مصنف عبدالرزاق مصنفہ عبدالرزاق - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مصنف عبدالرزاق مصنفہ عبدالرزاق

  محمد علی

صفحہ 4 از 5

 تنقیح المقال: محمد بن اسحاق بن یسار امدنی عدہ الشیح فی رجالہ من اصحاب الصادق وعلی کل حال فظاھرالشیخ ان الرجل امامی ونص علیہ ابن حجر فی التقریب حیث قال محمد بن اسحاق بن یسار ابوبکر المطلبی مولاھم المدنی نزیل العراق امام صدوق یدلس ورمی بالتشیع والقدر من صغار الخامسة 

(تنقیح المقال جلد دوم من ابواب المیم: صفحہ 79 مطبوعہ تہران)

 ترجمہ: محمد بن اسحاق مدنی کو شیخ نے اپنے ان رجال میں سے شمار کیا ہے وہ جعفر کے اصحاب میں سے تھے وہ جعفر صادق کے اس خواب میں سے تھے بہرحال شیخ نے اس کے امامی ہونے کی تصریح کر دی ہے اور ابنِ حجر نے تقریب میں اس کے متعلق لکھا کہ اِمام صدوق اور تدلیس کرنے والا تھا تشیع اور قدریہ کا بھی اس پر الزام ہے۔

 خلاصہ: محمد بن اسحاق صاحب المغازی کو اگر اہلِ سنت قرار دیا جائے تو بوجہ سخت مجروح ہونے کے اس کی روایات قابل احتجاج نہیں اور جب اس کے تشیع کو دیکھا جائے تو جسے اہلِ سنت اور اہلِ تشیع دونوں نے تسلیم کیا ہےتو پھر اس کی ایسی روایات جو مسلک اہلِ سنت کے خلاف ہیں وہ اہلِ سنت پر حجیت کا کام نہیں دے سکتیں۔ لہٰذا سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے ماتم کی روایات سے اہلِ سنت کے ہاں جواز ماتم پر استدلال پیش کرنا بعید ازعقل ہے علاوہ ازیں مائی صاحبہؓ جب اسے اپنے بچپن کی غلطی خود تسلیم کر رہی ہیں تو پھر سرے سے ہی استدلال ھباء منشورہ ہو گیا۔

 فاعتبروا یا اولی الابصار

 شیعہ مجتہد ابو حنیفہ نعمان کے حالات: ابو حنیفہ نعمان نامی شیعہ عالم کا ذکر ہم نے اس لیے ضروری سمجھا تاکہ اہلِ سنت کے امام جناب ابوحنیفہ نعمان بن ثابت اور اسی نام و کنیت کے شیعہ عالم کے درمیان امتیاز ہو جائے اور اسی شیعہ ابوحنیفہ کی ایک فقہی عبارت سے یہ وہم دور ہو جائے کہ اس کا قائل ابوحنیفہ نعمان بن ثابت نہیں بلکہ ابو حنیفہ شیعی ہے اگرچہ یہ مسئلہ فقہ جعفریہ کتاب النکاح میں ہم نے تحریر کر دیا ہے لیکن شیعہ سنی مصنفین کے امتیاز کے پیشِ نظر اسے مستقل ذکر کرنا ضروری سمجھا۔ لف حریر مشہور مسئلہ کے بارے میں اس شیعی ابوحنیفہ کی عبارت درج ذیل ہے 

ذخیرۃ المعاد:

 سوال: اگر شخص آلت خود رابہ پچید بدست مال حریر و نحوآں کی مماست حاصل نشود و در زماں جماع وہم چنین مماست حاصل نہ شود بجہت کشادی فرج یا باریکی آلت آیا غسل واجب است یانازنہ

 جواب: لزوم غسل خالی از قوت نسیت واز ابوحنیفہ نقل شدہ کے جماع در فرج محارم با الف حریر جائز است 

(ذخیرۃ المعاد صفحہ 95 از شیخ العابدین باب طہارہ غسل جنابت مطبوعہ لکھنو)

  سوال: اگر کوئی شخص اپنے ذکر کو ریشمی رومال سے یا اس کی مثل کسی اور چیز سے لپیٹ لے اور جس کی وجہ سے مرد عورت کا شرمگاہ میں بوقت جماع مس نہ ہو پایا جائے اسی طرح عورت کی شرمگاہ کشادہ ہونے یا مرد کا ذکر بہت باریک ہونے کی صورت میں مس نہ ہو پائے تو کیا غسل واجب ہے یا نہیں؟

