ارحج المطالب مصنفہ عبید اللہ امرتسری - ردِ رافضیت | دفاع…

ارحج المطالب مصنفہ عبید اللہ امرتسری

  محمد علی

صفحہ 1 از 6

ارحج المطالب مصنفہ عبید اللہ امرتسری

ان کتابوں میں سے ایک کتاب جو اہلِ سنت کے خلاف حجت کے طور پر پیش کی جاتی ہے ارحج المطالب بھی ہے اس کے مصنف کا نام عبید اللہ امرتسری ہے غلام حسین نجفی نے اپنی کتاب قول مقبول میں درجنوں اس کتاب کے حوالہ جات نقل کیے اور ہر حوالے سے قبل ناظرین کو متاثر کرنے کے لیے اہلِ سنت کی معتبر کتاب کہا یہی وہ کتاب ہے جس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ جو عورت سیدنا علی المرتضیٰؓ کی دشمن ہو اس کو پاخانہ کی جگہ سے خون حیض آتا ہے اور جو مرد ایسا ہو وہ مفعولیت کے مرض میں گرفتار ہوتا ہے اس قاعدہ کو پھر حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر فرضی مخالفت کے ضمن میں چسپاں کیا جاتا ہے صاحب ارحج المطالب کی مذہبی وابستگی اور نظریات عنقریب اس کی اسی کتاب سے ہم پیش کر رہے ہیں ان کے مطالعہ سے بخوبی پتہ چل جائے گا کہ یہ شخص سنی ہے یا تقیہ باز شیعہ لیکن پہلے قول مقبول کی ایک آده عبارت پیش کی جاتی ہے۔

 قول مقبول: اہلِ سنت کی معتبر کتاب ارحج المطالب صفحہ 638 میں جو عورت علی سے دشمنی رکھتی ہے اس کو پاخانہ کی راہ سے خون حیض آتا ہے ارحج المطالب کی عبارت ملاحظہ ہو 

 عن علی قال قال لی رسول اللہ لا يبغضك من النساء الا السلقلق وهي التي تحيض من دبرها قيل جاءت امراۃ الى علي فقالت اني ابغضك قال فانت اذا سلقلق قالت من سىلقلق قال سمعت النبي الحديث وقلت يارسول الله وما السىلقلق قال التي تحيض من دبرها قالت صدق رسول اللّٰه واللّٰه انا احيض من دبري ولا علم لا بواي اخرجه الديلمي صفحه638)

 ترجمہ: سیدنا علی فرماتے ہیں کہ حضورﷺ‎ نے مجھے فرمایا کہ جو عورت آپ سے دشمنی رکھے گی وہ سلقلق ہو گی یعنی اس کو پاخانہ کی راہ سے خون حیض آتا ہو گا ایک عورت علی کے پاس آئی اور کہا کہ میں آپ سے دشمنی رکھتی ہوں آنجنابﷺ نے فرمایا کہ تو سلقلق ہے عورت نے پوچھا وہ کیا ہوتی ہے حضور ‎نے فرمایا وہ عورت ہوتی ہے جسے پاخانہ کی راہ سے حیض آتا ہو عورت نے کہا خدا کی قسم نبی پاک نے سچ فرمایا مجھے پاخانہ کی راہ سے حیض آتا ہے اور میرے والدین کو بھی اس بات کا علم نہیں ہے۔

(حوالہ قول مقبول: صفحہ 455)

 جواب:

صاحب ارحج المطالب: مولوی عبید اللہ نے روایت مذکورہ بحوالہ دیلمی لکھی ہے کہ میں مناسب سمجھتا ہوں کہ سب سے پہلے دیلمی کا تعارف کرایا جائے کیونکہ ارحج المطالب میں بہت سے حوالہ جات اس کی طرف سے نقل کیے گئے ہیں ابو محمد الحسن بن ابی الحسن محمد الدیلمی کے متعلق مشہور شیعہ کتاب الکنی والاقاب میں لکھا ہے کہ ارشاد القلوب اس کی تصنیف ہے اور ارشاد القلوب کے مصنف دیلمی کو شیعہ کتب اپنا آدمی کہتے ہیں علامہ الشیخ آقا بزرگ الطہرانی نے لکھا۔ 

