کفایۃ الطالب مصنفہ محمد بن یوسف بن محمد قرشی گنجی - ردِ…

کفایۃ الطالب مصنفہ محمد بن یوسف بن محمد قرشی گنجی

  محمد علی

صفحہ 2 از 4

عبارت 4 کفایۃ الطالب: عن عبداللہ قال قال النبیﷺ یا عبدالله اتانی ملک فقال یا محمد واسئال من ارسلنا من قبلك علی ما بعثوا؟ قال قلت علی ما بعثوا قال علی ولایتك وولایۃ علی ابن ابی طالب۔

(کفایۃ الطالب: صفحہ 75)

 ترجمہ: سیدنا عبداللہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے کہا اے عبداللہ میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور کہا کہ ان پیغمبروں کے بارے میں سوال کریں جو آپ سے پہلے تشریف لائے کہ انہیں کس لیے بھیجا گیا ہے میں نے پوچھا تم ہی بتا دو کہنے لگا کہ آپﷺ کی ولایت اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کی ولایت پر۔

 لمحہ فکریہ: جیسا کہ یہ بات جانی پہچانی ہے کہ اہلِ سنت کے عقائد کے مطابق حضرات انبیاء کرامؑ تمام مخلوق سے افضل ہیں اور یہی عقیدہ اہلِ تشیع کا بھی ہونا چاہیے تھا کیونکہ ان کی فقہ کے سیدنا جعفر صادق نے بحوالہ رجال کشی فرمایا جو ہمیں پیغمبر کہے اس پر خدا کی لعنت امام موصوف کے اس ارشاد کے بالکل برعکس اہلِ تشیع عقیدہ رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ سیدنا علی تمام انبیاءؑ سے افضل ہے اور صاحب کفایت الطالب بھی اسی عقیدہ کی مؤیدہ روایات درج کر رہا ہے کہ جب اس کے نزدیک حضرات انبیاءؑ کی رسالت نبوت اس بات پر موقوف ہے کہ وہ ولایت سیدنا علی کا بھی اقرار کریں تو اس عبارت سے اس کے قائل کے نظریات کا بخوبی علم ہو سکتا ہے اس لیے نہ تو کفایت الطالب اہلِ سنت کے معتبر کتاب اور نہ اس کا مصنف سنیوں کا قابل اعتبار عالم جن لوگوں نے اسے اہلِ سنت کی معتبر کتاب کے عنوان سے پیش کیا انہوں نے دراصل اپنے دین کے ستون عظیم تقیہ کا سہارا لیا ہے۔

جنت میں سیدنا علی المرتضیٰ کا محل نبی کریمﷺ کے محل کے مقابلہ میں ہوگا

 عبارت 5 کفایۃ الطالب: عن عبداللہ ابن ابی اوفی قال خرج رسول ذات یوم علی اصحابہ اجمع ما کانوا فقال یا اصحاب محمد لقد ارانی الله تعالیٰ منازلکم من منزلی قال ثم ان رسول احذ بید علی فقال یا علی اما ترضی ان یکون منزلك فی الجنۃ مقابل منزلی؟ قال بلی بابی انت وامی یارسول اللہ قال فان منزلك فی الجنۃ مقابل منزلی 

 (کفایۃ الطالب: صفحہ 228 الباب الستون 60)

ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی کہتے ہیں کہ ایک دن نبیﷺ مجمع صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں تشریف لائے اور فرمایا کہ اے صحابہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہارے مقامات اپنے مقام کے اعتبار سے دکھا دیے ہیں پھر نبیﷺ نے سیدنا علی کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا اے علی کیا تو اس پر راضی نہیں کہ جنت میں تیری منزل میری منزل کے مقابل ہو عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہﷺ فرمایا کہ بے شک تیرا محل میرے محل کے بالمقابل ہے۔

 لمحہ فکریہ: حضورﷺ اور سیدنا علیؓ کے مابین کامل اتحاد اور مماثلت کے شیعہ دعویدار ہیں اس کے اثبات میں انہوں نے کئی طریقوں سے قلابازیاں کھائی ہیں ان کے ایک فرقے غرابیہ کا کہنا ہے کہ نبیﷺ اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کے مابین ایسی مماثلت ہے جیسے کہ ایک کوے کی دوسری کے ساتھ ہوتی ہے۔

