مقتل الحسين الخوارزمي مصنفه ابوالمؤید محمد بن احمد - ردِ…

مقتل الحسين الخوارزمي مصنفه ابوالمؤید محمد بن احمد

  محمد علی

صفحہ 4 از 6

ترجمہ: یعنی جنت کے دروازے پر محمد رسول اللہﷺ علی بن ابی طالب اخو رسول اللہ زمین و آسمان کے پیدا ہونے سے دو ہزار سال پہلے لکھا ہوا تھا یہ تھی حقیقت حال جیسے دھوکہ دینے کے لیے خوارزمی کو اہلِ سنت کا عالم بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور پھر اپنے من گھڑت کلمے اور اذان کے الفاظ کو اس کی کتابوں سے ثابت کیا جاتا ہے علاوہ ازیں روایت مذکورہ کے افراد اور سند بھی بالکل جعلی اور من گھڑت ہے اس میں سے کچھ کا تو کتب اسماء الرجال میں اتہ پتہ ہی نہیں اس روایت کا مرکزی راوی ابوالفرج لکھا گیا اور کتب اسماء الرجال میں اس کنیت کے دو آدمی ہیں اور دونوں کٹر شیعہ ہیں ملاحظہ ہو۔

الكنى والالقاب: على بن الحسين بن محمد المرواني الاموى الزيدي صاحب كتاب الاغانى اورَدَة شيخنا الحر الأملي قدسَ سِرُّهُ فِي أَملِ الأَمَالِ وَقَالَ هُوَ أَصْبَهَاني الْأَصْلِ بَغْدَادِي الْمُكْشَاءِ مِنْ أَعْيَانِ الأَدْبَاء وَكَانَ عَالِمَا رَوَى عن كثير مِنَ الْعُلَمَاءِ وَكَانَ شيعيا

(الكنى والقاب: جلد اول صفحہ 138)

ترجمہ: ابو الفرج اصفہانی علی بن الحسین بن محمد المروانی اموی زیدی کتاب اغانی کا مصنف ہے شیخ حراملی نے اہلِ الآمال میں اس کا تذکرہ کیا اور کہا کہ یہ اصل اصفہانی ہے اور بغداد میں نشو ونما پائی مشہور ادیب تھا بہت سے علماء سے روایت کی اور شیعہ تھا دوسرے ابوالفرج کے بارے میں اسی کتاب کے صفحہ نمبر 140 میں یہ الفاظ لکھے ہیں الشيخ الاقدم محمد بن ابي عمران موسى من علماء الْإِمَامِيَّةِ ثِقَة

ترجمہ: یعنی ابوالفرج شیخ محمد بن ابی عمران موسیٰ فرقہ امامیہ کے مشہور علماء میں سے تھا اور ثقہ تھا۔

اب خدا بہتر جانتا ہے کہ خوارزمی کے کس ابوالفرج سے روایت کی لیکن جس سے بھی کی وہ پکا شیعہ ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے تھا کیونکہ خوارزمی اور ابوالفرج دونوں کا خمیر ملتا ہے اس لیے من گھڑت روایات اور بے تکی باتوں کو حدیث بنا کر پیش کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ان کی عبارات اہلِ سنت پر حجت ہرگز نہیں ہو سکتیں۔

عبارت چہارم: عن ابي سعيد الخدري أَنَّ النَّبِيَّ يَوْمَ دَعَا النَّاسَ إِلَى عَلِي فِي غَدِيرِ خمْ أمَرَ بِمَا كَانَتِ الشَّجرَةُ مِنْ شَوكٍ فَقْم وَ ذَالِكَ يَوْمَ الْخَمِيسُ ثُمَّ دَعَا النَّاسُ إلى عَلي فَأَخَذَ بِضَبْعِهِ ثُمَّ رَفَعَهُ حَتَّى نَظَرَ النَّاسُ إِلى بَيَاضِ ابْطَيْهِ  ثُمَّ لَمْ يَتَفَرَقَا حَتى نَزَلَتْ هذه الاية (الْيَوم اکمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَا تُممتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا) ، فقال رسول الله اللهُ أَكْبَر عَلَى كَمَالِ الدِّينِ وَأَتمَامِ النِّعْمَةِ وَ رضا الرَّبِّ بِرِسَالَتِي وَوِلَايَةِ عَلَى 

(مقتل الحسين: صفحہ 47 جلد اول في فضائل امير المؤمنين مطبوعہ قم ایران)

