مقتل الحسين الخوارزمي مصنفه ابوالمؤید محمد بن احمد - ردِ…

مقتل الحسين الخوارزمي مصنفه ابوالمؤید محمد بن احمد

  محمد علی

صفحہ 5 از 6

ترجمہ: ابنِ عباس کہتے ہیں میں نے رسول اللہ سے سنا کہ شب معراج مجھے آسمانوں کی طرف لے جایا گیا اور مجھے جنت میں داخل کیا گیا وہاں میں نے دیکھا ایک نور میرے چہرے پر آن پڑا میں نے جبرئیلؑ سے پوچھا کہ یہ نور کیسا ہے جو میں نے دیکھا؟ کہا اے محمد یہ نہ تو سورج کا نور ہے اور نہ ہی چاند کا نور ہے لیکن علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ایک لونڈی اپنے محل سے جھانکتی ہے اور وہ آپ کو دیکھ کر ہنس پڑی تو یہ نور اس کے منہ سے نکلا ہے اور یہ علی کے داخل جنت ہونے تک اسی طرح پھرتی رہے گی۔

 عبارت ہفتم: عن عبد الله بن مسعود قال قال رسول الله اول مَنَ اتَّخَذَ عَلَى ابن ابي طالبِ أَخا مِن أَهْلِ السَّمَاءِ إِسْرَافِيلٌؑ ثُمَّ ميكائيلؑ ثم جبريلؑ وَأَوَّلَ مَنْ أَحَبَّهُ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ حَمَلَةٌ الْعَرْشِ ثُمَّ الرِّضْوَانُ خَازِنُ الْجَنَّةِ ثُمَّ مَلَكَ المَوْتِ وَإِنَّ مَلَكَ المُوتِ يَتَرَحمْ عَلَى مُحِبي علي ابن ابي طالب كَمَا يَتَرَحمُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ  

(مقتل الحسين: جلد اول صفحہ 39 في فضائل امير المومنين مطبوعہ قم ایران)

ترجمہ: عبد الله بن مسعود کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا آسمان والوں سے سب سے پہلے جس نے علی کو بھائی بنایا وہ اسرافیلؑ ہے پھر میکائیلؑ اور پھر جبرئیلؑ اور آسمانوں والوں میں سے سب سے پہلے جس نے محبت کرنے والے وہ فرشتے ہیں جو عرش اٹھائے ہوئے ہیں پھر رضوان خازن جنت اور اس کے بعد ملک الموت اور یقیناً ملک الموت علی کے محبوں پر دعائے رحمت کرتا ہے جیسا کہ وہ انبیاء کرامؑ کے لیے کرتا ہے۔ 

شب معراج اللہ تعالیٰ نے نبی سے علی کی لغت پر کلام فرمائی کہ جس سے آپ کو پتہ نہ چلا کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے کلام فرما رہا ہے یا علی سے

عبارت ہشتم: اخبرنى ابومخنف لوط بن يحيىٰ الازدى عن عبد الله بن عمر قال سمعت رسول الله ( وسُئِلَ بِأَي لُغَة خَاطَبَكَ رَبُّكَ) قَالَ خَاطَبَنِي بِلُغَةِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَالْهِمْتُ أَن قُلْتُ يَا رَبِّ خاطبتنِي أمْ عَلَى فَقَالَ عَزَّ وَجَلَ يَا أَحْمَدُ أَنَا شَيْ لَا كَالا شَيَاء لَا أَقَاسُ بِالنَّاسِ وَلَا أَوْصَفُ بِالشَّبُهَاتِ خَلَقْتُكَ مِن نؤْرِي وَخَلَقْتُ عَلِيًّا مِن نُّورِكَ فَاطَّلَعْتُ عَلَى سَرَائِرِ قَلْبِكَ فَلَمْ أَجِدُ فِي قَلْبِكَ احَبَّ إِلَيْكَ مِن عَلي بن ابي طالب عليه السلام وخاطبتك بِلِسَانِهِ كَيمَا يَطْمَن قَلْبُكَ 

(مقتل الحسين: جلد اول صفحہ 43 في فضائل أمير المؤمنين مطبوعہ قم ایران)

