مقتل الحسين الخوارزمي مصنفه ابوالمؤید محمد بن احمد - ردِ…

مقتل الحسين الخوارزمي مصنفه ابوالمؤید محمد بن احمد

  محمد علی

صفحہ 1 از 6

مقتل الحسين الخوارزمي مصنفه ابوالمؤید محمد بن احمد:

یہ کتاب ابو المؤيد الموفق الدین محمد بن احمد کی تصنیف ہے اس کتاب کو اہلِ سنت کی"معتبر کتاب" کے عنوان سے اہلِ تشیع پیش کرتے ہیں اور پھر اس کے مندرجات سے اپنے مذہب و مسلک کی تائید کرتے ہیں غلام حسین نجفی نے یہی "قول مقبول" میں متعدد مقامات پر اس کے حوالہ جات پیش کیے حالانکہ اس کا مصنف اہلِ سنت کا فرد نہیں۔ لہٰذا اس کی تصنیف کردہ کتاب اہلِ سنت کی معتبر کتاب کیسے ہو سکتی ہے؟ ہم زبانی جمع خرچ نہیں کرتے بلکہ اِن شاءاللہ تحقیق سے ثابت کریں گے کہ علامہ خوارزمی نے اہلِ سنت نہیں مقتل الحسین کی صرف دو عبارتیں پیش خدمت ہیں، جو غلام حسین نجفی کی تصنیف "قول و مقبول فی اثبات وحدة بنت رسولﷺ" میں اس نے اپنے مسلک کی تائید میں لکھی ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے پوری زمین سیدہ فاطمہؓ کے حق مہر میں دے دی:

قول مقبول:

(مقتل الحسین الخوارزی کی عبارت ملاحظہ ہو)

 عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَا عَلِيُّؓ إِنَّ اللَّهَ زَوَجَكَ فَاطِمَةؓ وجعَلَ صُدَاقَهَا الْأَرْضَ فَمَنْ مشَى عَلَيْهَا مُبْغِضًا لَهَا مَشى حَرَامًا 

ترجمہ: سیدنا ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ نبی پاکﷺ نے سیدنا علیؓ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تیری شادی میری بیٹی سیدہ فاطمہؓ سے کی ہے اور میری بچی کا حق مہر خدا نے تمام زمین کو قرار دیا جو آپ سے بغض رکھتے ہوئے زمین پر چلے گا تو اس کے لیے زمین پر چلنا حرام ہے۔

(قول مقبول: صفحہ 95) 

نوٹ: مذکورہ حوالہ سے شیعہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ کا زمین پر چلنا حرام تھا کیونکہ ان دونوں نے باغ فدک کے معاملہ میں سیدنا فاطمہؓ کو ناراض کیا تھا اور ان کی ناراضگی کے ہوتے ہوئے ان کے حق مہر میں دی گئی زمین پر ان دونوں حضرات کا چلنا ناجائز اور حرام ثابت ہوا۔

قول مقبول: تمام عبارتوں کا ملحض ترجمہ 

ترجمہ: سیدہ ام سلمیؓ روایت کرتی ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ سیدنا علیؓ کو پیدا نہ کرتا تو میری بیٹی سیدہ فاطمہؓ کا کوئی کفو اور ہمسر نہ تھا۔

  1. (اہلِ سنت کی معتبر کتاب مقتل الحسين للخوارزمی صفحہ 66) 
  2. (اہلِ سنت کی معتبر کتاب مودة القربی صفحہ 46) 
  3. ( اہلِ سنت کی معتبر کتاب ينابيع المؤدة صفحہ177)

