المحاضرات مصنفہ حسین ابن محمد الراغب اصفہانی - ردِ رافضیت |…

المحاضرات مصنفہ حسین ابن محمد الراغب اصفہانی

  محمد علی

صفحہ 1 از 5

المحاضرات مصنفہ حسین ابنِ محمد الراغب اصفہانی

 امام راغب اصفہانی کا پورا نام حسین ابنِ محمد ہے شیعوں کا بہت بڑا امام گزرا ہے لیکن کمال چالاکی سے اسے بھی اہلِ سنت کا بہت بڑا عالم کہہ کر اس کی کتابوں کے حوالہ جات ہم اہلِ سنت کے خلاف پیش کیے جاتے ہیں جیسا کہ شیعہ عالم اثیر جاڑوی نے اپنی کتاب جواز متعہ کے صفحہ 68 پر محاضرات راغب اصفہانی کا حوالہ ان الفاظ سے لکھا ہے کہ محاضرات راغب اصفہانی جلد دوم صفحہ 94 میں لکھا ہے کہ عظیم صحابی سیدنا زبیر بن عوامؓ اور جلیل القدر صحابیہ سیدہ اسماءؓ بنت سیدنا ابوبکرؓ خواہر ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ نہ صرف سیدنا عمرؓ کی قولی مخالفت کرتے ہیں بلکہ حکم متعہ کی عملی تفسیر کر کے آپس میں متعہ کرتے ہیں جس سے سیدنا عبداللہ ابنِ زبیرؓ جیسا عظیم القدر ثبوت جنم لیتا ہے ایسی عبارت لکھ کر یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جب اہلِ سنت کے امام نے متعہ کی جواز کا عملی ثبوت پیش کیا ہے تو معلوم ہوا کہ سنی خواه مخواہ متعہ کی حرمت کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں حالانکہ عبارت مذکورہ میں اس امر کی کوئی گنجائش نہیں تھی کیونکہ متعہ نکاح شرعی ہرگز نہیں ہوتا اور سیدنا زبیر بن عوامؓ اور سیدہ اسماءؓ بنت ابی بکر کے درمیان نکاح دائمی شرعی تھا لہٰذا نکاح دائمی سے پہلے ہونے والی اولاد کو اولاد متعہ کہنا کس قدر بے ایمانی اور شیطنیت ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نکاح دائمی کو متعہ کے رنگ میں پیش کر کے خود راغب اصفہانی نے دشمن صحابہؓ ہونے کی تصدیق کر دی اسی طرح ایک اور شیعہ غلام حسین نخفی نے بھی راغب اصفہانی کا حوالہ اپنی تصنیف قول مقبول میں ان الفاظ سے نقل کیا ہے

 قول مقبول: اہلِ سنت کی معتبر کتاب محاضرات مؤلف راغب اصفہانی میں لکھا ہے کہ

 عبداللہ ابنِ مبارک کان یرمی بالابنة فقال یا امیر المومنین اما احتاج الی رجال یعینونی فقال قد بلغنی ذالك

(حوالہ محاضرات: جلد 1 صفحہ 99)

 ترجمہ: حاکم طبرستان نے عبدالمالک عبداللہ بن مبارک کو قاضی بنایا اور یہ عبداللہ علت ابتہ کا مریض تھا اس نے حاکم سے کہا کہ سردار مجھے کچھ مردوں کی ضرورت ہے جو میری مدد کریں حاکم نے فرمایا کہ مجھے اس طلب کی وجہ پہلے معلوم ہے۔

محاضرات کی عبارت کے تین جوابات:

