مصنف عبدالرزاق مصنفہ عبدالرزاق - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مصنف عبدالرزاق مصنفہ عبدالرزاق

  محمد علی

صفحہ 2 از 5

 لمحہ فکریہ: عبدالرزاق صاحب مصنف کے تشیع پر اہلِ سنت شیعہ دونوں کا اتفاق ہے بلکہ شیعہ نے تو اسے اپنا عالم کہتے ہیں اور مذکورہ حوالہ جات سے اپنی تشیع کا خود اقرار کر رہا ہے دشمنان آلِ رسولﷺ سے بے زاری دراصل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تبرا بازی کے مترادف ہے کیونکہ شیعہ لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو آلِ رسولﷺ کا دشمن کہتے ہیں اور عبدالرزاق بھی آلِ رسولﷺ کے دشمنوں سے بیزاری کا عقیدہ ظاہر کر رہا ہے اس لیے ثابت ہوا ہے کہ اس میں شیعت موجود ہے اور پھر امامت کو آلِ رسولﷺ میں ہی منحصر کر دینا دراصل سیدنا ابوبکر صدیقؓ سیدنا عمر فاروقؓ سیدنا عثمان غنیؓ اور سیدنا امیر معاویہؓ کی خلافت و امامت کا انکار کرنا ہے مسئلہ امامت اور تبر بازی دو معرکۃ الآرا مسئلے ہیں جن میں عبدالرزاق اہلِ تشیع کی ہمنوائی کر رہا ہے بہرحال عقائد کے بارے میں کسی شخص کے متعلق فیصلہ کرنا کہ وہ شیعہ یا سنی ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ مختلف فی مسائل میں اس کا رویہ دیکھا جائے گا کہ وہ کس کی طرفداری کرتا ہے پھر جب شیعہ اسے اپنا عالم کہیں تو وہ ہم میں سے اپنے آدمی کو زیادہ بہتر جانتے ہیں اور جاننے میں کس نے کب اور کہاں کہاں تقیہ کا سہارا لیا ہے اور ہمارے ہاں تقیہ سرے سے ہی ناجائز ہے اس لیے ہم اگر کسی شخص سے اہلِ سنت کے مسلک کے موافق کچھ پاتے ہیں تو ہم اسے سنی سمجھتے ہیں اور یہی وجہ ہے عبدالرزاق صاحب مصنف کو ہمارے علماء نے سنی ہی شمار کی ہے لیکن جب اس کا تشیع متفق علیہ ہوا تو ایسی عبارات جو شیعیت کی ترجمانی کرتی ہوں وہ ہم اہلِ سنت پر حجت نہیں ہو سکتی۔ 

خلاصہ یہ کے عبد الرزاق صاحب مصنف کی وہ عبارت جو شیعہ علماء پیش کر کے اہلِ سنت پر حجت قائم کرنا چاہتے ہیں ان سے حجت قائم نہیں ہو سکتی۔

 فاعتبروا یا اولی الابصار

واقدی محمد ابنِ عمر کے حالات: جن لوگوں کو اہلِ تشیع کے مصنفین نے اہلِ سنت کا عالم کہہ کر پیش کیا ان میں سے ایک واقدی محمد ابنِ عمر بھی ھے اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کی تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے افضلیت خود واقدی کی عبارت سے پیش کر کے اسے شیعہ سنی کا متففہ عقیدہ بنایا جاتا ھے چنانچہ افضلیت سیدناعلی المرتضیٰؓ کے بارے میں واقدی کی روایت ملاحظہ ہو۔

 الکنی والالقاب: وھوالذی روی ان علیا علیہ السلام کان من معجزات النبیﷺ کالعصا لموسیٰ علیہ السلام واحیاءالموتی لعیسیٰ بن مریم علیہ السلام وغیر ذالک من الاخبار۔

(الکنی والالقاب: جلد سوم صفحہ 280 مطبوعہ تہران)

 ترجمہ:  واقدی وہی شخص ہے جس نے یہ روایت کی کہ علی نبیﷺ کا معجزہ تھے جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور عیسیٰ علیہ السلام کا مردے زندہ کرنا تھا اس کے علاوہ بھی واقدی نے بہت سی روایات ذکر کی روایت مذکورہ میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ  علی جب نبیﷺ کے معجزہ ہوئے تو وہ آپ کی صفت ذاتی بن گئے اور دوسرے تینوں خلفاء میں یہ خوبی موجود نہیں ہے لہٰذا علی کی موجودگی میں ان کی خلافت و امامت درست نہ ہوئی اور یہ تینوں غاصب ٹھہرے مختصر یہ کہ ہمیں تسلیم کے واقدی کو ہمارے اسماء الرجال کی کتابوں نے سنی کہا لیکن اس کی روایات اس لیے حجت نہیں ہیں کہ اسے سخت مجروح کہا گیا اور اسماء الرجال سے اس کا ثبوت ملاحظہ ہو۔

