Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

باشندگان ریاست کے معاشرتی احوال و ظروف کی رعایت

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس جب ریاستوں کے وفود آتے تھے تو آپؓ ان سے ان کے ’’امیر‘‘ کے بارے میں دریافت کرتے، اگر وفد کے لوگ کہتے کہ ’’امیر‘‘ خیریت سے ہیں تو آپؓ ان سے پوچھتے: کیا وہ تمہارے بیماروں کی عیادت کرتے ہیں؟ اگر وہ کہتے: ہاں، تو پوچھتے کہ کیا غلاموں کی بھی عیادت کرتے ہیں؟ اگر کہتے ہاں، تو پوچھتے کہ کمزوروں کے ساتھ ان کا برتاؤ کیسا ہے؟ کیا ان کے گھر جاتے ہیں؟ چنانچہ اگر مذکورہ سوالات میں سے کسی کا جواب نفی میں ملتا تو وہاں کے امیر کو معزول کر دیتے

 (الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 82) خاص طور سے اگر یہ خبر ملتی کہ وہ امیر مریض کی عیادت نہیں کرتا اور کمزور آدمی خوف سے اس کے پاس نہیں جاتا۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 82) سیدنا عمر بن خطابؓ اس بات کے حریص تھے کہ آپؓ کے افسران عوام میں سرتاپا تواضع و خاکساری کا مظہر ہوں تاکہ عوام یہ محسوس کریں کہ ان کا گورنر انہی میں سے ایک فرد ہے، وہ ان سے ممتاز و برتر نہیں ہے۔ اسی لیے آپ اپنے افسران و گورنران کے لیے لوگوں کی طرح عام سواری اور لباس استعمال کرنے کی شرط لگا دیتے تھے اور انہیں دربان رکھنے سے منع کرتے تھے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 82)