آپؓ کے عہد میں نہایت منظم شکل میں عطیات و وظائف کی تقسیم شروع ہو گئی تھی اور اس سے استفادہ کرنے والے صرف شہر ہی کے لوگ نہ تھے بلکہ اس کا دائرہ بادیہ نشین قبائل تک وسیع تھا۔ آپؓ مدینہ سے نکل کر ان بادیہ نشین قبائل تک جاتے اور بذات خود ان میں ان کے عطیات تقسیم کرتے۔ اپنے بعض گورنروں کو آپؓ نے تحریری حکم بھیجا کہ لوگوں کو ان کے عطیات اور وظائف دیا کرو، جو مال اللہ نے ان کو دیا ہے وہ عمر اور ان کے خاندان کا نہیں ہے، میں صرف اس کا تقسیم کرنے والا ہوں۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 77) آپؓ نے لوگوں میں صرف عطیات و وظائف کی تقسیم پر اکتفاء نہ کیا بلکہ ان کی خوراک کی بھی کفالت کی، چنانچہ ایک مرتبہ آپؓ شام تشریف لے گئے تو وہاں حضرت بلال بن رباحؓ آپؓ کے سامنے کھڑے ہو گئے اور کہا: اے امیر المؤمنین! شام میں آپؓ کے فوجی کمانڈروں کی خوراک صرف چڑیوں کا گوشت اور عمدہ قسم کی روٹی ہے اور عام مسلمان اسے دیکھ بھی نہیں پاتے۔ آپ نے ان کمانڈروں سے پوچھا کہ بلال کیا کہہ رہے ہیں؟ یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما نے آپؓ سے کہا: اے امیر المؤمنین! ہم حجاز میں اپنے اہل خانہ کو جو کھلاتے تھے اس کے مقابلے میں یہ چیزیں جن کا بلال نے ذکر کیا ہے، یہاں سستی قیمت میں ہمیں دستیاب ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ نے فرمایا: نہیں ہرگز نہیں، اللہ کی قسم میں یہاں سے اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک کہ تم مجھے ضمانت نہ دے دو کہ ہر مہینہ مسلمانوں کی پوری خوراک اور وظائف ان میں تقسیم کر دو گے، پھر آپؓ نے فرمایا: دیکھو کہ ایک آدمی کو کتنی خوراک کافی ہو گی؟ انہوں نے کہا: ہر مہینہ کے شروع میں دو جریب کے مقدار غلہ اور اسی کے مناسب تیل اور سرکہ۔ چنانچہ سیدنا عمرؓ نے مذکورہ مقدار تقسیم کرنے کی ضمانت لی اور اس کے بعد آپؓ نے عام مسلمانوں کو خطاب کیا: ’’یہ ماہانہ خوراک تمہارے عطیات کے علاوہ ہے، میں نے تمہارے لیے ان حکام پر جو فرض کیا ہے اگر یہ امراء اسے تمہیں پورا پورا ہر مہینے دیتے ہیں تو بہت اچھی بات ہے اور اگر ایسا نہیں کرتے تو مجھے خبر دو تاکہ انہیں معزول کر دوں اور ان کی جگہ دوسروں کو حاکم بنا دوں۔‘‘
(فتوح الشام: الازدی: صفحہ 257، الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 78 ) آپؓ اس بات کے لیے کوشاں رہتے تھے کہ شہروں میں خوراک کی کمی نہ ہو، آپؓ بازاروں کی جانچ و نگرانی کرتے رہتے تھے اور ذخیرہ اندوزی سے منع کرتے تھے، بازاروں کی نگرانی کرنے میں آپؓ کے گورنران بھی آپؓ ہی کے نقش قدم پر چلتے تھے۔ آپؓ تاجروں کو حکم دیتے تھے کہ عالمی پیمانے پر تجارت کریں اور مسلمانوں کے لیے مال درآمد کریں اور ان کی منڈی کو مال و سامان سے بھر دیں۔
(تاریخ المدینۃ: جلد 2 صفحہ 749 ) صرف اتنا ہی نہیں کہ آپؓ اور آپ کے گورنروں نے عوام کے لیے خوراک کے انتظام اور بازاروں کی نگرانی پر بس کیا ہو بلکہ رہائش گاہوں کا انتظام اور مستحقین میں ان کی تقسیم بھی گورنران کی ذمہ داری کا ایک حصہ ہوتا تھا۔
چنانچہ جب شہروں کی خاکہ بندی اور آبادکاری ہوئی تو کوفہ، بصرہ
(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 79) اور فسطاط میں وہاں کی زمین کو ان کے باشندوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ ان تمام ذمہ داریوں کے ساتھ امرائے ریاست مفتوحہ شہروں مثلاً حمص، دمشق اور اسکندریہ کے مکانات کی تقسیم کی بھی نگرانی کرتے تھے۔
(فتوح البلدان: البلاذری: صفحہ 143، 224)