المحاضرات مصنفہ حسین ابن محمد الراغب اصفہانی - ردِ رافضیت |…

المحاضرات مصنفہ حسین ابن محمد الراغب اصفہانی

  محمد علی

صفحہ 4 از 5

 جواب دوم: کے اِبن کا لغوی معنیٰ عیب اور عداوت آیا ہے عیب میں سے کوئی مخصوص عیب اس کا معنیٰ نہیں ہے اس لیے کہ جب عیوب کی مختلف اقسام ہیں تو ان سب کو چھوڑ کر صرف مفعولیت کا اس سے مراد لینا غلام حسین نجفی ایسے ذلیل ترین شخص کا ہی کام ہے حالانکہ اس نے جو محاضرات سے عبارات نقل کی ہے اس میں عبد اللہ بن مبارکؒ کے حوالے سے یہ بیان مذکور ہے کہ انہوں نے بادشاہ وقت سے کہا کہ کچھ لوگوں کو مجھ سے عداوت ہے لہٰذا مجھے چند محافظ دیے جائیں خبث باطنی کی وجہ سے نجفی نے معنیٰ کچھ یوں کیا کہ مجھے مردوں کی ضرورت ہے جو میری مدد کریں یعنی میرے ساتھ لواطت کریں میں ان کا مفعول بنوں بادشاہ نے کہا کہ میں اس بات کو پہلے سے ہی جانتا ہوں الخ جب لفظ اِبن کا معنیٰ مفعول بننا نہ معروف ہے نہ عام تو پھر دوسرے معنیٰ چھوڑ کر اسے ہی کو اختیار کرنا بدباطنی کی علامت نہ ہوگی تو اور کیا ہوگی لغت کی کتب میں اس لفظ کے معانی عیب اور عداوت کے ہیں چند حوالہ جات ملاحظہ ہوں:

 لسان العرب: وفی حدیث ابی ذر انہ دخل علی عثمان بن عفان فماسبہ ولا ابنہ ای ما عابہ ویقال بینھم ابن ای عداوۃ

(لسان العرب: جلد 13 صفحہ3 تا4 حروف نون مطبوعہ بیروت)  

 ترجمہ: ابوذر کی حدیث میں ہے کے وہ عثمان بن عفان کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے انہیں نا گالی دی اور نا عیب لگایا اور کہا جاتا ہے کہ ان کے درمیان ابن ہے یعنی عداوت ہے۔

 تاج العروس: وابنہ تعبینا ای عابہ فی وجھہ وعتیرہ ومنہ حدیث ابی ذر انہ دخل علی عثمان فاسبہ ولاابنہ الحقد والعداوۃ یقال بینھم ابن

( تاج العروس: جلد 9 صفحہ 116 باب النون) 

ترجمہ: کے اس نے دوسرے کو ابن یعنی عیب لگایا ہے یعنی کہ چہرہ میں عیب لگایا اور اسے شرم دلائی اسی سے ابوذر کی حدیث ہے اور وہ عثمان کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے انہیں نا گالی دی اور نا عیب لگایا حسد اور عداوت بھی اس کا معنیٰ ہے کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں کے درمیان ابن ہے یعنی عداوت ہے۔

المنجد: الابنة عیب کینہ لکڑی کی گرہ کہا جاتا ھے بینھم ابن ان کے درمیان دشمنیاں ہیں فی حسبہ ابن ان کے حسب میں بہت سے عیب ہیں

( المنجد :صفحہ 57 حرف ابنِ)

مجمع البحرین: والمابون المعیب والابنۃ العبب ولایوبن ولایعاب

 (مجمع البحرین جلد 6 صفحہ 197 لفظ اِبن متبوعہ تہران)

 ترجمہ: بون کا معنیٰ عیب لگایا ہوا ہے اور اِبنۃ عیب کو کہتے ہیں لایأبن یعنی لا یعیب (وہ عیب نہیں لگاتا) ہے 

تاج العروس: قال زمحشری ابنہ مدحہ وعد محاسنہ

 (تاج العروس جلد 9 صفحہِ 117)  

(فصل الھمزہ باب نون مطبوعہ مصر) 

ترجمہ: کے زمحشری نے کہا کہ اِبنة کا معنیٰ یہ ہے کہ اس نے فلاں کی تعریف کی اور اس کی خوبیاں شمار کی۔

