ریاست کے تعمیراتی منصوبوں پر توجہ
علی محمد الصلابیاس باب میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے کاشتکاروں کی زرعی مصلحت کے پیش نظر بعض اہل فارس کی سفارش پر اپنی ریاست میں نہر کھدوائی۔
(فتوح البلدان: البلاذری: صفحہ 273، الولایۃ علی البلدان: صفحہ 872) اسی طرح سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے نام خط لکھ کر حکم دیا کہ بصرہ والوں کے لیے نہر کھودی جائے۔ چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے باشندگان بصرہ تک پانی لانے کے لیے چار فرسخ لمبی نہر کھدوائی۔
(فتوح البلدان: البلاذری: صفحہ 351، 352)
اسی طرح حضرت عمرؓ کے دیگر گورنران نے جب کوفہ، بصرہ اور فسطاط جیسے بڑے بڑے شہروں کو آباد کیا تو وہاں کی سڑکوں کی تعمیر و اصلاح، اراضی کی تقسیم، مساجد کی تعمیر اور آبی وسائل کی فراہمی جیسے دیگر مصالح عامہ کی چیزوں پر خاص توجہ دی۔ نیز انہوں نے بعض ایسے علاقوں میں لوگوں کو بسایا جہاں وہ لوگ محض جانا پسند نہیں کرتے تھے کہ وہ علاقے دشمن کی سرحدوں سے متصل یا قریب ہوتے تھے۔ لیکن والیان ریاست نے ان کے لیے طبعی میلان کے اسباب اور شوق دینے والی چیزوں کو فراہم کیا، وہاں بسنے والوں کو ہمت افزائی کے طور پر جاگیریں دی گئیں۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے انطاکیہ اور جزیرہ عرب کے بعض دوسرے شہروں میں یہی پالیسی اختیار کی تھی۔