مقتل الحسين الخوارزمي مصنفه ابوالمؤید محمد بن احمد - ردِ…

مقتل الحسين الخوارزمي مصنفه ابوالمؤید محمد بن احمد

  محمد علی

صفحہ 2 از 6

عبارت اول:
مقتل الحسين:
 وذكر ابنِ شاذ ان هذا حدثنا احمد بِن محمد عبد الله الحافظ حدثني على بِن سنان الموصلى عن احمد بن محمد بن صالح عن سلمان بن محمد عن زياد بن مسلم عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر عن سلامة عن أبي سلمى راعي ابل رسول اللهﷺ قال سمعت رسول اللهﷺ يقول ليلةَ أُسْرِيَ بی إِلَى السَّمَاءِ قَالَ لِي الْجَلِيلُ جَلَّ وَعَلَا "امَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ من ربه" قلت وَالْمُؤْمِنُونَ قَالَ صَدَقْتَ يَا مُحَمد مَنْ خَلَفتَ فِي أُمَّتِكَ قُلْتُ خَيْرَهَا قَالَ عَلى بْنَ أَبِي طَالِبِ قُلْتُ نَعم يَا رَبِّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي اطَّلَعْتُ إِلَى الْأَرْضِ اطلاعَةً فَاخْتَرْتُكَ مِنْهَا فَشَقَقْتُ لَكَ اسْمَا مِنْ أَسْمَانِي فَلَا أَذْكَرُ فِي مَوضِع الَّا ذُكِرْتَ مَعِي فَانَا الْمَحْمُودُ وَأَنْتَ مُحَمَّدُ ثُمَّ اطَّلَعْتُ الثَّانِيَةَ فَاخْتَرْتُ عَلِيًّا وَشَقَقْتُ لَهُ اسْمَا مِنْ أَسْمَائی فَأَنَا الْأعْلَى وَهُوَ عَلى يَا مُحَمَّدُ إِنِّي خَلَقْتُكَ وَخَلَقْتُ عَلِيًّا وَفَاطِمَة وَالْحَسَن وَ الحسين والائمة مِن ولْدِهِ مِنْ سَنَخِ نُورٍ مِنْ نُورِى وَعَرَضْتُ وَلَا يَتِكُمْ عَلَى أَهْلِ السَّمَوَاتِ وَأَهْلِ الْأَرْضِ فَمَنْ قَبْلَهَا كَانَ عِنْدِي مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ جَعَدَهَا كَانَ عِنْدِي مِنَ الْكَافِرِينَ يَا مُحَمَّدُ لَوْ أَن عَبْدًا مَّنْ عِبَادِي عَبَدَني حَتَّى يَنْقَطِعَ أو يصير كالشنِ البَالِي ثم اتانی جَاحِدَا لوَلَايَتِكُمْ مَا غَفَرْتُ لَهُ حَتَّى يُقرِّبو لَايَتِكُمُ يَا مُحَمَّدٌ اتُحِبُّ أَنْ تَرَاهُمْ قُلْتُ نَعَمُ يَا رَبِّ فَقَالَ لِي الْتَفِتْ عَنْ يَمِينِ الْعَرْشِ فَالْتَفَتْ فَإِذَا أَنَا بِعَلی وَفَاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ وَعَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ و محمد بن على وجعفر بن محمد وموسىٰ بن جعفر و على بن موسى و محمد ابن على وعلى بن محمد والحسن بن على والمهدى

 (مقتل الحسين: جلد اول صفحہ 95 96 في فضائل الحسن والحسين مطبوعہ قم ایران)

