مقتل الحسين الخوارزمي مصنفه ابوالمؤید محمد بن احمد - ردِ…

مقتل الحسين الخوارزمي مصنفه ابوالمؤید محمد بن احمد

  محمد علی

صفحہ 3 از 6

ترجمہ: فضل ابنِ شاذان جلیل القدر عالم ہے جس پر انگشت نمائی نہیں ہو سکتی ہمارے گروہ کا سردار فقہاء اور متکلمین میں سے عظیم المرتبت شخص ہے دوسرے ابنِ شاذان کے بارے میں شیخ عباس قمی نے یوں لکھا ہے

الكنى والالقاب: ابو الحسن محمد بن احمد بن علی بن الحسن بن شاذان القمى مِنْ أَجَلَ الْعُلْمَاءِ الْإِمَامِيَّةِ الفقیهة يروى عن والده ابي العباس احمد بن عَلَى صَاحِبِ كِتَابِ زَادِ المُسافر والأمالي وكان ابو العباس احمد سمعَ مِنْ مُحَمَّد بن الحسن بن احمد بن الوليد و محمد بن علی ابن تمام الدهقان وكان شيخ الشَّيْعَةِ في وقته

(الكنى والالقاب: صفحہ 323) 

(لسان الميزان: جلد اول صفحہ 234 تذکره ابنِ شاذان)

ترجمہ: ابنِ شاذان قمی امامی فقہاء علماء میں سے عظیم عالم تھا اپنے والد ابوالعباس احمد بن علی سے روایت کرتا ہے جو زاد المسافر والا مالی کتاب کے مصنف ہے اور ابو العباس نے محمد بن الحسن اور محمد بن علی سے سماع حدیث کیا اور اپنے دور کا شیخ الشیعہ تھا قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ خوارزمی نے جس ابنِ شاذان کا ذکر کیا وہ مؤخر الذکر ہے بہرحال کوئی بھی ہو دونوں اہلِ تشیع کے جید علماء میں سے ہیں اور ان کی مرویات پھر خاص کر مختلف فیہ مسائل و عقائد میں کب قابل حجت ہو سکتی ہیں اور پھر جب ایسی روایات کے مفاسد کی طرف دیکھا جائے تو ان میں موضوع ہونے کا معاملہ بھی نکھر کر سامنے آ جاتا ہے مثلاً سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خلافت بلافصل کی جگہ سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ خلیفہ پہلے بن گئے جس سے عملی طور پر ان کی امامت و خلافت کا انکار ثابت ہوتا ہے اور خوارزمی کی روایت کے مطابق ان کی ولایت کا انکار کفر ہے۔ لہٰذا شیخین (معاذاللہ) کافر ٹھرے پھر جب حضورﷺ اپنی صاحبزادیوں کو سیدنا عثمان غنیؓ کے نکاح میں دینا اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کا اپنی صاحبزادی سیدہ ام کلثومؓ کا عقد سیدنا عمر فاروقؓ سے کرنا دیکھا جائے تو معاملہ اور بھی بگڑ جاتا ہے کہ سیدنا عمر فاروقؓ ولایت سیدنا علیؓ پر غاصبانہ قابض ہوئے اور معاذ اللہ منکر ولایت سیدنا علیؓ ہو کر کافر ہو گئے اور سیدنا علی المرتضیٰؓ نے ایک کافر کو اپنی صاحبزادی نکاح میں دی ہم نے صرف بطور نمونہ ایسی روایات کے مفاسد میں سے ایک کا تذکرہ کیا۔ لہٰذا معلوم ہوتا ہے کہ ایسی روایات حب اہلِ بیت نہیں بلکہ ان سے دشمنی پر مبنی ہیں اور ان کے پیچھے یہودیت کار فرما ہے اب علامہ خوارزمی کی ہم ایک اور عبارت پیش کرتے ہیں جس سے اس کی مذہبی لگن کا اندازہ ہو جائے گا۔

اگر تمام لوگ علی کی محبت پر جمع ہو جاتے تو اللہ تعالیٰ دوزخ کو پیدا نہ کرتا:

