کفایۃ الطالب مصنفہ محمد بن یوسف بن محمد قرشی گنجی - ردِ…

کفایۃ الطالب مصنفہ محمد بن یوسف بن محمد قرشی گنجی

  محمد علی

صفحہ 3 از 4

لمحہ فکریہ: مذکورہ روایت بظاہر شیعہ عقائد کے خلاف جاتی ہے کیونکہ ان کے نزدیک تمام ائمہ اہلِ بیت ہر چیز کا علم رکھتے ہیں غیب و مشاہدہ سب ان پر عیاں ہے لیکن اس واقعہ میں ائمہ اہلِ بیت کے امام حضورﷺ کو بے خبر اور لاعلم دکھایا جا رہا ہے لیکن اس صاحب کفایة الطالب کا اس طرف خیال ہے وہ اس دھن میں سوار ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے فضائل بیان کئے جائیں اور اس مقصد کے پیش نظر اگر کسی دوسرے عقیدہ پر ضرب کاری لگے تو اس کی پرواہ نہیں بعینہ یہی اس من گھڑت روایت میں ہے کہ نبیﷺ کو لاعلم ثابت کیا گیا آپ کو اس کا مکلف و مامور کیا گیا کہ فرشتوں کو سلام کریں آپ فرشتے اور سیدنا علی المرتضیٰؓ میں فرق امتیاز نہ کر سکے بہرحال اس فرشتوں کو جو شکل سیدنا علیؓ میں پیدا کیا گیا ہے 70 ہزار فرشتوں اسے سلام کرتے ہیں اور اپنی تسبیحات و تقدیسات کا ثواب محبان علی کو بخشتے ہیں اس کا ثبوت صاحب کفایة الطالب نے تین کتابوں پر ڈالا حلیۃ الاولیاء جلد چار صفحہ 329 تاریخ جلد 12 صفحہ 358 مجمع ازوائد جلد 9 صفحہ 173 لیکن یہ تینوں کتابیں اس روایت سے خالی ہوتے ہوئے صاحب کفایة الطالب کے تشیع کو ظاہر کر رہی ہیں۔ 

جو سیدنا علی المرتضیٰؓ کو سب سے افضل نہ مانے وہ کافر ہے

 عبارت 7 کفایۃ الطالب: عن عبد عن علی قال قال رسولﷺمن لم یقل علی خیر الناس فقد کفر

(کفایة الطالب: صفحہ 245)

 سیدنا علی المرتضٰیؓ سے عبداللہ راوی ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا جو سیدنا علی المرتضیٰؓ کو تمام لوگوں سے بہتر افضل نہیں کہتا ہو وہ کافر ہے۔

 لمحہ فکریہ: اہلِ سنت کے معتقدات میں یہ عقیدہ بالکل واضح طور پر موجود ہے کہ مخلوقات میں سے تمام انبیاء کرامؑ افضل ہیں غیر انبیاء انسانوں میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ پھر سیدنا عمر بن خطابؓ بالترتیب افضل ہیں اس سلسلے میں ہم امام اہلِ سنت فاضل بریلویؒ کا فتاویٰ افریقہ سے ایک فتوی اور مجدد الف ثانیؒ کے مکتوبات سے عبارات پیش کر چکے ہیں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی افضیلت کا منکر اہلِ سنت میں سے نہیں اور یہ کہ وہ احمق اور ابو الفضول ہے صاحب کفایہ طالب نے اس متفق علیہ عقیدہ کے خلاف روایت لکھ کر اپنی شیعت پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے روایت مذکورہ کی تخریج تاریخ بغداد جلد سوم صفحہ 192 اور تہذیب التہذیب جلد 9 صفحہ 418 سے پیش کی گئی ہے۔ ٹھیک ہے کہ مزکورہ روایت ان کتابوں میں موجود ہے لیکن جس راوی سے اسے نقل کیے گیا ہے اسے کذاب تک کہا گیا ہے محمد بن کثیر ابو اسحاق قرشی کوفی اس کا اصل راوی ہے جسے بخاری منکر الحدیث اور الدوری عن ابنِ معین شیعی کہتا ہے پھر یہی روایت مختلف الفاظ سے صاحب کفایة الطالب نے نقل کی علی خیر البشر من ابی فقد کفر الفاظ تاریخ بغداد جلد 7 صفحہ 421 سے نقل کی اس حدیث کے راوی حسن بن محمد ہیں اور میزان الاعتدال میں اس حسن بن محمد کو جھوٹا اور شیعہ کہا ہے بہرحال یہ دیگر اسباب نہ بھی ہوں تو پھر بھی مذکورہ روایات اہلِ سنت کے عقائد و نظریات کے بالکل خلاف ہیں لہٰذا معلوم ہوا کہ محمد بن یوسف صاحب کفایة الطالب شیعہ ہے اور اس نے اپنی تصانیف میں شیعیت کا پرچار کیا ہے آخر میں ہم اس کتاب کی ایک اور عبارت نقل کرتے ہیں تاکہ اس کے مصنف کے بارے میں شیعہ یا سنی ہونے کا کوئی واضح ثبوت مل جائے ملاحظہ ہو۔