 تہذیب التہذیب: وقال البخاری الواقدی مدنی سکن بغداد متروک الحدیث ترکہ احمد وابن المبارک وابن نمیر واسماعیل بن ذکریا وقال فی موضع اخر کذبہ احمد وقال معاویہ بن صالح قال لی واحمدبن حنبل الواقدی کذاب وقال لی یحییٰ بن معین ضعیف وقال مرة لیس بشئی وقال مرة کان یقلب حدیث یونس بغیرہ عن معمر لیس بثقة وقال مرة لیس بشئی, قال الشافعی فیما اسندہ البیہقی کتب الواقدی کلھا کذاب وقال النسائی فی الضعفا الکذابون المعروفون بالکذب علی رسول اللہﷺ اربعة الواقدی بالمدینة وقال النووی فی شرح المھذب فی کتاب النسنل منہ الواقدی ضعیف باتفاقھم وقال الذھبی فی میزان استقرا الاجماع علی وھن الواقدی

(تہذیب التہذیب: صفحہ 364 تا 365 مطبوعہ بیروت جدید)

 ترجمہ: کہ امام بخاری نے واقدی کو متروک الحدیث کہا امام احمد نے اسے ترک کیا اور ابنِ المبارک، ابنِ نمیر اور اسماعیل بن زکریا نے بھی اسے ترک کیا ایک اور ایک جگہ کہا اِمام احمد نے اسے جھوٹا کہا معاویہ بن صالح بیان کرتے ہیں کہ مجھے احمد بن حنبلؒ نے بتایا کہ واقدی کذاب ہے یحییٰ بن معین نے مجھے بتایا کہ واقدی ضعیف ہے ایک مرتبہ اس سے لیس بشئ کہا ہے کہ واقدی یونس کی حدیث کو الٹ پلٹ کر دیتا تھا اور معمر کی روایت میں تغیر کرتا تھا یہ ثقہ نہیں ہے اِمام شافعی سے بہقی نے بیان کیا کہ واقدی کی تمام کتابیں جھوٹ کا پلندہ ہیں اِمام نسائی الضعفاء میں کہا ان معروف جھوٹے چار آدمیوں میں سے ایک واقدی ہے جنہوں نے نبیﷺ پر جھوٹ باندھا اِمام نووی نے شرح المذہب میں اسے ضعیف کہا اور اس کے ضعف پر اتفاق نقل کیا اِمام ذھبی نے میزان میں کہا کہ واقدی کے کمزور ہونے پراجماع پختہ ہو چکا ہے۔

قارئین کرام! محمد بن عمر المعروف الواقدی کے متعلق کتب اسماء الرجال کے حوالہ جات سے آپ کو بخوبی علم ہو گیا ہوگا کہ ایسے شخص کی عبارات کو اہلِ سنت کے خلاف بطور حجت پیش کرنا کس قدر ناانصافی ہے اور پھر الواقدی کی عبارت کو القنی والقاب سے نقل کیا گیا جو خود مسلک شیعہ کی ترجمان کتاب ہے اس کا حوالہ بھی غیر معتبر ہوا جبکہ الواقدی کے اہلِ تشیع نے اپنا عالم اور امام تسلیم کیا تو پھر رہی کسر سہی کسر بھی ختم ہو گئی ملاحظہ ہو۔

 الکنی والالقاب: وقال ابنِ الندیم ان الواقدی کان یتشیع حسن المذھب یلزم التقیة وھوالذی روی ان علیا علیہ السلام کان من معجزات النبیﷺ کالعصا لموسیٰ علیہ السلام واحیاء الموتی لعیسیٰ علیہ السلام بن مریم علیہ السلام وغیر ذالک من الاخبار

 (1: الکنی والالقاب جلد سوم صفحہ 280 مطبوعہ تہران)

(2: اعیان الشیعہ جلد اول صفحہ 154 جلد 10 صفحہ 30)

(3: تنقیح المقال جلد سوم صفحہ 166)

صفحہ 2 از 5