مصنف عبدالرزاق مصنفہ عبدالرزاق - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مصنف عبدالرزاق مصنفہ عبدالرزاق

  محمد علی

صفحہ 5 از 5

مجالس المؤمنین: در تاریخ ابن خلکان وابن کثیر شامی مسطوراست کی اویکے از فضلائے مشارالیہ بدودر علم فقہ و دین و بزرگی بمرتبہ سیدہ بود کے مزیدی برآں متصور نابود ودر اصل مالکی مذہب بود بعد ازآں بمذہب امامیہ انتقال نمود و اور امصنفات بسیاراست مانند کتاب اختلاف اصول المذاہب و کتاب اختیار در فقہ کتاب الدعوۃ للعبیدین وازا بن زولاق روایت نمودہ کے نعمان بن محمد القاضی درغایت فضل وازاھل قرآن وعالم بود بوجوہ فقیہ اختلاف فقہائے معارف بود بوجوہ فقہ و احتلاف فقہاء وعارف بود بوجوہ لغت شعر تاریخ ونجیلہ عقل و انصاف آراستہ بوددرمناقب اہلِ بیت چندیں ہزار ورق تالیف نمودہ بود بہ نیکو ترین تالیف ولطیف ترین سجعی ودر مثالب اعداء مخالفان ایشان نیز کتاب تالیف نمودہ واورا کتابہا است کہ درآنجا ودبر ابوحنیفہ کوفی و مالک وشافعی و ابنِ شریح وغیر ایشاں ازمخالفان نمودہ واز مصنفات او کتاب احتلاف فقہاء است درآنجا نصرت مذہب اہلِ بیت نمودہ واورا قصیدہ ایست درعلم فقہ وابوحنیفہ مذکور ہمراہ معزدین اللہ خلیفہ فائمی ازمغرب مصر آمد درماہ رجب سنة ثلاث وستین وثلثمائة درمصروفات یافت

( مجالس المؤمنین: جلد اول صفحہ 538 تا 539 ابوحنیفہ نعمان بن محمد مطبوع و تہران خیابان )

(الکنی والالقاب: جلد اول صفحہ 57)

 ترجمہ: تاریخ ابنِ خلکان اور ابنِ کثیر شامی میں تحریر ہے کہ ابوحنیفہ شیعہ مشہور و معروف زمانہ آدمی تھا علم فقہ اور دین و بزرگی میں ایسے مرتبہ و مقام پر فائز تھا اس سے زیادہ کا تصور نہیں ہو سکتا دراصل مالکی مذہب تھا اور پھر اس کے بعد مذہب امامیہ کی طرف منتقل ہو گیا اس کی بہت سی تصنیفات ہیں مثلاً کتاب اختلاف اصول المذاہب کتاب اختیار در فقہ اور کتاب الدعوة للعبیدین ابنِ زولاق سے مروی ہے ایک نعمان بن محمد قاضی بہت بڑا فاضل اور قرآن و علوم قرآن کا بہت بڑا عالم تھا اور وجوہ فقہ کا بہت جاننے والا تھا لغت شعر اور تاریخ کا عارف تھا عقل و انصاف کے زیور سے آراستہ تھا اہلِ بیت کے مناقب میں کئی ہزار صفحات تحریر کیے اس کی تالیفات بہت اچھی اور ان کی عبارات بڑی مستجع تھی اہلِ بیت کے دشمنوں کی چیرہ دستیاں اور مظالم پر اس کی تصنیفات ہیں اور اس کی کچھ تصنیفات میں اِمام ابوحنیفہؒ کوفی اور اِمام مالکؒ اور اِمام شافعیؒ قاضی شریخ وغیرہ اکابر اہلِ سنت جو اس کے مخالف ہیں ان کا رد بلیغ لکھا ہے اس کی تصنیفات میں سے اختلاف فقہاء نامی کتاب ہے اس میں اس نے اہلِ بیت کے مذہب کی پر زور حمایت کی اور علم فقہ میں اس کا ایک قصیدہ بھی ہے یہ ابوحنیفہ شیعی مذہب معز الدین خلیفہ فاطمی کے ساتھ مغرب مصر میں آیا اور جب 363 ہجری میں وہیں انتقال کر گیا۔

اعیان الشیعہ: القاضی ابوحنیفہ النعمان بن محمد المصری قاضی الفاطمتین قال ابن خلکان کان مالکیا ثم انتقل الی مذھب الامامیة لہ کتاب الاخبار فی الفقہ وکتاب الاقتصار فی الفقہ ذکرہ الامیر مختار السبیحی فی تاریخہ فقال کان فی الفقہ والدین والنیل علی مالا مزید علیہ وقال ابن زولاق کان فی غایة الفصل عالما بوجوہ الفقہ ومن مؤلفاتہ فی الحدیث کتاب دعائم الاسلام