لمحہ فكريہ:"مقتل الحسین" کی دو عبارتیں جو پیش کی گئی آپ ان سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ کسی سنی کا نظریہ بیان نہیں کیا گیا بلکہ اہلِ تشیع کی طرفداری برتی گئی ہم غلام حسین نجفی کو ان روایات کے ضمن میں صرف اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ مذکورہ روایات سند صحیح کے ساتھ اگرچہ خبر واحد ہی کے درجہ میں ہو دکھا دی جائیں تو منہ مانگا انعام ملے گا بہر حال یہ من گھڑت اور موضوع روایات ہیں اور ان کا عقل و نقل کے خلاف ہونا بھی اظہر من الشمس ہے دیکھیے اگر تمام زمین سیدہ فاطمہؓ خاتون جنت کا حق مہر تھی تو عورت اپنے حق مہر کی بِلا شرکت غیر کے مکمل مالکہ ہوتی ہے اس کی اجازت کے بغیر تصرف حرام ہوتا ہے اگر ایسا تھا تو پھر پوری زمین کی بجائے صرف باغ فدک کا مطالبہ کرنا کیا معنیٰ رکھتا ہے اور اگر سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ نے ان کی زمین کو ناجائز استعمال کیا تو کیا کوئی شیعہ اپنے زیر تصرف زمین کی کوئی رسید کوئی ثبوت اس امر پر پیش کر سکتا ہے کہ اسے سیدہ فاطمہؓ نے ایسا کرنے کی اجازت عطا کی ہے اگر بِلا اجازت سبھی استعمال کر رہے ہیں اس پر نمازیں ادا کی جاتی ہیں اس پر امام باڑے تعمیر کیے جاتے ہیں اس پر مجالس و محافل منعقد کی جاتی ہیں ان سب کے جواز کا حکم کہاں سے ملے گا؟ خلاصہ کلام یہ کہ خوارزمی نے ایسی بہت سی روایات گھڑیں جیسا کہ اہلِ تشیع کا پسندیدہ مشغلہ ہے اس کے شیعہ ہونے کی خود شیعہ محقیقین گواہی دیتے ہیں پھر بھی اس کے اہلِ سنت ہونے کا چرچا کیا جائے تو کس قدر حقائق سے چشم پوشی ہوگی ثبوت ملاحظہ ہو۔

 الذريعة: واورده القمي في الكنى والالقاب، بعنوان الخطب

خوارزم ونقل ما في آخر مناقبه ه من مديح على (ع) بقوله

إِنَّ النَّبِيﷺ مَدِينَةً لِعُلُومِہ 

وَعَلى الهَادِي لَهَا كَالْبَابِ

لَوْلاً على مَا اهْتَدَى في مشكل 

عُمر الاصَابَةَ وَالْهُدى لصواب

بالجملة لا شبھةَ فِي أَنَّهُ يُفَضِلُ عَلِيًّا عَلَى غَيرہ مِنَ الصَّحَابَةِ وَعَدَهُ في رِسَالَةِ مَشَائِحُ شِيعَة منهم

 (الذريعة على تصانيف الشيعه: جلد 22 صفحہ 316 م ن الف)

 ترجمہ: القمی نے اپنی کتاب "الکنی و الالقاب" میں اسے اخطب خوارزم کے عنوان سے ذکر کیا اور اسکے مناقب کے اخیر میں بیان کیا کہ علی علیہ السلام کے بارے میں اس کے تعریفی اشعار یہ ہیں۔

بے شک نبی کریمﷺ علوم کے شہر میں علی ہادی اس کے دروازہ کی مانند ہیں۔ 

اگر علی نہ ہوتے تو عمر مشکل میں نہ صواب پاتے اور نہ راہ ملتا۔

مختصر یہ کہ اس بارے میں کوئی شبہ نہیں کہ خوارزمی علی کو تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر فضیلت دیتا ہے۔ خوارزمی اور علامہ القمی نے اپنے رسالہ مشائخ شیعہ میں اسے شیعہ مشائخ میں سے شمار کیا ہے۔

یہ تھی حقیقت کے خوارزمی سنی نہیں بلکہ شیعہ ہے اس کی ایک کتاب "مناقب اہلِ بیت" کے بہت سے حوالہ جات پیش کر کے کم علم لوگوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے اہلِ سنت کے مشہور عالم نے یہ لکھا وہ لکھا حالانکہ جب خوارزمی کو قمی ایسا شخص مشائخ شیعہ میں سے لکھ رہا ہے تو پھر اس کا سنی ہونا اور اس کی کتابوں کا اہلِ سنت کی معتبر کتاب میں ہونا کس قدر بعید از حقیقت ہے مذکورہ دو حوالہ جات کو غلام حسین نجفی کی کتاب سے پیش کیے گئے تاکہ ان کی روشنی میں اس کی حقیقت سے بخوبی آگاہ ہو جائیں کہ خوارزمی کون ہے اور اس کی عبارات کسی مسلک کی نمائندگی کرتی ہیں۔ درج ذیل ملاحظہ فرمائیں:

خوارزمی اپنی عبارات کے آئینے میں: اللہ تعالیٰ نے اپنے نام اعلیٰ سے شیر خدا کے نام علی کو مشتق کیا اور علی کی ولایت کو اہلِ آسمان اور اہلِ زمین پر پیش کیا جس نے تسلیم کیا وہ مومن اور جس نے انکار کیا وہ کافر ہوا:

صفحہ 1 از 6