ترجمہ: حضورﷺ کے اونٹوں کا چرواہا ابو سلمہ بیان کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا جب شبِ معراج مجھے آسمانوں کی طرف لے جایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا "امن الرسول بما انزل اليه من ربہ" میں نے عرض کیا والمؤمنون فرمایا تونے سچ کہا یا محمد! تو نے اپنی امت میں کسے خلیفہ چھوڑا ہے عرض کی امت کے بہترین آدمی کو پوچھا کون؟ علی بن ابی طالب کو عرض کیا ہاں پھر فرمایا اے محمد! میں زمین کی طرف متوجہ ہوا اور اہلِ زمین میں سے تمہیں میں نے منتخب کیا اور پھر تمہارے لیے اپنے ناموں میں سے ایک نام تجویز کیا لہٰذا جہاں میرا ذکر ہوگا وہاں تیرا بھی ذکر ہوگا میں محمود اور تو محمد ہے پھر دوسری مرتبہ میں متوجہ ہوا تو علی بن ابی طالب کو منتخب کر کے انہیں بھی اپنے ناموں میں سے ایک نام دیا میں اعلیٰ اور وہ علی ہے اے محمد! میں نے تمہیں، علی، فاطمہ، حسن و حسین اور ان کی اولاد میں سے تمام ائمہ کو اپنے خالص نور سے پیدا کیا اور تمہاری ولایت تمام آسمانوں اور زمین والوں پر پیش کی جس نے اسے قبول کیا وہ میرے نزدیک مومن ہے اور جس نے انکار کیا وہ کافر ہے۔ اے محمد! اگر میرے بندوں میں سے کوئی بندہ میری تا دم آخر عبادت کرتا ہے یا عبادت کرتے کرتے وہ مشکیزہ کی طرح خشک ہو جائے پھر میرے پاس تمہاری ولایت کا منکر ہو کر آئے میں اس کی اس وقت تک بخشش نہیں کروں گا جب تک وہ تمہاری ولایت کا اقرار نہ کر لے۔ اے محمد! کیا تم انہیں دیکھنا چاہتے ہو عرض کی ہاں اے اللہ! فرمایا تو پھر عرش کی دائیں جانب نظر کرو میں نے دیکھا تو وہاں علی، فاطمہ، حسن اور حسین علی بن حسن، محمد بن علی جعفر بن محمد موسیٰ بن جعفر، علی بن موسیٰ، محمد بن علی، علی بن محمد حسن بن علی اور مہدی وہاں موجود پائے۔

لمحہ فكريہ: مندرجہ بالا اِقتباس میں درج ذیل باتیں مذکور ہیں

  1.  اللہ تعالیٰ نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کو اپنا نام عطا کیا (لہٰذا ان کا کوئی بھی ہمسر نہ ہوا اس سے سیدنا علی المرتضیٰؓ کی سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ پر افضلیت ثابت ہوئی)
  2.  بارہ اماموں کی ولایت کو تسلیم کرنے والے مومن اور منکر کافر ہیں۔
  3.   ائمہ اور خلفاء بارہ ہیں جنہیں بارہ امام کہا جاتا ہے ان میں سے پہلے سیدنا علی المرتضیٰؓ اور آخری امام مہدی ہیں۔

مذکورہ تین نظریات کیا کسی سنی کے ہیں سیدنا علی المرتضیٰؓ کو خلیفہ بلا فصل کہنا اور سیدنا صدیق اکبرؓ و سیدنا فاروق اعظمؓ کی خلافت و امامت کا انکار کرنا کس سنی کا عقیدہ ہے ائمہ اہلِ بیت کی ولائت کے تسلیم اور عدم تسلیم پر ایمان و کفر کا حکم اہلِ سنت میں سے کس عالم یا مجتہد و فقیہ کا قول ہے؟ لہٰذا ان نظریات کی روشنی میں صاحب مقتل الحسین علامہ خوارزمی کا تشیع بالکل واضح طور پر سامنے آ گیا۔

علاوہ ازیں مذکورہ روایت کی سند میں جن راویوں کا نام ذکر کیا گیا ان آٹھ (سلامہ عبدالرحمٰن بن یزید زیاد بن مسلم، سلمان بن محمد احمد بن محمد بن صالح، علی بن سنان، احمد بن محمد بن عبد الله اور محمد ابن شادان) کا کتب رجال اہلِ سنت میں اول تو نام ہی نہیں ملتا اور اگر ملتا ہے تو اس کے شیوخ و اساتذہ کا نام وہ نہیں جو ذکر کیا گیا اسی طرح لقب اور کنیت وغیرہ میں بھی اشتباہ ہے لہٰذا ایسی سند جو اول تا آخر مجہول راویوں پر مشتمل ہو اسے فرضی اور موضوع ہی کہا جا سکتا ہے شیعہ اسمائے رجال میں ان راویوں میں سے محمد ابنِ شاذان کا نام ملتا ہے اس کنیت کے دو نام وہاں موجود ہیں اور دونوں ہی شیعہ علماء میں سے ہیں۔ ایک فضل بن شاذان اور دوسرا محمد بن احمد بن علی بن حسن شاذان ہے پہلے ابنِ شاذان کے متعلق رجال کشی اور جامع الرواۃ میں یوں مذکور ہے۔

جامع الرواة: هَذا الشَّيْخُ أَجَلُ مِنْ أَنْ يُغْمَنَ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ رئيس طَائِفَتِنَا أَجَلُّ أَصْحَابِنَا الْفُقَهَاء والمتكلمين

 (جامع الرواة: جلد دوم صفحہ 5)

صفحہ 2 از 6