(اعیان الشیعہ: جلد اول صفحہ 144مطبوعہ بیروت)

ترجمہ: ابوحنیفہ نعمان بن محمد مصری فاطمی عقیدہ والوں کا قاضی تھا ابنِ خلکان نے کہا کہ یہ پہلے مالکی مذہب تھا پھر اسے چھوڑ کر امامیہ المذہب ہو گیا اس کی کتاب الاخبار اور دوسری الاقتصار فقہ کے موضوع پر ہیں امیر مختار نے اپنی تاریخ میں اس کا ذکر کیا ہے کہ فقہ دین اور عقل و خرز میں آخری درجہ پر فائز تھا ابنِ زولاق کا کہنا ہے کے بہت بڑا عالم اور وجوہ فقہ کا ماہر تھا اور حائم الاسلام نامی کتاب فن حدیث پر اس نے لکھا ہے۔

 لمحہ فکریہ: ذخیرۃ المعاد جو شیعہ مسلک کی کتاب ہے اس میں ابوحنیفہ کنیت والے شخص کا ایک فقہی مسئلہ لکھا تھا جسے لف حریر کہا جاتا ہے اس ابوحنیفہ کنیت والے شخص کو مذکورہ کتاب کی حاشیہ لکھنے والے نے بڑی دلیری سے یہ ثابت کر دیا تھا کہ یہ ابوحنیفہ اہلِ سنت کا اِمام اعظمؒ ہے اور لف حریر اس کا مسئلہ ہے ہم اہلِ تشیع کا نہ یہ مسلک ہے نہ ہی اس کنیت کا کوئی آدمی ہمارا اندر ہوا ہے الخ یہ محشی کی عیاری اور فریب دینے کی کوشش تھی خود شیعہ مصنفین کو تسلیم کہ ایک ابوحنیفہ ہمارا مجتہد بھی ہے جو 

  1.   ابوحنیفہ نعمان بن محمد مصری ہے جبکہ اہلِ سنت کا اِمام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابتؒ کوفی ہے
  2.   یہ فاطمی مسلک کے لوگوں کا قاضی تھا جبکہ اِمام اعظمؒ نے عہدہ قضا قبول ہی نہیں کیا تھا۔
  3.  یہ پہلے مالکی تھا پھر امامی ہوگیا جبکہ اِمام اعظمؒ خود ائمہ اربعہ میں سے ایک مجتہد مطلق ہوئے ہیں۔ 
  4.  اس نے مذہب امامیہ کی تائید اور سنی ائمہ ابوحنیفہؒ کوفی اِمام مالکؒ اِمام شافعیؒ وغیرہ کی بھرپور تردید کی۔
  5.  کے یہ فاطمی خلیفہ معزدین کے ساتھ مصر آیا اور 363 ھ میں فوت ہوا جبکہ امام اعظم ابوحنیفہؒ نہ فاطمی حلیفہ کے ساتھ مصر آئے اور نہ ہی ان کا وصال مذکورہ سن میں ہوا بلکہ وہ اس سے پہلے انتقال کر گئے تھے لہٰذا ان حقائق کے پیش نظر ذخیرۃ المعاد میں جس ابوحنیفہ کی بات لکھی گئی ہے وہ شیعی ابوحنیفہ ہے اور اس کے الفاظ کی روشنی میں ہر شیعہ اپنی ماں بہن بیٹی وغیرہ سے اگر اس طرح جماع کرے کہ اپنے ذکر پر کوئی ریشمی کپڑا وغیرہ لپیٹا ہوا ہو تو وہ جائز ہے یہ شیعوں کا مسئلہ ایک شیعہ مجتہد اور ہر علم و فن کا ماہر لکھ رہا ہے جس کے بقول شیعہ اپنے زمانے میں نظیر نہ تھی اب شرم کی کون سی بات ہے بھلا ہو تمہارے ابوحنیفہ کا آسان اور کم خرچ وظیفہ بن گیا ہے خواہ مخواہ اسے سنی ابوحنیفہ کی طرف منسوب کر رہے ہو اور اپنے عالم مجتہد اور بےنظیر محقق کو ہیرا پھیری سے سنی ابوحنیفہ قرار دے کر بحوالہ جامع الاخبار کتے اور خنزیر سے برتر قرار دے رہے ہو بہرحال ان چند سطور سے ہم نے دونوں ابوحنیفہ کنیت والے اشخاص کے درمیان امتیاز واضح کر دیا ہے اللہ تعالیٰ حق و باطل کا امتیاز سمجھنے اور قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

صفحہ 5 از 5