سیدنا علی کی موجودگی میں ان سے بڑھ کر خلافت کا حق کسی اور کو نہ تھا

 عبارت 8 کفایۃ الطالب: وھو اھل کل فضیلۃ ومنقبة ومستحق لکل سابقہ ومرتبۃ ولم یکن احد فی وقتہ احق بالخلافة منہ

(کفایۃ الطالب: صفحہ 253)

ترجمہ: سیدنا علی ہر فضیلت اور منقبت کے اہل ہیں اور ہر مرتبہ اور بڑائی آپ کو زیب دیتی ہے آپ کے وقت میں آپ سے بڑھ کر کوئی دوسرا خلیفہ بننے کا حقدار نہ تھا۔

 لمحہ فکریہ: جب سیدنا علی المرتضیٰؓ کے ہوتے ہوۓ کوئی دوسرا خلافت کا حق دار نہ تھا تو آپ سے پہلے تینوں خلفاء (معاذاللہ) غاصب ٹہرے اور ناجائز خلیفہ رہے کیا یہ کسی سنی عالم کا عقیدہ بیان کیا جا رہا ہے آخر میں اس کتاب کے مقدمہ سے ایک اقتباس پیش کیا جا رہا ہے جس سے اس کے مصنف کی وابستگی کا بخوبی علم ہو جائے گا۔ 

 مقدمة کفایةالطالب: وقال ابو شامةالمقدس توفی29 من رمضان قتل بالجامع الفخر محمد بن یوسف بن محمد الکنجی وکان من اھل العلم بالفقہ والحدیث لکنہ کان فیہ کثرة کلام ومیل الی مذھب الرافضیة جمع لھم کتبا توافق اغراضھم وتقرب بھا الی الرؤساء منھم الدولتین الاسلامیة والتاتاریة ثم وافق الشمس القمی فیما فوض الیہ من تخلیص موال الغائبین وغیرھم فانتدب لہ من تاذی منہ والب علیہ بعد صلوة الصبح فقتل وبقر بطنہ کما قتل اشباھہ من اعوان الظلمة مثل الشمس بن الماسکینی وابن البغیل الذی کان یسخر الدواب الویل علی الروضتین صفحہ 208

ثم ذکر محنتہ الیونینی وھو من معاصریہ فقال وورد کتاب المظفر الی دمشق فی شھر رمضان یخبر بالفتح وکسرالعدو ویعدھم لوصولہ الیھم ونشر المعدلة فیھم فساروالعوام بدمشق وقتلوا الفخر محمد بن یوسف ابن محمد الکنجی فی جامع دمشق وکان المذکور من اھل العلم لکنہ کان فیہ شر ومیل الی مذھب الشیعة وخالطہ الشمس القمی الذی کان خضر الی دمشق من جھتہ ھولاکم ودخل معہ فی اخذ اموال ایغیاب عن دمشق فقتل ذیل مراة الزمان جلد 1 صفحہ 360 ولم یکتف بھذاوانما عاد فذکرہ فی موضع الخرفی کتابہ فقال الفخر محمد بن یوسف الکنجی کان رجلا فاضلا ادیبا ولہ نظم حسن قتل فی جامع دمشق بسبب دخولہ مع نواب الترذیل مراة الزمان جلد 1 صفحہ 392 وذکرہ ابن کثیر فی تاریخہ بقولہ وقلت العامة وسط الجامع شیخا رافضیا کان مصانعا للتتار علی اموال الناس یقال لہ الفخر محمد ابن یوسف ابن محمد الکنجی کان خبیث الطویة مشرقیا ممالیا لھم علی اموال الناس فبحہ اللہ و قتلوا جماعة من المنافقین البدایة والنھایة جلد 13 صفحہ 321 وتنجج ابن تفری برد بالفعلة الدنیئة فقال فسر عوام دمشق وکان المذکور من اھل العلم لکنہ کان فیہ شر وکان رافضیا خبیثا وانضم علی التتار.

(النجوم الظاھرہ: جلد 9 صفحہ 80)

صفحہ 3 از 4