ارحج المطالب مصنفہ عبید اللہ امرتسری - ردِ رافضیت | دفاع…

ارحج المطالب مصنفہ عبید اللہ امرتسری

  محمد علی

صفحہ 2 از 6

 ترجمہ:  ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا میں اور علی ایک ہی نور سے ہیں اور آدمؑ کے پیدا کرنے سے چار ہزار برس پہلے ہمیں پیدا کیا گیا پھر جب اور لوگ پیدا کیے تو وہ نور ایک کی پشت پر سوار ہوا ایک میں لگاتار منتقل ہوتا رہا یہاں تک کہ جناب عبد المطلب کی صلب میں آ کر جدا جدا ہو گیا لہٰذا مجھ میں نبوت اور سیدنا علی میں خلافت ہے اس کو دیلمی نے اخراج کیا۔

 توضیح: روایت مذکورہ اول تو بےسند ہے لہٰذا قابل توجہ ہی نہیں اور دوسری بات یہ کہ اس میں مشہور شیعہ عقیدہ بیان کیا گیا ہے یعنی علی حضورﷺ کے خلیفہ ہیں سیدنا علی کے خلیفہ ہونے کے یہاں دو مفہوم ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ آپ خلیفہ بلا فصل ہیں یہ اہلِ سنت کے عقیدے کے خلاف ہے کیونکہ اس سے خلفاء ثلاثہ معاذ اللہ غاصب ثابت ہوتے ہیں اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ خلافت سیدنا علی کی اولاد میں ہو گی یہ بھی ائمہ اہلِ بیت کی امامت اور خلافت کا ثبوت کرنا ہے اور پھر سیدنا حسنؓ کے بعد سیدنا امیر معاویہؓ کی خلافت اور امامت کا انکار کرنا ہے حالانکہ سیدنا حسنؓ نے اس کے حق میں دستبرداری فرما کر ان کے ہاتھ پر بیعت بھی کر لی تھی جس پر تو کتب اہلِ تشیع بھی گواہ ہیں سیدنا حسنؓ کے علاوہ کسی اور کو اولاد سیدنا علیؓ میں سے خلافت نہ مل سکی۔

 سیدنا ابوبکرؓ نے باغ فدک کے معاملہ میں غلطی کی

 ارحج المطالب: عبارت نمبر 2 ابوبکر مجتہد تھے مگر معصوم نہیں تھے بوجہ المجتهد ان سے فدک کے معاملہ میں خطا فی الاجتہاد واقع ہو گی۔ سیرت شیخین (ارحج المطالب صفحہ 672)

 توضیح: جہاں تک باغ فدک کا معاملہ ہے تو اہلِ سنت کا نظریہ یہ ہے کہ ابوبکر نے جو کچھ کیا وہی حق اور سچ تھا ہاں شیعہ کہتے ہیں کہ یہ باغ دراصل سیدہ فاطمہ کی ملکیت میں آنا چاہیے تھا لیکن سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے باغ فدک انہیں نہ دے کر ان کا حق غضب کیا ہے یہی بات مولوی عبیداللہ امرتسری بھی کہہ رہا ہے لیکن انداز نرالا ہے سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے باغ فدک سیدہ کو نہ دے کر غلطی کی ہے لیکن یہ غلطی اجتہادی ہے یہاں اجتہاد کہاں سے آ ٹپکا سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے پاس تو رسول کریمﷺ کا ارشاد موجود تھا انبیاء کرامؑ وراثت مالی نہیں چھوڑتے نہ ان کا کوئی وارث اور نہ وہ کسی کے وارث اسی سے ملتی جلتی حدیث اصول کافی میں موجود ہے علاوہ ازیں نہج البلاغہ کی شرح ابنِ حدید میں زید ابنِ سیدنا حسنؓ کا قول منقول ہے کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ کی دادی صاحبہ کے ساتھ سیدنا ابوبکرؓ نے جو زیادتی باغ فدک کے بارے میں کی ہے یہ کیسی ہے؟

