مقتل الحسين الخوارزمي مصنفه ابوالمؤید محمد بن احمد - ردِ…

مقتل الحسين الخوارزمي مصنفه ابوالمؤید محمد بن احمد

  محمد علی

صفحہ 6 از 6

ان حوالہ جات میں خوارزمی نے وہی نظریات ذکر کیے جو اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کے مابین تنازع ہیں اور اہلِ تشیع کی نمائندگی کا حق ادا کر دیا ہم نے ایک دو حوالہ جات کی بجائے آٹھ عدد حوالہ جات اس لیے ذکر کیے کیونکہ خوارزمی کی اس کتاب کو بڑے فخر کے ساتھ اہلِ سنت کی مایہ ناز کتاب کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور قول مقبول میں غلام حسین نجفی شیعی نے بیسیوں حوالہ جات اس کتاب کے پیش کیے اور اسی عنوان کے ساتھ پیش کیے کہ یہ اہلِ سنت کی معتبر کتاب ہے ان چند حوالہ جات سے آپ بخوبی جان چکے ہوں گے "مقتل الحسین" کس مسلک کے شخص کی تصنیف ہے اور کن نظریات کے پرچار کی مالک ہے۔

نوٹ: ابو الموئید خوارزمی کی تصانیف بہت سی ہیں ایک کا تذکرہ ہو چکا دوسری مشہور کتاب "مناقب الخوارزمی" کے نام سے مشہور ہے اور غلام حسین نجفی نے قول مقبول میں اس دوسری تصنیف کے بھی بہت سے حوالہ جات "اہلِ سنت کی معتبر کتاب" کے عنوان سے دیے ہیں۔ جب ان دونوں کا مصنف ایک خوارزمی ہے تو پھر یہی دوسری کتاب نہیں بلکہ خوارزمی کی تمام تصانیف کے بارے میں قارئین کرام مطلع ہو چکے ہوں گے کہ وہ اہلِ سنت نہیں بلکہ اہلِ تشیع کی مؤید کتابیں ہیں مناقب خوارزمی کے بارے میں بطور نمونہ ایک مکالمہ پیش خدمت ہے۔ 

اللہ تعالیٰ نے جبرائیلؑ اسرافیلؑ اور صرصائیل کو سیدہ فاطمہ کے نکاح کا گواہ بنایا

قول مقبول: مناقب خوارزمی صفحہ 242 باب 20 کی عبارت ملاحظہ ہو:

انا صرصائيل بعثني الله اليك لتزوج بالنور فقال النبي من والى من قال بنتك فاطمة من على فزوج النبي فاطمةمن على بشهادة ميكائيلؑ وجبرائيلؑ صرصائيل

(قول مقبول صفحہ90)

ترجمہ:  ایک فرشتے نے عرض کیا کہ میرا نام صرصائيل ہے اور مجھے اللہ نے بھیجا ہے کہ آپ کو یہ حکم خداوندی پہنچاؤں کہ آپ نور کی شادی نور سے فرما دیں حضور پاک نے فرمایا کس نور کی شادی کون سے نور کے ساتھ۔ فرشتہ نے عرض کیا کہ ایک نور آپ کی بیٹی سیدہ فاطمہ ہے ان کی شادی دوسرے نور کے ساتھ جو کہ علی بن ابی طالب ہیں نبی کریم نے سیدہ فاطمہ کی شادی دوسرے نور جناب امیر کے ساتھ فرما دی جبرائیلؑ میکائیلؑ اور صرصائيل کو گواہ بنایا۔

مذکورہ حدیث نے سیدہ فاطمہؓ کے شرف کو چار چاند لگا دیے ہیں کیونکہ کسی نبی کی بیٹی کی شادی کی خاطر قدرت کی طرف سے خصوصی حکم نہیں آیا اور سیدہ فاطمہؓ بنت رسولﷺ کا رشتہ سیدنا علیؓ کے ساتھ حکم خدا سے ہوا ہے بقول سنی بھائیوں کے کہ نبی پاکﷺ کی تین لڑکیاں اور بھی تھیں اگر تھیں تو ان کی شادی کے لیے وحی کیوں نہ اتری ان کے نکاح کفار کے ساتھ کیوں ہوئے معلوم ہوا کہ بیٹی حضور پاکﷺ کی صرف وہی ہے جس کی شادی کے لیے حکم خداوندی آیا اور یہ عذر کہ شان والی صرف سیدہ فاطمہؓ ہے اس سے سیدنا عثمانؓ کی فضیلت ختم ہو جاتی ہے کیونکہ جب ان کی کوئی بیوی شان والی نہ تھی تو خود ان کو بلند شان کیسے ملی سیدہ فاطمہؓ کی شادی کے لیے حکم خداوندی جو آیا کہ اے حبیبﷺ تو خود نور کی نور سے شادی کر معلوم ہوا کر سیدہ فاطمہؓ اور سیدنا علیؓ دونوں نور ہیں اور لقب ذوالنورین دراصل جناب امیر کا ہے سیدنا علیؓ خود بھی نور اور ان کی بیوی بھی نور پس آنجناب ہوئے ذوالنورین اور سیدنا عثمانؓ کے خود نور ہونے کا ثبوت بھی نہیں ملتا۔

