المحاضرات مصنفہ حسین ابن محمد الراغب اصفہانی - ردِ رافضیت |…

المحاضرات مصنفہ حسین ابن محمد الراغب اصفہانی

  محمد علی

صفحہ 2 از 5

اعیان الشیعہ: وفی الریاض اختلف فی کونہ شیعا فالعامة صرح بکونہ معتزلیا وبعض الحاضة صرح بذالك ولکن الشیخ حسن بن علی الطبرسی قد صرح فی اخر کتاب اسرار الامامة بانہ کان من حکماء الشیعة فان کثیرا من الناس یظنون انہ معتزلی اقوال یؤید تشیعہ قول من قال انہ کان معتزلی فانہ کثیرا ما یخلطون بین الشیعی والمعتزلی لتوافق فی بعض الاصول ویؤیدہ ایضاً کثرة روایتہ عن ائمة اھل البیت وتعبیرہ عن علی علیہ السلام بامیرالمومنین وقولہ فی محاضراتہ کما فی روضات الجنان قال النبی لامیرالمومنین الا ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسی غیرا انہ لانبی بعدی وقال انس قال النبی ان خلیلی ووزیری وخلیفتی وخیرمن اترك من بعد یقضیدینی وینجز موعدی علی بن ابی طالب اترك فقال یحییٰ ابن اقسم للشیخ بالبصرۃ بمن افتیت فی جواز المتعة فقال لعمربن الخطاب فقال کیف ھذا وعمر کان اشد الناس فیھا قال لان الخبر صحیحا قد اتا انہ صعد منبر فقال ان الله ورسولہ احل لکم متعتین وانا احرمھما علیکم واعاقب علیکم فقبلنا شھادتہ ولم تقبل تحریمہ ھذا ما نقبل فی (اسروضات عن المحاضرات۔

 (اعیان الشیعہ: جلد 6صفحہ 160 تذکرة الراغب الاصفہانی)

 ترجمہ:الریاض میں راغب اصفہانی کے شیعی ہونے میں اختلاف مذکور ہے اور عام شیعہ اسے معتزلی کہتے ہیں اور بعض خاص شیعوں نے بھی اس کی تصریح کی ہے لیکن شیخ حسن بن علی طبرسی نے اپنی کتاب اسرار الامامہ کے آخر میں یہ تصریح کی ہے کہ راغب اصفہانی حکماء الشیعہ میں سے تھا بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ معتزلی ہے میں کہتا ہوں کہ اس کی تشیع پر قائل کا یہ قول تائید کرتا ہے کے وہ معتزلی تھا کیونکہ ایسا بہت مرتبہ ہوا ہے شیعہ اور معتزلی کو باہم ملا دیتے ہیں کیونکہ ان دونوں (شیعیت اعتزال) کا بعض اصول میں اتفاق ہے اور اس کے تشیع پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ اس کی روایات اہلِ بیت سے بکثرت ہیں جہاں کہیں پہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کا نام لیتا ہے وہاں آپ کے نام کے ساتھ امیر المؤمنین ضرور لکھتا ہے اور یہ قول بھی کہ اس کی تشیع کی تائید کرتا ہے کہ جیسا کہ روضات الجنان میں اس کی کتاب المحاضرات کے حوالہ سے منقول ہے کہ حضورﷺ نے امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضیٰؓ کو فرمایا کیا تو اس بات پر راضی نہیں ہے کہ تو میرے نزدیک ایسا ہو جائے جیسے حضرت ہارونؑ حضرت موسیؑ کے نزدیک تھا یہ علیحدہ بات ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور سیدنا انسؓ سے ایک روایت یہ بیان کی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ میرا دوست میرا وزیر میرا خلیفہ اور میرے بعد والوں میں سب سے بہتر جو میرا قرض ادا کرے گا اور میرا وعدہ پورا کرے وہ سیدنا علی بن ابی طالبؓ ہے یحییٰ بن اقسم نے شیخ کو بصرہ میں پوچھا کہ آپ نے متعہ کے جواز کا فتویٰ کس شخص کہ اعتبار سے دیا ہے؟ کہا سیدنا عمر بن الخطابؓ کے اقوال کی روشنی میں اس نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے حالانکہ سیدنا عمر بن الخطابؓ جواز متعہ کے بارے میں سخت مخالف ہیں جواب دیا کہ صحیح خبر ملی ہے کہ سیدنا عمر بن الخطابؓ ایک مرتبہ منبر پر چڑھے اور تقریر کے دوران کہا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے تمہارے لیے دو متعہ حلال کیے ہیں میں انہیں تم پر حرام کرتا ہوں اور اس پر سزا دیتا ہوں تو ہم نے سیدنا عمر بن الخطاب کی گواہی قبول کی اور ان کی تحریم کو نہ مانا یہ روایت بحوالہ محاضرات روضات میں منقول ہے۔