عبارت دوم: عن يحيىٰ بن طاهر اليربوعي اخبرنی في ابو معاوية عن ليث بن ابي سليم عن طاؤس عن ابن عباس قال قال رسول الله لو اجتمعَ النَّاسُ عَلَى حُبِّ عَلَى لَمَا خَلَقَ اللهُ النَّارَ

(مقتل الحسين: جلد اول صفحہ 38 في فضائل امیر المؤمنين مطبوعہ قم ايران تذكره في فضائل امير المومنين)

 ترجمہ: ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا اگر تمام لوگ علی کی محبت پر جمع ہو جاتے تو اللہ تعالیٰ دوزخ کو پیدا نہ فرماتا۔ 

عبارت سوئم: اخبرنى ابوالفرج حدثنى الحسن بن علی حدثني صهيب بن عباد حدثني ابي عن ابيه على بن الحسين عن أبيه عن على ابن ابی طالب عليه السلام قال قال رسول الله أتاني جبريل وَقَدْ نَشَرَ جَنَاحَيْهِ فَإِذَا فِيهِمَا مَكْتُوبٌ على أحَدِهِمَا لا اله إلا الله محمد النبي وعلى الآخرِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ عَلَى الوَصِيُّ 

(مقتل الحسين: جلد اول صفحہ 38 في فضائل امير المؤمنين مطبوعہ قم ایران)

ترجمہ: علی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا میرے پاس جبرئیلؑ آیا اور اس نے اپنے دونوں پر پھیلا رکھے تھے اس وقت اس کے ایک پٙر پر لکھا تھا لا الله الا الله محمد النبی اور دوسرے پر پر لا اله الا الله على الوصی لکھا ہوا تھا۔

 لمحہ الفكريہ:مذکورہ دونوں عبارات کو یا ان کے ترجمے کو پڑھنے والا بغیر کسی تامل کہ فوراً کہ اٹھے گا کہ یہ عبارات کسی اہلِ تشیع کی ہیں اور سبھی قارئین جانتے ہیں کہ مذکورہ عبارات ہم نے مقتل الحسین سے نقل کیں جو خوارزمی کی تصنیف ہے لہٰذا واضح ہوا کہ خوارزمی اہلِ سنت کا فرد نہیں اور نہ ہی اس کی یہ کتاب "اہلِ سنت کی کتاب" ہے محض دھوکہ اور فریب دینے کے لیے کچھ لوگ خوارزمی کو سنی اور اس کی کتابوں میں اہلِ سنت کی کتاب کہہ کر ان کے اقتباسات کو اپنے مذہب پر حجت لاتے ہیں۔

عبارت دوم میں اگر غور کیا جائے تو اس سے دراصل اہلِ تشیع کا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں عقیدہ نظر آتا ہے یہ وہ اس طرح کہ ان کے نزدیک تین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سوا باقی سبھی سیدنا علی المرتضیٰؓ کے دشمن ہونے کی وجہ سے معاذاللہ جہنم میں گئے کیونکہ اگر ان میں سیدنا علی المرتضیٰؓ سے پیار ہوتا تو وہ کبھی بھی سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ اور سیدنا عثمانؓ کو خلیفہ نہ بنے دیتے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ہی دوزخ تیار کر رکھی ہے معاذ اللہ اور دوسری عبارت سے اپنا کلمہ اور الفاظ اذان ثابت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو ایک معتبر سنی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ "علی وصی اللہ" ہیں تو اگر ہم اذان اور کلمہ میں یہ الفاظ زیادہ کرتے ہیں تو اس پر اعتراض کیوں کیا جاتا ہے بلکہ جب یہ الفاظ جبرئیل امینؑ کے پر پر لکھے موجود ہیں تو پھر اس کے اصل اور صحیح ہونے میں کیا کسر باقی رہ جاتی ہے اسی صفحہ پر مزید یہ بھی ہے۔

عن جابر قال قال رسول اللهﷺ مَكْتُوبٌ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِﷺ عَلَى ابْنُ أَبِي طَالِبٍ أَخَو رَسُولَ اللهِ قَبْلَ أَن يُخْلَقَ السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضَ بِالْفى عَامَيْنَ

صفحہ 3 از 6