Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام
زبان تبدیل کریں:

اسرائیل کے معاون مسلمانوں کے ساتھ کاروبار کرنا


اسرائیل کے معاون مسلمانوں کے ساتھ کاروبار کرنا

عام حالات میں یہود و نصاریٰ اور دیگر غیر مسلموں کے ساتھ معاملات کرنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ خلافِ جنگ میں مشغول نہ ہوں۔

اور اگر یہود و نصاریٰ، کفار و مشرکین مسلمانوں کے جانی دشمن بنے ہوئے ہوں، برسرِ پیکار ہوں، مسلمانوں پر ظلم و ستم کا کوئی موقع نہ چھوڑتے ہوں، رات دن، صبح و شام مسلمانوں کا خون بہانا ان کی طبعیت ثانیہ (عادت) بن چکی ہو، جیسا کہ اس زمانے میں اسرائیل، روسی، اور امریکی فوج کا کردار ہے، ایسے ظالموں کے ساتھ یا ان ظالموں کے معاون اداروں کے ساتھ تعاون کے معاملات کرنا قرآن و حدیث اور فقہاء کرامؒ کی عبارات کی روشنی میں جائز اور درست نہیں ہے۔ کیونکہ مسلمانوں کے خلاف ظلم کرنے والے کے ساتھ کسی قسم کی معاونت کرنا بہت بڑا گناہ ہے اور ایسے لوگوں کے ساتھ کاروبار کرنا گناہ ہو گا، اس سے اللہ تعالیٰ جل شانہ اور رسول اکرمﷺ ناراض ہوں گے۔

(تجارت کے مساںٔل کا انساںٔیکلوپیڈیا جلد 1، صفحہ 271)