جواب دیا جو کچھ سیدنا ابوبکرؓ نے فیصلہ کیا اگر میرے سامنے وہ مقدمہ پیش ہوتا تو میں بھی وہی فیصلہ کرتا اس معاملے میں اجتہادی خطا کا شوشہ چھوڑنا دراصل اپنی شیعیت ظاہر کرنا ہے۔

 عبارت نمبر 3

ارحج المطالب: سیدنا امیر شیخینؓ کو اکثر امور شریعت میں غلطی کرنے سے روکا کرتے تھے جو بتقاضہ بشریت ان سے سرزد ہو جایا کرتی تھی چنانچہ جن کی نسبت اکثر سیدنا عمرؓ کو لا علی لھلک عمر فرمایا کرتے تھے اس لیے سیدنا امیر نے سیرت شیخین کے اتباع کا اقرار نہ کیا اور بخوف وقوع فساد امر خلافت سیدنا عثمان پر منتقل ہو گیا لیکن اس میں کسی طرح شک نہیں ہے کہ حضرت امیر ہمیشہ اپنے خلافت کے خواہاں رہتے تھے اور ان کی خواہش اس غرض سے نہ تھی کہ ان کو دینوی سلطنت حاصل ہو جائے بلکہ ان کی منشا یہ تھی کہ امور خلافت میں کوتاہی جو بتقاضائے بشریت اکثر خلفاء سے ظہور میں آتی رہتی ہے احیا نا بھی وقوع میں نہ آ ئے۔ 

(ارحج المطالب: صفحہ 672)

 توضیح: عبارت درج بالا میں کمال چالاکی اور پھرتی کے ساتھ مولوی عبید اللہ امرتسری نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کے بارے میں اہلِ تشیع کے عقیدے کی ترجمانی کی وہ اس طرح کے خلفائے ثلاثہ بتقاضاۓ بشریت غلطی کرتے تھے اور ان کے مقابلے میں سیدنا علی المرتضیٰؓ سے غلطی کا صدور ممکن نہیں تھا اس سے معلوم ہوا کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ معصوم ہیں اگر عبیداللہ امرتسری کھلے طور پر سیدنا علی المرتضیٰؓ کی عصمت بیان کرتا تو شاید اس کا بھرم باقی نہ رہتا اس لیے اس نے دھیمی انداز میں اپنا عقیدہ عصمت سیدنا علی المرتضیٰؓ بیان کر دیا دوسرا اس عبارت سے یہ بھی ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اصل حقدار خلافت و امامت سیدنا علی المرتضیٰؓ تھے اس طرح تینوں خلفاءؓ خلافت کے اہل نہ تھے یہی وجہ تھی کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے ان کی سیرت کا اتباع نہیں کیا یہ دونوں باتیں اہلِ سنت کے عقائد کے خلاف ہیں ہمارے ہاں عصمت صرف حضرت انبیاء کرامؑ کے لیے ہے کوئی خلیفہ یا امام معصوم نہیں اور خلفائے ثلاثہؓ کی خلافت اصل اور برحق تھی سیدنا علی المرتضیؓ نے ان کی اقتداء میں نمازیں ادا فرمائیں ان کے ہاتھوں پر بیعت کی اور ان کے حق میں کلمات خیر کہے لہٰذا یہ عبارت بھی عبید اللہ امرتسری کے شیعہ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔

 عبارت نمبر 4

ارحج المطالب: عن ام سلمه قالت قال رسول الله لو لم يخلق علي ما كان لفاطمه كفوا اخرجه الديلمي

( ارجح المطالب: صفحه 320)

 ترجمہ: سیدہ ام سلمہ بیان فرماتی ہیں کہ حضور نے فرمایا اگر سیدنا علی پیدا نہ کیے جاتے تو پھر سیدہ فاطمہ کا کفو نہ ہوتا۔

صفحہ 2 از 6