 جواب اول: کے محاضرات کا مصنف "راغب اصفہانی" ایک شیعہ مصنف عالم ہے جس کے شیعہ ہونے کی تصدیق شیعہ معتبر کتب میں موجود ہے اگر اس نے عبداللہ بن مبارک پر لواطت (مفعولیت) کی تہمت لگائی ہے تو اس پر کیا تعجب ایسا کرنا اول تو ان لوگوں کی عادت و وطیرہ ہے دوسرا ان کے مذہب میں جب عورت سے لواطت کرنا محبوب مشغلہ ہے تو اس فعل محبوب کا ذکر بھی محبوب ہوتا ہے اس لیے کہ راغب اصفہانی نے اپنا چسکا پورا کرنے کے لیے سیدنا عبداللہ بن مبارک پر یہ الزام دھرا کے مختصر یہ ہے کہ شیعہ مصنف کی تحریر سے ایک سنی شخصیت کی ذات پر الزام دھرنا حجت نہیں بن سکتا راغب اصفہانی کے شیعی ہونے کی وجہ سے اس کی کتاب بھی ہمارے نزدیک نامعتبر اور اس کی مذکورہ عبارت بھی نا قابل مقبول ہے۔

اصفہانی کی شیعہ ہونے پر کتب شیعہ سے استدلال:

الکنی والالقاب: فقال الماھر الخبیر المیرزا عبداللہ فی ترجمتہ ونقل الخلاف فی اعتزالہ وتشیعہ ما ھذا لفظہ لکن الشیخ حسن بن علی الطبرسی قد صرح فی آخر کتابہ اسرار الامامۃ انہ ای الراغب کان من حکماء الشیعۃ الامامیة لہ مصنفات فالقة مثل مفردات فی غریب القرآن وافانین البلاغة والمحاضراة 

 (الکنی والالقاب: جلد دوم صفحہ 268مطبوعہ تہران طبع جدید)

 ترجمہ: عالم اور بہت بڑے ماہر عبد الله مرزا نے راغب اصفہانی کے بارے میں کہا کے اس کے معتزلہ اور اہلِ تشیع ہونے میں اگرچہ اختلاف کیا گیا ہے لیکن شیخ حسن بن علی الطبرسی نے اپنی کتاب اسرارالامامة کے آخر میں بالتصریح لکھا کے راغب اصفہانی شیعہ امامیہ حکماء میں سے تھا اس کے بلند پایہ تصنیفات میں سے مفردات فی غریب القرآن افانین البلاغہ اور محاضرات ہیں۔

 الذریعہ فی تصانیف الشیعہ: جامع التفسیر الامام ابو القاسم الحسین بن محمد بن فضل بن محمد الشھیر براغب اصفہانی ذکر فی الریاض اولا وقوع الخلاف فی تشیعہ ثم قال لکن الشیخ حسن بن علی الطبرسی صاحب کامل البھائی صرح فی آخر کتابہ اسرار الامامة انہ کان من حکماء الشیعة الامامہ 

( الذریعۃ فی تصانیف الشیعہ' جلد 5 صفحہ 45)

 ترجمہ: جامع التفسیر ابوالقاسم حسن بن محمد المعروف راغب اصفہانی کا ذکر الریاض نامی کتاب میں ہے ابتداءً اس کے تشیع میں اختلاف نقل کرنے کے بعد علامہ حسن بن علی طبرسی کا اسرارالامامہ کے آخر سے یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ راغب اصفہانی شیعہ حکماء میں سے تھا۔

 الزریعہ فی تصانیف الشیعہ: الحسین بن محمد بن فضل بن محمد المتوفی کما ارخہ فی اخیار البشر فی سنة اثنتین وخمسمائة المردد ھو بین کونہ معتزلیا او شیعیا وجزء الثانی حسن ابنِ علی صاحب کامل البھائی فی آخر کتابہ اسرارالامامة ولذا ترجمہ صاحب الریاض فی القسم الاول 

(الزریعہ فی تصانیف الشیعہ: جلد 5 صفحہ 30) 

 ترجمہ: حسین بن علی راغب اصفہانی کی تاریخ وفات بحوالہ اخیار البشر سن 502 ہے اگرچہ اس کے معتزلی اور شیعی ہونے میں اختلاف کیا گیا لیکن حسن بن علی نے اسرار الامامہ کے آخر میں اسے شیعہ لکھا ہے اسی لیے صاحب الریاض نے راغب اصفہانی کو قسم اول کے شیعوں میں ذکر کیا ہے۔

صفحہ 1 از 5