 جواب: غسل کا لازم ہونا مضبوط دکھائی دیتا ہے اور ابوحنیفہ سے منقول ہے کہ محارم کے ساتھ ریشم لپیٹ کر جماع کرنا جائز ھے ذخیرۃ المعاد کی مذکورہ عبارت پر محشی نے لف حریر کے مسئلہ کو جو ابوحنیفہ کے نام سے لکھا گیا ہے اسے اہلِ سنت کے امام ابوحنیفہ نعمان بن ثابت کی طرف منسوب کرکے اپنے شیعہ مذھب میں اس کی تردید کا قول کیا ہے محشی کی عبارت ملاحظہ ہو۔

 حاشیہ ذخیرة المعاد: دستخطے  علماء لکھنو دریں باب دارم کہ جناب مفتی سید محمد عباس قبلہ می نویسند کے ایلاج ذکر در فرج زن دخول وجماع است اگرچہ ذکر ملفوف باشدد ابوحنیفہ امام اعظم سنیاں است درشیعہ قابل ایں قول عالم ایں کنیت غیر معلوم مدعی باید اثبات کند

 واللہ اعلم

(مذکورہ عبارت پر حاشیہ ذخیرۃ المعاد: صفحہ 95 مطبوعہ لکھنو )

 ترجمہ: کہ میرے پاس لکھنؤ کے علماء کے دستخط ہیں کہ جناب مفتی سید محمد عباس قبلہ نے لکھا ہے کہ مرد کا آلہ تناسل عورت کے فرج میں داخل ھو جانا دخول جماع کہلاتا ہے اگرچہ مرد کا آلہ تناسل کسی کپڑے وغیرہ میں لپٹا ہوا ہی کیوں نہ ہو اور ابوحنیفہ سنیوں کا اِمام اعظم ہے شیعہ میں یہ قول اور اس کنیت کاعالم ناقابل اعتبار ہے مدعی کو چاہئے کہ ہمارے کسی شیعہ عالم کی یہ کنیت ثابت کر دکھاۓ۔

 واللہ اعلم

 ابو حنیفہ سنی اور ابو حنیفہ شیعہ کا تعارف اور فرق

الکنی والالقاب: نعمان بن ثابت بن زوطی بن ماہ مولی تیم اللہ بن ثعلبہ الکوفی احد الائمة والاربعةالسنیة صاحب الرای والقیاس والفتاوی المعروفۃ الفقھیة۔

(الکنی والالقاب: جلد اول صفحہ 53 مطبوعہ تہران)

 ترجمہ: نعمان بن ثابت بن زوطی بن ماہ الکوفی اہلِ سنت کے چار اماموں میں سے ایک ہوئے ہیں رائے قیاس اور فقہی فتاویٰ میں معروف شخصیت ہیں۔

مجالس المومنین: در تاریخ ابن خلکان وابن کثیر شامی مسطوراست کی اویکے از فضلائے مشارالیہ بدودر علم فقہ و دین و بزرگی بمرتبہ سیدہ بود کے مزیدی برآں متصور نابود ودر اصل مالکی مذہب بود بعد ازآں بمذہب امامیہ انتقال نمود و اور امصنفات بسیاراست مانند کتاب اختلاف اصول المذاہب و کتاب اختیار در فقہ کتاب الدعوۃ للعبیدین وازا بن زولاق روایت نمودہ کے نعمان بن محمد القاضی درغایت فضل وازاھل قرآن وعالم بود بوجوہ فقیہ اختلاف فقہائے معارف بود بوجوہ فقہ و احتلاف فقہاء وعارف بود بوجوہ لغت شعر تاریخ ونجیلہ عقل و انصاف آراستہ بوددرمناقب اہلِ بیت چندیں ہزار ورق تالیف نمودہ بود بہ نیکو ترین تالیف ولطیف ترین سجعی ودر مثالب اعداء مخالفان ایشان نیز کتاب تالیف نمودہ واورا کتابہا است کہ درآنجا ودبر ابوحنیفہ کوفی و مالک وشافعی و ابنِ شریح وغیر ایشاں ازمخالفان نمودہ واز مصنفات او کتاب احتلاف فقہاء است درآنجا نصرت مذہب اہلِ بیت نمودہ واورا قصیدہ ایست درعلم فقہ وابوحنیفہ مذکور ہمراہ معزدین اللہ خلیفہ فائمی ازمغرب مصر آمد درماہ رجب سنة ثلاث وستین وثلثمائة درمصروفات یافت

( مجالس المومنین: جلد اول صفحہ 538 تا 539 ابوحنیفہ نعمان بن محمد مطبوع و تہران خیابان )

(الکنی والالقاب: جلد اول صفحہ 53 مطبوعہ تہران)

 ترجمہ: نعمان بن ثابت بن زوطی بن ماہ الکوفی اہلِ سنت کے چار اماموں میں سے ایک ہوئے ہیں رائے قیاس اور فقہی فتاویٰ میں معروف شخصیت ہیں۔

صفحہ 4 از 5