 (قول مقبول: صفحہ 90)

لمحہ فکریہ: ہمارا مقصد اس عبارت کے پیش کرنے سے یہ ہے کہ خوارزمی کے عقائد اور پھر اسے شیعہ علماء نے کس ڈھٹائی سے اہلِ سنت کا عالم بنا کر پیش کیا یہ بات واضح ہو جائے، رہا یہ کہ حضورﷺ کی صاحبزادیاں کتنی تھیں ہم اس کی مفصل بحث لکھ چکے ہیں مختصر یہ کہ ایک باپ کی اولاد بھی یکساں درجہ کی نہیں ہوتی کچھ اسی طرح حضورﷺ کی صاحبزادیوں میں سیدہ فاطمہؓ خاتون جنت افضل و اعلیٰ ہیں دوسری درجہ میں ان سے کم ہیں لیکن یہ نہیں کہ وہ آپﷺ کی صاحبزادیاں ہی نہیں تھیں کتب شیعہ میں آپﷺ کی چار صاحبزادیوں کا ثبوت موجود ہے مثلاً وہ "ذبح عظیم" میں ہے کہ سیدنا حسینؓ وہ ہیں جس کے چچے سیدنا جعفر طیارؓ اور سیدنا عقیلؓ ہیں اور خالائیں سیدہ زینبؓ اور سیدہ ام کلثومؓ ہیں ان کے چچوں جیسے کسی کے چچے نہیں ان کی خالاؤں جیسی کیسی کی خالائیں نہیں نجفی کا ذوالنورین کے بارے میں اپنا خیال ظاہر کرنا نری حماقت اور جہالت ہے کیونکہ اس کا معنیٰ ہے دو نوروں والا اب سیدنا علیؓ کو دو نور ملے ہیں ایک سیدہ فاطمہؓ اور دوسرا اپنا نور ملا ہے کیسی بےتکی بات ہے اپنا نور خود اپنے آپ کو ملے کوئی شیعہ اپنی کسی کتاب میں ذو النورین کا لقب سیدنا علی المرتضیٰؓ کے لیے استعمال کر کے دکھا دے تو ہم مان جائیں گے کہ یہ لقب واقعی سیدنا علیؓ کا تھا اور اگر نہ دکھا سکو تو ہم تمہیں تمہاری کتابوں سے یہی لقب سیدنا عثمانؓ کے لیے دکھاتے ہیں۔

منتخب التواريخ: و اما مخدره مکرم سیدہ ام کلثوم اسم شریفین ، منه بود و بعد از جناب رقیه بعثمان تزویج شد لذا عثمان را ذو النورین میگویند.

ترجمہ: یعنی پرده نشین محترمہ سیدہ ام کلثوم کو جن کا نام آمنہ ہے سیدہ رقیہ کے بعد عثمان کے عقد میں آئیں جس کی وجہ سے عثمان کو ذوالنورین کہتے ہیں۔

(منتحب التواريخ: صفحہ 25 مطبوعہ تہران فصل پنجم و ذکر اولاد آنحضرت مطبوعہ طہران ایران)

 خلاصہ یہ کہ خوارزمی پکا شیعہ ہے اور مناقب وغیرہ اس کی تصانیف اس کے مذہب کی آئینہ دار ہونے کی وجہ سے اہلِ سنت کی معتبر کتابیں ہرگز نہیں ہوسکتیں اور ان کتب کی عبارات و روایات بیشتر موضوع اور من گھڑت ہیں جیسا کہ اہلِ تشیع کا وطیرہ ہے اس لیے خوارزمی کی کسی کتاب کا حوالہ یا روایت ہم اہلِ سنت پر حجت اور دلیل بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

  فاعتبروا يا اولى الابصار


صفحہ 6 از 6