ترجمہ: عبد اللہ بن عمر سے لوط بن یحییٰ ازدی بیان کرتا ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا آپ سے پوچھا گیا کہ شب معراج آپ سے اللہ تعالیٰ نے کس لغت سے خطاب کیا فرمایا علی بن ابی طالب کی لغت میں اس نے خطاب کیا مجھے الہٰام ہوا کہ میں یوں کہوں کہ اے اللہ! تو نے مجھے خطاب کیا یا سیدنا علی نے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے احمد میں دینوی چیزوں کی طرح کوئی چیز نہیں ہوں اور نہ ہی مجھے لوگوں پر قیاس کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی شبہات سے مجھے موصوف کیا جا سکتا ہے میں نے تجھے اپنے نور سے بنایا اور پھر تیرے نور سے سیدنا علی کو پیدا کیا میں نے تیرے دل کے رازوں کو دیکھا تو آپ کے دل میں سیدنا علی بن ابی طالب سے بڑھ کر کوئی محبوب نہ پایا لہٰذا میں نے ان کی لغت میں تمہیں خطاب کیا تاکہ تمہارا دل مطمئن رہے۔

لمحہ فكريہ: قارئین کرام! مذکورہ عبارت میں غور فرمائیں کس انداز سے خوارزمی نے اپنے قارئین میں شیعیت کا زہر گھولنے کی کوشش کی۔

حقیقت یہ ہے کہ ان روایات میں سے کوئی ایک بھی صحیح نہیں بلکہ موضوع اور من گھڑت ہیں پانچویں نمبر کی روایت سے دراصل خوارزمی یہ کہنا چاہتا ہے کہ دنیا میں اگر کوئی شخص کتنا بڑا بدکار شرابی زانی اور بدعمل ہو لیکن گر وہ شیعہ ہے تو پھر اس کی اُخروی کامیابی یقینی ہے کیونکہ شیعیان علی کے لیے اللہ تعالیٰ نے زیورات، پوشاک اور ابلق گھوڑے تیار کر رکھے ہیں بس مرنے کی دیر ہے اور پھر اس شیعہ کو ان بہشتی حلوں میں زیورات پہن کر سیدھا جنت میں پہنچا دیا جائے گا اور منادی ندا کرے گا کہ لوگو! یہ ہیں شیعیان علی جو سنیوں کی تکالیفت برداشت کرتے رہے تو اس فرضی اور موضوع روایت سے خوارزمی نے شیعہ بنے کی ترغیب دی پھر روایت ششم میں سیدنا علی المرتضیٰؓ کی لونڈی کے چہرہ اور تبسم کرنے کا نور ایسا بیان کیا جسے دیکھ کر سرکار دو عالم حضرت محمد رسول اللہ بھی حیران ہو گئے اور جبرئیلؑ سے پوچھ لیا کہ یہ کس کا نور ہے؟ گویا ایک لونڈی کو سیدنا علی کی لونڈی ہونے کی وجہ سے یہ شرف اور کمال ملا تو جو شخص علی کا شیعہ ہو گا اس کے نور کا کیا کہنا خوارزمی نے اس من گھڑت روایت سے یہ کہنا چاہا کہ لوگو! اگر قیامت میں کچھ نور چاہتے ہو تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے وہ یہ کر شیعیان علی ہو جاؤ اور روایت ہفتم کے مطابق جان کنی کی شدت سے بچنے کا عجیب علاج تجویز کیا وہ یہ کہ اگر تم شیعیان علی بن جاؤ گے تو پھر عزرائیلؑ تمہاری جان نکالتے وقت اس طرح مہربانی اور رحمت سے پیش آئیں گے جس طرح وہ پیغمبروں سے پیش آتے ہیں یعنی شیعیان علی کا مقام حضرات انبیاء کرامؑ کے بالکل قریب ہے آٹھویں روایت مں لوط بن یحییٰ (جو اہلِ تشیع کا مآخذ و مرکز ہے) کے توسط سے تو خوارزمی نے کمال کر دکھایا کہ علی کی شان خود حضور سے بھی ارفع و اعلیٰ ہو گی اللہ تعالیٰ نے شب معراج حضور سے علی کی زبان سے گفتگو فرما کر آپ کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہ اس بولنے والے کو علی کہوں یا اللہ تعالیٰ کہوں۔ 

صفحہ 5 از 6