المحاضرات مصنفہ حسین ابن محمد الراغب اصفہانی - ردِ رافضیت |…

المحاضرات مصنفہ حسین ابن محمد الراغب اصفہانی

  محمد علی

صفحہ 3 از 5

 ترجمہ: کہ عبداللہ بن مبارکؒ بہت بڑے عالم زاہد عارف اور محدث گزرے ہیں آپ تبع تابعین میں سے تھے خطیب نے تاریخ بغداد میں ان کا تذکرہ کیا ہے اور ان کی شان بیان کی ابو اسامہ سے مروی ہے کہ ابنِ مبارکؒ کا مقام محدثین کرام میں یوں جیسا کہ عوام میں امیر المومنینؓ کا ہوتا ہے ابنِ مہدی سے منقول ہے کہ ابنِ مبارکؒ کو انہوں نے سفیان ثوری سے بڑا عالم کہا ہے ابنِ عینیہ سے منقول ہے کہ میں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ابنِ مبارک کے معاملہ میں غور و فکر کیا تو مجھے یہی نظر آیا کہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حضورﷺ کی صحبت مبارکہ اور آپ کی معیت میں غزوات میں شرکت یہ دو باتیں باعث فضیلت ہیں اور عمار بن الحسن نے ابنِ مبارکؒ کی تعریف میں کہا ہے کہ جب مرو سے عبداللہ بن مبارکؒ نے رات کو سفر کیا تو یقیناً مرو سے اس کے نور و جمال نے سفر کیا جب ہر شہر میں اس کے جید علماء کا تذکرہ کیا جائے تو وہ ستارے ہیں اور عبداللہ بن مبارک ان کے چاند ہیں بیان کیا گیا کہ عبداللہ بن مبارک نے ایک دفعہ غریب علوی عورت کی مدد کی اس نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابن مبارک کی صورت میں ایک فرشتہ پیدا کیا جو ہر سال ان کی طرف سے حج کرتا ہے مروی ہے کہ انہوں نے سیدنا ابوجعفر محمد بن علی الباقر کو عرض کیا کہ میں آپ کے ہاں غلام اور نوکر بن کر حاضر ہوا ہوں آپ نے فرمایا کہ میں نے قبول کیا پھر آزاد کر دیا اور ایک عہد نامہ بھی تحریر فرما دیا کہ دمیری نے بیان کیا ہے کہ ابنِ مبارکؒ نے شام میں کسی سے قلم ادھار لیا پھر سفر درپیش ہوا اور انطاکیہ چلے آئے تھے وقت قلم دینا بھول گئے انطاکیہ پھنچ کر یاد آیا فوراً انطاکیہ سے پیدل چل کر شام آئے اور قلم اس کے مالک کے سپرد کیا اور واپس انطاکیہ آگئے خطیب نے روایت کیا کہ انہوں نے سرزمین شام میں کسی سے قلم ادھار لیا لیکن قلم دینا بھول گئے اور مرو میں جا کر دیکھا کہ وہی قلم ان کے پاس موجود ہے تو وہاں سے واپس شام تشریف لائے اور قلم والے کے قلم سپرد کر دیا۔

تہذیب التہذیب: قال ابو الخاتم عن اسحاق بن محمد بن ابراھیم المروزی نعی ابن المبارک الی سفیان بن عیینہ فقال لقد کان فقیھا عالما عابدا ذاھد شیخا شجاعا شاعر وقال فضیل بن عیاض اما انہ لم یخلف بعدہ مثلہ وقال ابو اسحاق الفرازی ابن المبارك امام المسلمین وقال سلام بن ابی مطیع ماخلف بالمشرق مثلہ وقال اسماعیل بن عیاش ما علی وجہ الارض مثل ابن المبارك ولا اعلم ان الله خلق خصلة من خصال الخیر الا وقد جعلھا فیہ وکان ینفق علی الفقراء فی کل سنة مائة الف درھم ومناقبہ وفضائلہ کثیرة جدا وقال الحسن بن عیسیٰ کان مستجاب الدعوات وقال العجلی ثقہ ثبت فی الحدیث رجل صالح وکان جامعا للعلم وقال ابن حبان فی الثقات کان فیہ خصال لم تجتمع فی احد من اھل العلم فی زمانہ فی الارض کلھا 