 لمحہ فکریہ: شیعہ کتب میں ایسی کتابوں کے حوالہ جات پیش کیے ہیں جن کا موضوع ہی یہ ہے کہ اہلِ تشیع کے کون کون علماء گزرے ان کی کیا کیا تصنیفات تھی ان کی کتابوں کے حوالہ جات سے خود شیعہ تسلیم کرتے ہیں کہ راغب اصفہانی ہمارا آدمی ہے اور شیعہ حکماء میں سے ایک ہوا اگرچہ اس کو معتزلی بھی کہا گیا لیکن صاحب اعیان الشیعہ نے اس سے اس کی شیعیت ثابت کر دکھائی اہلِ تشیع کے عقائد باطلہ خبیثہ میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اپنی عورتوں سے لواطت کرنی جائز ہے تو اس لیے غلام حسین نجفی نے اپنے اس فعل مرغوب کے تصور سے لذت حاصل کرنے کے لیے عبداللہ بن مبارکؒ کی ذات پر کیچڑ اچھالا ہے حالانکہ عبداللہ بن مبارکؒ اپنے دور کی بے مثل شخصیت تھے شیعہ کتب بھی ان کے تقویٰ اور بتحر علمی کے معترف ہیں ان پر مرض اِبنہ کا الزام دھرنا دراصل خود اس مرض کا مریض ہونا بیان کیا گیا ہے ذرا اپنوں کی زبانی سیدنا عبداللہ بن مبارکؓ کی شخصیت کو سنیے  

الکنی والالقاب: ابو عبد الرحمٰن عبداللہ بن المبارک المروزی العالم الذاھد العارف المحدث کان من تابعی التابعین ذکرہ الخطیب فی تاریخ بغداد واثنی علیہ وروی عن ابی اسامہ قال ابن المبارک فی اصحاب الحدیث مثل امیر المومنین فی الناس وعن ابن مھدی قال کان ابن المبارک اعلم من سفیان الثوری وعن ابن عیینہ قال نظرت فی امر الصحابة وامر ابن المبارک فما رائیت لھم علیہ فضلا الابصحبتھم النبیﷺ وغزوھم معہ وعن عمار بن الحسن انہ مدح ابن المبارک وقال

اذا سارعبداللہ من مرو لیلۃ 

فقد سار منھا نورھا وجمالھا

اذا ذکر الاحبار فی کل بلدۃ 

فھم انجم فیھا وانت ھلالھا

یحکی انہ احسن الی علویۃ ملھوفۃ فرا فی المنام انہ یخلق الله تعالیٰ علی صورتہ ملکا یحج عنہ کل عام وروی انہ قال لابی جعفر محمد بن علی باقر(ع)قد اتیتك مسترقا مستعبدا فقال قبلت واعتقہ وکتب لہ عھدا حکی الامیری انہ استعار قلما من الشام فعرض لہ سفر فسار الی انطاکیہ وکان قد نسی القلم معہ فذکرہ ھناك فرجع من انطاکیہ الی الشام ماشیا حتی ردہ القلم صاحبہ وما دو روی الخطیب انہ الستعار قلما بارض الشام فذھب الیہ صاحبہ فلما قدم مرو نظر فاذا ھو معہ فرجع الی ارض الشام حتی ردہ علی صاحبہ۔ 

(الکنی والالقاب: جلد 1 صفحہ 400)

صفحہ 2 از 5