دانشوران قوم سے مشورہ طلبی اور ان کی عزت و توقیر
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے والیان ریاست کو سختی سے اس بات کا حکم دیا تھا کہ ان کی ریاستوں میں جو لوگ رائے دینے کے اہل ہوں اور دانشور ہوں، ان سے مشورہ لیتے رہیں۔ چنانچہ وہ لوگ اسے عملاً انجام دیتے تھے اور دانشوران قوم کی مجالس منعقد کیا کرتے تھے۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 80) حضرت عمرؓ نے حکم دے رکھا تھا کہ اہل الرائے سے برابر مشورہ لیتے رہو اور لوگوں کے مقام و مرتبہ کے لحاظ سے انہیں محترم جانو، آپؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے نام خط لکھا: ’’مجھے خبر ملی ہے کہ تم لوگوں کی بڑی بھیڑ جمع کرتے ہو۔ جب تم کو میرا یہ خط ملے تو اپنے پاس صرف ایسے لوگوں کی مجلس منعقد کرو جو شرافت و نجابت والے، قرآن کے پابند اور تقویٰ و دینداری کے خوگر ہوں، جب وہ لوگ پہلے اپنی جگہوں پر بیٹھ جائیں تب عوام الناس کو اجازت دو۔‘‘ اور ایک مرتبہ تحریر کیا کہ: ’’ہمیشہ سے ایسا ہوا ہے کہ معزز لوگ کئی لوگوں کے نمائندے ہوتے ہیں جو ان کی ضرورتیں پیش کرتے ہیں۔ لہٰذا تم ان معزز حضرات کو اکرام و عزت سے نوازو، کمزور مسلمان کے لیے یہی کافی ہے کہ فیصلہ اور تقسیم میں انصاف پا جائے۔‘‘
(نصیحۃ الملوک: الماوردی: صفحہ 207، موسوعۃ فقہ عمر: صفحہ 134)