مصنف عبدالرزاق مصنفہ عبدالرزاق - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مصنف عبدالرزاق مصنفہ عبدالرزاق

  محمد علی

صفحہ 3 از 5

 ترجمہ: ابنِ ندیم نے کہا کہ الواقدی میں تشیع تھا مذہب کا اچھا تھا اور تقیہ کو ضروری سمجھتا تھا یہ وہی شخص ہے جس نے روایت کی کہ علی  نبیﷺ کا معجزہ ہیں جیسا کہ موسیؑ کا عصا اور عیسیؑ کا مردے زندہ کرنا تھا اس کے علاوہ بھی کچھ خبریں ایسی ہی ہیں۔

 تنقیح المقال: واقول بعد کون الرجل شیعیا عالما ینبغی عد حدیثہ فی الحسن وتولیة القضاء لا یدل علی فسقہ لامکان کونہ بعد حسن مذھبہ تولی باذن من الرضاء۔

 (تنقیح المقال: جلد سوم صفحہ 166 باب محمد من ابواب المیم مطبوعہ نجف اشرف)

 ترجمہ: میں کہتا ہوں کہ جب کہ یہ ثابت ہے کہ الواقدی شیعہ عالم تھا تو اس کی حدیث کو حسن شمار کرنا چاہیے عہدہ قضاء قبول کرنا اس کے فاسق ہونے پر دلالت نہیں کرتا کیونکہ اس کے اچھے مذہب کے ہوتے ہوئے ممکن ہے کہ یہ امام رضا کی اجازت سے قاضی بنا ہو۔

 لمحہ فکریہ: گزشتہ حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ الواقدی کو اگر سنی تسلیم کر لیا جائے تو سخت مجروح آدمی ہے لہٰذا اس کی روایات قابل حجت نہ ہوں گی اور اگر یہ دیکھا جائے کہ خود شیعوں نے اسے شیعہ عالم قرار دیا اور تقیہ کرنا اس کا لازمہ ثابت کیا تو پھر ہو سکتا ہے کہ اس نے سنیت کو بطور تقیہ اختیار کیا ہو اور قرائن اسی کی تصدیق و تائید کرتے ہیں کیونکہ تقیہ باز شخص بہتر سمجھتا ہے کہ لہٰذا اس اعتبار کے پیش نظر بھی اس کی روایات قطعاً اہلِ سنت پر حجت نہیں ہوں گی۔

 محمد بن اسحاق بن یسار کے حالات: محمد بن اسحاق بن یسار کا بھی محدثین اہلِ سنت میں شمار کیا جاتا ہے لیکن متفق علیہ راویوں میں سے نہیں ہے اور اہلِ تشیع اس کی مرویات کو بھی پیش کر کے حجیت کا کام لیتے ہیں خاص کر مروجہ ماتم کے جائز ہونے پر اس کی مندرجہ ذیل روایات پیش کی جاتی ہیں۔

 سیرت ابنِ ہشام: قال ابن اسحاق وحدثنی یحيیٰ بن عباد بن عبداللہ بن الزبیر عن ابیہ عباد قال سمعت عائشة تقول مات رسول اللہ بین سحری ونحری وفی دولتی لم اظلم فیہ احدا فمن سفھی وحدائت منی ان رسول اللہ قبض وھو فی حجری ثم وضعت رأسہ علی وسادة وقمت التدم مع النساء واضرب وجہی

(سیرت ابن ہشام: جلد چہارم صفحہ 1513)

 ترجمہ: ابنِ اسحاق نے کہا ہے کہ (بحذف الاسناد) میں نے عائشہ سے سنا ہے کہ نبیﷺ کا وصال میری ٹھوڑی اور میرے سینہ کے درمیان ہوا آپ آخری وقت میرے ہی گھر میں تھے میں نے کیسی کے ساتھ ظلم نہیں کیا میری سفاہت اور لڑکپن کی وجہ تھی کے آپﷺ کا میری گود میں انتقال ہوا پھر بعد انتقال میں نے آپﷺ کا سر انور ایک تکیے پر رکھ دیا اور عورتوں کو بلا کر میں نے ان کے ساتھ اپنا چہرہ پیٹا یہ اور اس قسم کی دوسری روایت سے اہلِ تشیع مروجہ ماتم کو اہلِ سنت کی کتب سے ثابت ہونا بیان کرتے ہیں کہ ہم نے اس اعتراض کا تفصیلی جواب تحریر کر دیا ہے خلاصتاً یہ ہے کہ ابنِ اسحاق کو اگر اہلِ سنت کا عالم تسلیم کر بھی لیا جائے تو پھر بھی بالاتفاق ثقہ راوی نہیں ہے بلکہ سخت مجروح ہے۔