(انوار نعمانیہ: جلد دوم صفحہ 237 نور فی بیان فرق متبوعہ بیروت)

  اسی مماثلت اور کامل اتحاد کی وجہ سے جبرائیلؑ بھول کر سیدنا علی المرتضیٰؓ کی بجائے نبیﷺ کے پاس چلے گئے معاذ اللہ صاحب کفایت الطالب نے بھی اسی مماثلت اور اتحاد کو اپنا نظریہ بنا رکھا ہے اس سے اس کی شیعت عیاں ہو رہی ہے اور پھر مذکورہ روایات کی تخریج کو مجمع الزوائد جلد نو صفحہ 173 اور صواعق مخرکہ صفحہ 96 کی طرف منسوب کیا ہے حالانکہ ان دونوں کتابوں کی مذکورہ صفحات پر بلکہ پوری کتابوں میں اس کا نام و نشان نہیں ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جس روایت کا سر پاوں ہی نہ ہو اس سے بددیانتی کے ساتھ کسی ایسی کتاب کے سپرد کر دیا جائے جس میں اس کا نام و نشان نہ ہو اتنے تکلف وہی کرے گا جس سے اس تحریر و ورایت سے پیار ہوگا گویا محمد ابنِ یوسف گنجی نے شیعہ ایجنٹ ہونے کا حق ادا کر دیا غلام حسین نجفی وغیرہ کو اسے اپنا کہہ کر فخر کرنا چاہئے تھا۔ 

سیدنا علیؓ کی شکل کا ایک فرشتہ جنت میں موجود ھے جسکا حضورﷺکو بھی علم نہیں

 عبارت 6 کفایۃ الطالب: حدثنا یزیذ ابن ھارون حدثنا حمید عن انس قال قال رسولﷺمررت لیلۃ اسری بی الی السماء فاذا انا بملك جالس علی المنبر من نور والملئکة تحدق بہ فقلت یا جبرئیل من ھذا الملك ؟ قال ادن منہ وسلم علیہ فدنوت منہ وسلمت علیہ فاذا انا باخی وابن عمی علی بن ابی طالب فقلت یا جبرئیل سبقتنی علی الی السماء الرابعۃ فقال لی یا محمد لا ولکن الملائکۃ شکت حبھا لعلی فخلق الله تعالیٰ ھذا الملك من نور علی صورۃ علی فالملائکة تزورہ فی کل لیلة جمعۃ ویوم جمعۃ سبعین الف مرۃ یسبحون الله ویقدسونہ ویھدون ثوابہ لنحب علی

(کفایۃ الطالب: صفحہ132 تا 133)الباب سادس۔ والعشرون)

ترجمہ: کہ سیدنا انسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ مجھے جب شب معراج آسمان پر لے جایا گیا تو وہاں نور کے ممبر پر بیٹھا ایک فرشتہ نظر آیا دوسرے فرشتے اسے بغور دیکھ رہے تھے میں نے جبرئیلؑ سے پوچھا یہ کون ہے اس نے کہا اسکے قریب جاؤ اور سلام کرو میں قریب گیا اور سلام کیا تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ میرا بھائی اور چچا زاد سیدنا علی بن ابی طالبؓ ہیں میں نے پوچھا کہ جبرئیلؑ چوتھے آسمان پر مجھ سے پہلے کیسے آ گیا اس نے کہا یا محمدﷺ اس طرح نہیں بات یہ ہے کہ فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور سیدنا علیؓ کی محبت کی شکایت کی تھی تو اللہ تعالیٰ نے اس فرشتے کو شکل سیدنا علیؓ میں اپنے نور سے پیدا فرمایا ہے تمام فرشتے ہر جمعرات اور جمعہ کو اس کی زیارت 70 ہزار مرتبہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس کہتے اور اس کا ثواب سیدنا علی المرتضیٰؓ کے چاہنے والے کو بھیجتے ہیں۔

صفحہ 2 از 4