 قارئین کرام! مختلف کتب لغت سے لفظ ابن کے معنیٰ آپ نے ملاحظہ فرمائے ہیں عیب کینہ لکڑی کی گرہ دشمنی اور تعریف سبھی اس کی لغوی معانی ہیں ان تمام معنیٰ میں سے تعریف کرنا اور خوبیاں شمار کرنا بھی ہے پھر عیب کی کوئی خاص قسم اس کے معنیٰ میں ملحوظ نہیں ہے ان حقائق کے پیش نظر نجفی نے اپنے مسلک کی کتاب کو بھی چھوڑ کر اور وحید الزمان غیر مقلد کے بیان کردہ معنیٰ کو لے بیٹھا اسے کون عقلمند تسلیم کرے گا وحید الزمان بھی تو اسی کا ساتھی عقیدہ شیعیت میں اس سے کم نہیں یار کوئی یار مل ہی جاتا ہے تو معلوم ہوا کہ جب لفظ ابن کے چند معنیٰ ہے تو اس کے معنیٰ متعین کرنے کے لیے عبارت کے سیاق و سباق کو دیکھنا پڑے گا جیسا کہ حدیث سیدنا ابوذرؓ میں اگر نجفی والا ہی معنیٰ کریں بینہم ابن کا یہی مذکورہ معنیٰ کیا جائے تو بالکل نجفی بھی تسلیم نہیں کرے گا عبداللہ بن مبارکؒ کے بارے میں لفظ اِبن سے کیا معنیٰ مراد ہے اس کے لیے بھی ہمیں سیاق و سباق کا سہارا لینا پڑے گا جیسے کہ لفظ صلوٰۃ کے مختلف معنیٰ ہیں دعا نماز درود شریف اور چوتڑوں کا حرکت دینا اور ان میں سے ہر ایک معنیٰ سیاق و سباق ہی سے ہی متعین کرنا پڑے گا حافظوا علی الصلوات کا معنیٰ نجفی یوں کرے گا۔  

 اے شیعو! نے چوتڑ ہلانے پر مداومت اور حفاظت اختیار کرو جبکہ صلوۃ کا معنی چوتڑ ہلانا یہاں نہیں کرے گا تو پھر سیاق و سباق کو ہی دیکھا جائے گا لفظ اِبن میں بھی یہاں قاعدہ جاری ہو گا۔

 جواب سوم: کے محاضرات کے جس سے نجفی نے عبارت نقل کی ہے اس کے بارے میں یہ سب کو معلوم ہے کہ عربی ادب کی کتاب ہے سیرت اور سوانخ نگاری اس کا موضوع نہیں جیسا کہ مدارس دینیہ میں عربی ادب سمجھنے کے بارے میں یہ سب کو معلوم ہے کہ سبعہ معلقہ وغیرہ کتب داخل نصاب ہیں ان میں ایک لفظ کو مختلف معانی میں استعمال کیا جانا بتایا ہے کہیں وہ مدح کے رنگ میں کہیں وہ ہجو کے رنگ میں اور کہیں مرثیہ کی صورت میں مذکور ہوتے ہیں ایک شاعر اگر کسی وقت کسی سے خوش ہو کر اس کے بارے میں تعریف کرتے ہوئے زمین و آسمان کے قلابے ملا ڈالتا ہے یا مذمت کرتے ہوئے اسے بدترین مخلوق سے بھی گھٹا دیتا ہے تو اس کا یہ طریقہ حقیقت شناسی کے لیے حجت نہیں بنتا بلکہ اگر وہ فصیح و بلیغ و شاعر ہے تو اس کی فصاحت و بلاغت سے اس کے کلام سے کچھ باتیں اخذ کی جاتی ہیں جو کہ کلام کی فصاحت و بلاغت کی دلیل بن سکتی ہیں سبھی جانتے ہیں کہ حضورﷺ کی کفار و مشرکین سے ہجو کی آپ نے سیدنا حسان بن ثابتؓ کو ان کی ہجویات کے جواب دینے کے لیے مقرر فرمایا تو کیا کفار نے ہجویات میں جو باتیں نبیﷺ کے بارے میں بکی ان کو بطور استشہاد پیش کرنا خود کفر سے کیا کم ہے اور صاحب محاضرات کے موضوعات کچھ یوں مذکور ہیں۔

 المھجو باخذ الرشوۃ المھجو من القضاۃ باللواطت المھجو منھم بالابنۃ والکشح

 یعنی رشوت لینے کی وجہ سے جن کی ہجو کی گئی ہے اسے قاضی کی جن کی لواطت کی وجہ سے ہجو کی گئی ہے وہ کہ جن کی عداوت اور کینہ سے ہجو کی گئی ہے اگر اِبن کا معنیٰ لواطت ہی ہوتا جیسا کہ نجفی نے کی ہے تو عبداللہ بن مبارکؒ پر اس کا الزام المھجو من القضاۃ باللواطت کے تحت آتا لیکن ایسا نہیں ہے اب ہم دیکھتے ہیں کہ ابنہ اور کشخ دونوں کو ایک ہی موضوع کے تحت لایا گیا ہے ان میں کون سی قدر مشترک ہے اور اِبن کا معنیٰ آپ پڑھ چکے ہیں کہ اب کشخ کے معنیٰ سنیے 

صفحہ 4 از 5