مصنف عبدالرزاق مصنفہ عبدالرزاق - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مصنف عبدالرزاق مصنفہ عبدالرزاق

  محمد علی

صفحہ 1 از 5

مصنف عبدالرزاق مصنفہ عبدالرزاق

 محدث عالم اور مصنف جناب عبدالرزاق اہلِ سنت میں سے ہیں لیکن ان کی کتاب سے بعض عبارات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ان میں تشیع پائی جاتی تھی ہم نے ان کا تذکرہ بھی ضروری سمجھا تاکہ ان کی وہ عبارات جو شیعہ سنی کے مابین مختلف فیہ مسائل کے بارے میں اہلِ سنت کے بجائے اہلِ تشیع کے ترجمانی کرتی ہیں انہیں ہم اہلِ سنت پر حجت بنا کر پیش نہ کیے جا سکے ان کے ثبوت تشیع پر جانبین سے حوالہ جات پیش خدمت ہیں ملاحظہ فرمائیے۔

میزان الاعتدال: وقال ابنِ عدی حدث باحادیث من الفضائل لم یوافقہ علیھا احد ومثالب لغیرھم مناکیر ونسبوہ الی التشیع سمعت مخلدا الشعیری یقول کنت عند عبد الرزاق فذکر رجل معاویۃ فقال لا تقذر مجلسۃ بذکر ولد ابی سفیان

(میزان الاعتدال: جلد 2صفحہ127)

 ترجمہ: ابنِ عدی نے کہا کہ عبدالرزاق فضائل میں ایسی حدیث لاتا ہے جن میں کسی نے اس کی موافقت نہ کی اور دوسروں کی عیب جوئی میں مناقیر وارد کیں علماء نے اسے تشیع کی طرف منسوب کیا ہے کہ میں نے مخلد شعیری سے سنا کہتا تھا عبدالرزاق کے پاس میں بیٹھتا تھا کہ ایک شخص نے امیر معاویہ کا تذکرہ چھیڑا تو عبد الرزاق نے کہا کہ ہماری مجلس کو ابو سفیان کے بیٹے کے ذکر سے گندا نہ کرو۔

تہذیب التہذیب: وقال ابنِ عدی ولعبد الرزاق اصناف وحدیث کثیر وقد رحل الیہ ثقات المسلمین وامتھم وکتبوا عنہ الا انھم نسبوہ الی التشیع وذکرہ ابنِ حبان فی الثقات وقال کان ممن یخطئ اذا حدث من حفظہ علی تشیع فیہ 

(تہذیب التہذیب: جلد 6 صفحہ 313 تا 314)

 ترجمہ:  ابنِ عدی نے کہا کہ عبدالرزاق کی احادیث بہت ہیں اور کئی اصناف ہیں اور ان کی طرف مسلمان ثقہ لوگوں نے ان کے اماموں نے سفر کیا اور پھر اس سے احادیث و روایات لکھیں مگر انہوں نے اسے تشیع کی طرف منسوب کیا ہے ابنِ حبان نے انہیں ثقہ راویوں میں ذکر کیا اور کہا کہ جب اپنی یاداشت پر بھروسہ کرتے ہوئے حدیث بیان کرتا تو خطا کر جاتا اس میں تشیع پایا جاتا تھا۔

کامل ابنِ اثیر: فیھا توفی عبد الرزاق بن ھمام نِ الصنعانی المحدث وھو من المشائخ احمد بن حنبل وکان یتشیع

(کامل ابن اثیر: جلد 6 صفحہ 406 ذکر ثم دخلت سنۃ احدی عشرۃ ومائتین مطبوعہ بیروت ) 

ترجمہ: کے سن 211 ہجری میں عبدالرزاق محدث نے وفات پائی اور یہ امام احمد بن حنبل کے اساتذہ میں سے ہیں اور ان میں تشیع پائی جاتی تھی۔

تنقیح المقال: عبد الرزاق بن ھمام الیمانی الصنعانی من صنعاء الیمن عدہ الشیخ فی یجالہ من اصحاب الصادق وقال روی عنھما یعنی الباقر والصادق ویظھر من الروایة الطویلة الاتیة فی ترجمة محمد بن ابی بکر بن ھمام کونہ من علماء لشیعة بل کونہ فرید عصرہ فی العلم فلاحظھا البتة فھو من الحسان بلا شبھة وعن تقریب ابن حجر عبد الرزاق بن ھمام ابن نافع الحمیری مولاھم ابو بکر الصنعانی الحافظ مصنف شھیر عمی فی اخر عمر وفتغیر وکان یتشیع من التاسعة

(تنقیح المقال: جلد 2صفحہ 150 من ابواب العین مطبوعہ نجف اشرف)