 الذریعہ: 2527(ارشاد القلوب الی الصواب) المعنی من عمل به من اليم العقاب للشيخ الجليل ابي محمد الحسن بن ابي الحسن بن محمد الديلمي وهو معاصر لفخر المحققين ابن علامه الحلي الذي توفي في سنه 771 وينقل عن كتابه الشيخ ابو العباس احمد بن فهر الحلي في عدة الداعي الذي الف سنۃ 801

 (الزريعہ: جلد اول صفحه 517)

 ترجمہ: ارشاد القلوب جس کا معنیٰ یہ ہے کہ یہ کتاب دلوں کو صواب کی طرف پھیرتی ہے اور جو اس کے مضامین پر عمل کرے گا وہ درد ناک سزا سے بچ جائے گا یہ کتاب شیخ جلیل ابو محمد الحسن بن ابی الحسن بن محمد دیلمی کی تصنیف ہے اور دیلمی فخر المحققیق ابن علامہ الحلی کا ہم زمانہ ہے جس کی موت 771ھ میں ہوئی اور اس کی کتاب سے ابوالعباس احمد بن الفہد المحلی نے اپنے کتاب عدۃ الدعی میں نقل کیا یہ کتاب 801ھ میں تصنیف کی گئی۔

الذریعہ کے اس حوالے سے واضح ہوا کہ دیلمی صاحب ارشاد القلوب بہت بڑے شیعہ عالم ہے اور ابو العباس احمد بن فہد ایسے شیعہ اس کی عبارات کے ناقل ہیں۔ لہٰذا مولوی عبید اللہ امر تسری کا دیلمی کے حوالے سے کسی روایت کو نقل کرنا یا تو اس کے حقیقی شیعہ ہونے پر دلالت کرتا ہے یا پھر بطور تقیہ اس نے اہلِ سنت کا لبادہ اوڑہ کر لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے۔

 توضیح: مولوی عبید اللہ امر تسری نے ارحج المطالب میں دیلمی کے علاوہ جن کتب سے حوالہ جات تحریر کیے ہیں ان کے کچھ نام یہ ہے فوائد المطین تزکرۃ الخواص الامہ، ینابیع المودۃ، المناقب للخوارزی، مروج الذھب، کفایۃالطالب، اور ابن حدید ان کتابوں اور ان کے مصنفین کے بارے میں ہم تفصیلی گفتگو کر چکے ہیں ان میں کچھ تو کٹر شیعہ اور بعض میں شیعت کی ملاوٹ ہے لہٰذا ان کتب کے وہ حوالہ جات جو اہلِ سنت اور شیعہ کے مابین عقائد مختلفہ کے ضمن میں پیش کیے جاتے ہیں وہ ہم اہلِ سنت پر حجت نہیں ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ لوگ خود اس معاملے میں ایک طرف جھکے ہوئے ہیں۔

باقی رہی یہ بات کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ سے بغض کے بارے میں پھر اہلِ سنت کا کیا نظریہ ہے تو اس کا واضح جواب موجود ہے کہ قرآن کریم نے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے رحماء بینہم کا لفظ فرما کر ان کے درمیان باہمی بغض و عداوت اور کدورت کا دروازہ ہی بند کر دیا ہے ان حضرات کے درمیان جتنے بھی اختلافات و مناقشات نظر آتے ہیں ان میں بغض عناد نہیں بلکہ اجتہادی اختلاف رائے پایا جاتا ہے اس لیے اہلِ سنت ان حضرات کے درمیان اختلاف کو اسی نظریے سے دیکھتے ہیں اور شیعہ ان اختلافات کو بغض اور عناد کی بھینٹ چڑھا کر اپنے گندے قواعد و ضوابط ان پر چسپاں کرتے ہیں بہرحال ہم اب ذیل میں مولوی عبید اللہ امرتسری کی کتاب ارحج المطالب کے چند حوالہ جات نقل کر رہے ہیں جس سے اس کی نظریاتی وابستگی کا علم ہو سکے گا۔

ارحج المطالب

 عبارت نمبر 1 عن ابی سعیدالخدري قال قال رسول الله انا وعلي من نور واحد قبل ان يخلق الله اٰدم باربعۃ انا في عام فلما خلق الله تعالىٰ الخلق ركب ذلك النور في صلبه فلم يزل في شيء واحد حتىٰ افترقا في صلب عبد المطلب ففي النبوۃ وفي علي الخلافۃ اخرجه الديلمي۔

(ارحج المطالب: صفحه 38) ذكر خليفہ رسولﷺ 

صفحہ 1 از 6