(تہذیب التہذیب: جلد 5صفحہ 385 تا 386)

 ترجمہ: ابو حاتم نے اسحاق بن محمد بن ابراہیم المرزوی سے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن مبارکؒ کے انتقال کی خبر سیدنا سفیان بن عیینہؓ کو پہنچی تو انہوں نے کہا کہ وہ بہت بڑا فقیہ عالم عابد زاہد شیخ اور بہادر اور شاعر تھا فضیل بن عیاض نے کہا کہ ابنِ مبارکؒ نے اپنے بعد اپنی مثل نہیں چھوڑی ابو اسحاق فرازی کا قول ہے کہ ابنِ مبارکؒ امام المسلمین تھے سلام بن ابی مطیع نے کہا ہے کہ مشرق میں انہوں نے اپنی مثل پیچھے نہ چھوڑی اسماعیل بن عیاش کا قول ہے کہ روئے زمین پر ابن مبارکؒ کی مثل نہیں ہے اور میرے علم میں ایسی کوئی خصلت نہیں ہے جو اچھی ہو اور ابن مبارک میں نہ پائی جاتی ہو آپ فقیروں پر ہر سال ایک لاکھ درہم تقسیم فرمایا کرتے تھے اور آپ کے فضائل و مناقب کے فہرست بہت طویل ہے حسن بن عیسیٰ نے آپ کو مستجاب الدعوات بتایا ہے عجلی نے کہا کہ آپ ثقہ اور حدیث میں پختہ تھے صالح مرد تھے علم کے جامع تھے ابنِ حبان نے انہیں ثقہ لوگوں میں شمار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان میں ایسی خصلتیں تھیں جو اس دور کے کسی عالم میں مجتمع نہ تھی۔

 قارئین کرام! عبداللہ بن مبارکؒ کی شخصیت کتب شیعہ اور سنی دونوں میں سے ہم نے واضح کی ہے اور سب اس پر متفق ہیں کہ آپ بڑے مجاہد زاہد اور علم کے بے کفار سمندر تھے آپ اپنے دور کے بے مثل علمی اخلاقی شخصیت تھے وہ مستجاب الدعوات تھے ہاں ہو سکتا ہے کہ اصفہانی نے اس لذت اور ثواب کو حاصل کے لیے عبداللہ بن مبارک کا نام لے دیا ہو کہ چونکہ اہلِ تشیع کے مسلک میں وطی فی دبر محبوب مشغلہ ہے اور اس لیے ان کے ہاں مرض اِبنہ کے مریض کی یہ شان ہو کے اس کے نزدیک ایک دفعہ مفعول بننے پر ایک فرشتہ پیدا ہو تو قیامت تک اس کی طرف حج کرتا رہے (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ) منہج الصادقین جلد دوم آخری صفحہ پر آپ متعہ کے فضائل اگر دیکھیں تو حیران و ششدر ہو جائیں گے کہ لکھا ہے کہ متعہ کرنے والا مرد اور عورت جب اس کی خاطر ایک دوسرے کو ہاتھ لگاتے ہیں تو ان کے ہاتھوں کے تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں پھر جب جماع ہوتا ہے تو ایک حرکت پر 70 ہزار نیکیاں ملتی ہیں اور یہ دونوں غسل کرتے ہیں تو پانی کے ہر قطرے پر ایک ایک فرشتے پیدا ہوتے ہیں جو قیامت تک ان دونوں کے لیے استغفار کرتا رہتا ہے جب متعہ کے غسل پر فرشتے پیدا ہوں تو مرض اِبتہ کے رسیا پر بھی ضرور پیدا ہونے چاہیں لیکن صرف اہلِ تشیع کے فاعل و مفعول کے فعل سے نہ کہ اہلِ سنت کے مسلک حقہ کے مطابق کیونکہ حرام بہرحال حرام ہے اور اس سے فرشتوں کی پیدائش کو منسلک کرنا بے دینی اور شریعت کا استہزاء ہے۔

 فاعتبروایااولی الابصار

صفحہ 3 از 5