تہذیب التہذیب: وقال مالك دجال من الدجلۃ وقال الزبیری عن الدراوردی وجلد ابن اسحاق یعنی فی القدر وقال الجوزجانی الناس یشتھون حدیثہ وکان یرمی بغیر نوع من البدع وقال موسیٰ بن ھارون سمعت محمد بن عبد اللہ بن نمیر یقول کان محمد نب اسحاق یرمی بالقدر وقال احمد بن حنبل کان ابنِ اسحاق یدلس سمعت ابا عبد اللہ یقول ابن اسحاق لیس بحجۃ وقال میمونی عن ابنِ معین ضعیف قال النسائی لیس 

(تہذیب التہذیب: جلد 9 صفحہ 41 تا 44) 

 ترجمہ: امام مالک نے ابن اسحاق کو دجال کہا زبیری نے دراوردی سے نقل کیے ہے کہ ابنِ اسحاق کو قدریہ ہونے پر کوڑے مارے گئے جوزجانی نے کہا کہ لوگ ابنِ اسحاق کی احادیث کی خواہش کیا کرتے تھے اور اس میں بدعت کی کوئی نوع باقی نہ تھی موسیٰ بن ہارون نے کہا کہ میں نے محمد بن عبداللہ بن نمیر کو یہ کہتے سنا کہ محمد ابنِ اسحاق قدریہ ہونے میں مطعون تھا اور حنبل بن اسحاق نے کہا میں نے عبداللہ سے سنا کہ ابنِ اسحاق لیس بشئی ہے اور ابنِ معین سے میمونی بیان کرتا ہے کہ ابنِ اسحاق ضعیف ہے اور نسائی نے بھی لیس بقوی کہا ہے۔

میزان الاعتدال: وقال ابو داؤدقدری معتزلی وقال سلیمان التیمی کذاب وقال وھیب سمعت ھشام بن عروة یقول کذاب

(میزان الاعتدال: جلد سوم صفحہ 21 حرف المیم مطبوعہ مصر قدیم)

ترجمہ: ابو داؤد نے کہا کہ ابنِ اسحاق قدری معتزلی ہے سلیمان تیمی نے اسے کذاب کہا وہیب نے بیان کیا ہے کہ ہشام بن عروہ اسے کذاب کہتے تھے۔

 قارئین کرام! کتاب اسماء الرجال اہلِ سنت سے آپ نے محمد بن اسحاق کا مقام مرتبہ معلوم کیا ہے کذاب تک کہا گیا بہرحال سخت تنقید کا نشانہ بنانا چاہیے اس کی وجہ کوئی بھی ہے اس لیے اس کی مروجہ ماتم کے ثبوت پر سیدہ عائشہؓ کے مذکور روایت سے استدلال درست نہیں ہو سکتا علاوہ ازیں اگرچہ کتب اہلِ سنت میں سے بعض نے اسے صدوق کہا ہے لیکن یہ متفق علیہ نہیں ہے ہماری کتب یہ ثابت بھی کرتی ہیں کہ محمد بن اسحاق میں تشیع پایا جاتا تھا۔

تقریب التہذیب: محمد بن اسحاق یسار ابوبکر المطلبی مولاھم المدنی تنزیل العراق امام المغازی صدوق یدلس ورمی بالتشیع والقدر 

(تقریب التہدیب جلد دوم صفحہ 144 مطبوعہ بیروت)

ترجمہ: کہ محمد بن اسحاق یسار المطلبی المدنی عراق میں رہائش پزید ہوا اِمام المغازی تھا صدوق تھا اور تدریس کیا کرتا تھا علاوہ ازیں اور قدریہ ہونے کی بھی اس کی طرف نسبت کی گئی ہے یاد رہے محمد بن اسحاق میں وجوہ تشیع کی وجہ سے اس کی وہ روایات جو مسلک کے اہلِ سنت کے خلاف ہیں وہ ہم اہلِ سنت پر حجت نہیں ہو سکتیں پھر خود شیعوں نے اسے اپنا امام تسلیم بھی کیا ہے ثبوت ملاحظہ ہو۔

 اعیان الشیعہ: محمد اسحاق بن یسار المدنی صاحب الیسیروالمغازی نص علی تشیعہ ابن حجر فی التقریب وذکرہ اصحابنا فی علماء الشیعہ وقال العلماء انہ اعلم الناس بالمغازی واحفظھم واعرفھم بفنون العلم 

(اعیان الشیعہ: جلد اول صفحہ 153 ذکر طبقات المؤرخین من الشیعة مطبوعہ بیروت لبنان جدید) 

 ترجمہ: محمد بن اسحاق صاحب الیسیر والمغازی کے تشیع پر ابنِ حجر نے تقریب میں نص وارد کی ہے اور اسے ہمارے شیعہ احباب نے علمائے شیعہ میں سے ذکر کیا ہے کہ مغازی کے موضوع کا یہ سب سے بڑا حافظ عالم اور فنون کا ماہر تھا۔

صفحہ 3 از 5