 ترجمہ: عبدالرزاق بن ھمام الیمانی الصنعانی صنعانی یمن کا باشندہ تھا شیخ نے اسے اپنے رجال اصحاب صادق سے شمار کیا اور کہا کہ عبدالرزاق دونوں یعنی کہ سیدنا باقر اور جعفر صادق سے روایت کرتا ہے اور محمد بن ابی بکر بن ھمام کے ترجمہ میں ایک طوالت طویل روایت سے ظاہر ہوتا ہے عبدالرزاق شیعہ عالم تھا بلکہ اپنے دور کا علم یکتا تھا تو تجھے ملاحظہ کرنا چاہیے تو وہ واقعی نیک لوگوں میں سے تھا ابنِ حجر کی تصنیف تقریب کے حوالہ سے عبدالرزاق بن ھمام بن نافع الحمیری حافظ مشہور مصنف اپنی آخری عمر میں نابینا ہو گیا تھا اور اس کے حفظ میں کچھ تبدیلی ہوگئی اور اس میں نویں فرقے کی تشیع پائی جاتی تھی۔ 

الکنی والالقاب: قال ابو محمد ھارون بن موسیٰ حدثنا محمد بن ھمام قال حدثنا احمد بن مابندار قال اسلم ابی اول من اسلم من اھلہ وخرج من المجوسیة فکان یدعوا اخاہ سھیلا الی مذھبہ فیقول لہ یا اخی اعلم انك لا تاتونی فصحا ولکن الناس مختلفون فکل یدعی ان الحق فیہ ولست اختار ان ادخل فی شیئ الا علی یقین فمضت لذالك مدۃ حج سھیل فلما صدر من الحج قال لاخیہ ان الذی کنت تدعو الیہ ھو الحق قال وکیف علمت ذالك قال لقیت فی حجی عبدالرزاق بن ھمام الصنعانی وما رایت احد مثلہ فقلت لہ علی حلوۃ نحن قوم من اولاد الاعاجم وعھدنا بالدخول فی الاسلام قریب واری اھلہ مختلفین فی مذاھبھم وقد جعلك الله من العلم بمالانظیر لك فیہ فی عصرك مثل وارید ان اجعلك حجۃ فیما بینی وبین الله عزوجل فان رایت ان تبین لی ما ترضاہ لنفسك من الدین لاتبعك فیہ واقلدك فاظھرلی محبة آل رسول اللہ ﷺ وتعصیمھم والبراءۃ من عدوھم والقول بامامتھم

(الکنی والالقاب: جلد2 صفحہ 427 مطبوعہ تہران)

 ترجمہ: کہ محمد بن ھمام بیان کرتا ہے احمد بن مابندار نے کہا کہ ہمارے خاندان میں سب سے پہلے اسلام لانے والے میرے والد اور مجوسیت کو چھوڑ دیا تھا اور اپنے بھائی سہیل کو بھی اپنے مذہب کی طرف بلایا کرتے تھے کہتے تھے کہ بھائی تو میرے نصیحت قبول نہیں کرتا لیکن لوگ مختلف عقیدے رکھتے ہیں لہٰذا ہر ایک یہی بات کہتا ہے کہ حق میرے پاس ہی ہے اور میں بغیر یقین کسی چیز میں داخل نہیں ہوں گا اسی پر کافی عرصہ گزر گیا سہیل نے حج کیا پھر جب حج سے واپس آیا تو اپنے بھائی سے کہنے لگا کہ جس دین کی آپ دعوت دیتے تھے وہ حق ہے پوچھا کہ تجھے اب اس کا علم کیونکر ہوا کہنے لگا کہ دوران حج میری ملاقات عبدالرزاق بن ہمام الصنعائی سے ہوئی میں نے اس جیسا کوئی عالم نہیں دیکھا میں نے اسے تنہائی میں کہا کہ ہم عجمیوں کے اولاد ہیں اور ہمارا اسلام قبول کرنے کا زمانہ بہت قریب ہے اور میں اپنے گھر والوں کو مختلف مذاہب والے دیکھتا ہوں اللہ تعالیٰ نے تمہیں بے مثل علم عطا کر کیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اپنے اور اللہ کے درمیان تجھے حجت بناوں اگر تو اپنا پسندیدہ دین مجھے بتا دے تو میں تیری اتباع کروں گا اور تیری تقلید کروں گا تو اس نے میرے سامنے رسولﷺ کی محبت ظاہر کی اور ان کی تعظیم کا اظہار کیا ان کے دشمنوں سے بیزاری جتائی اور ان کی امامت کا قول کیا۔

صفحہ 1 از 5