ترجمہ: ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے غدیر خم کے دن بروز جمعرات لوگوں کو علی کی بیعت کے لیے بلایا اور کانٹے دار درخت کے نیچے سب کو اکٹھا کیا آپ نے علی کے بازو پکڑے اور اوپر اٹھایا حتیٰ کہ لوگوں نے آپؓ کی بغلوں کی سپیدی دیکھی پھر وہ جدا نہ ہوئے تھے کہ الیوم اکملت لكم دينكم الاخ آیت کریمہ نازل ہوئی پھر حضور نے فرمایا دین کے کامل فرمانے نعمت کے تمام کرنے میری رسالت پر رب کے راضی ہونے اور علی کی ولایت پر راضی ہونے پر اللہ تعالیٰ کی بڑائی ہے۔

نوٹ: غدیر خم کا تفصیلی واقعہ اور اس واقعہ میں اہلِ تشیع کی قلابازیاں ہم نے تحفہ جعفریہ جلد اول میں واضح کر دی ہیں میں مختصر یہ کہ اس موقعہ پر اہلِ تشیع یہ ثابت کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خلافت بلافصل کا اعلان کیا تھا یہی بات خوارزمی بھی کہ رہا ہے اور دین کی تکمیل کو ولایت سیدنا علی المرتضیٰؓ کے ساتھ مشروط کر کے دکھایا جا رہا ہے اس عبارت سے بھی اس کی شیعیت ٹپک رہی ہے۔

عبارت پنجم: قال قال رسول الله  لما دخلت الْجَنَّةُ رَأَيْتُ فِيهَا شَجخرَةً تَحْمِلُ الْحُلَى وَالْحلَلَ أَسْفَلُهَا خَيْلَ بَلَقَ وَأَوْسَطُهَا حُورَ الْعَيْنِ وَ فِي أَعْلَاهَا الرِّضْوَانَ فَقُلْتُ يَا جِبْرَئِيلُؑ لِمَنْ هَذِهِ الشَّجَرَةُ قَالَ هذه لابْنِ عَمِكَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى ابْنِ أَبِي طَالِبٍ إِذَا أَمَرَ اللهُ الْخَلِيفَةَ بِالْأَحْوَلِ إلَى الْجَنَّةِ يُؤتَى بِشِيْعَةِ عَلَى حَتى يُنْتَهَى بِهِم إلى هذهِ الشَّجَرَةِ فَيَلْبِسُونَ الْحُلِي وَالْحُلَل وَيَرْكَبُونَ الْخَيْلَ الْبَلَقَ وَيُنَادِي مُنَادٍ هَؤُلَاءِ شِيعَةُ عَلَى صَبَرُوا فِي الدُّنْيَا عَلَى الأذى فَحْسِبُوا الْيَوْم

 (مقتل الحسين: جلد اول من في فضائل امير المؤمنین مطبوعہ قم ایران)

ترجمہ: حضور نے فرمایا میں جب جنت میں داخل ہوا تو ایک درخت زیورات اور پوشاکوں سے بھرا ہوا دیکھا اس کے نیچے ابلق گھوڑے اور درمیان میں حورالعین تھیں اور اس کے اوپر رضوان تھا میں نے جبرئیلؑ سے پوچھا یہ درخت کن کے لیے ہے جبرائیلؑ نے کہا آپ کے چچازاد بھائی علی بن ابی طالب کے لیے ہے جب اللہ تعالیٰ آپ کے خلیفہ کو جنت میں داخل ہونے کا حکم دے گا وہ اپنے شیعوں کو لائیں گے اور اس درخت کے قریب آ کر اس کے زیورات اور پوشاکیں پہنیں گے اور ابلق گھوڑوں پر سوار ہوں گے آواز دینے والا آواز دے گا یہ ہیں شیعیان علی جنہوں نے دنیا میں تکالیف پر صبر کیا تو آج انہیں اس کا صلہ عطا کیا گیا۔

عبارت ششم: عن ابن عباس قال سمعت رسول الله يَقُولُ لَيْلَةَ اسْرِي لِي إِلَى السَّمَاءِ ادْخِلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ نورًا ضَرَبَ بِهِ وَجْهِي فَقُلْتُ لجبرئيلؑ ما هذا النُّورُ الَّذِي رَأَيْتُهُ قَالَ يَا مُحَمَّدٌ لَيْسَ هَذَا نُورُ الشَّمْسِ وَلَا نُورُ الْقَمَرِ وَلَكِن جَارِيَةً مِّنْ جَوَارِي عَلَى ابْنِ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ اطَلَعَتْ مِنْ قُصُورِهَا فَنَظَرَتْ إِلَيْكَ وَضُحِكَت فَهُذَا النُّورُ خَرَجَ مِنْ فِيهَا وَهِيَ تَدُورُ فِي الْجَنَّةِ وانْ يَدْخلهَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ 

(مقتل الحسين: صفحہ 35، 40 جلد اول في فضائل أمير المؤمنين مطبوعہ قم ایران)

صفحہ 4 از 6