ارحج المطالب مصنفہ عبید اللہ امرتسری - ردِ رافضیت | دفاع…

ارحج المطالب مصنفہ عبید اللہ امرتسری

  محمد علی

صفحہ 3 از 6

 توضیح: دیلمی کے تشیع کی بحث ابھی گزری یہ روایت اسی سے لی گئی بہرحال جہاں تک سیدہ فاطمہؓ کا ایک کفو کا معاملہ ہے تو سیدنا علی المرتضیٰؓ سمیت تمام قریش آپ کا کفو ہے اس کا اعلان خود رسولﷺ نے فرمایا تحفہ جعفریہ میں نکاح سیدہ ام کلثومؓ کی بحث میں ہم ذکر کر چکے ہیں کہ شیعوں کے نزدیک علوی اور غیر علوی کا کوئی فرق نہیں لوامع التنزیل جلد دوم میں علامہ حائری نے اس کی طویل بحث کی ہے اور ثابت کیا کہ اولاد سیدہ فاطمہؓ کا نکاح کمینے سے کمینہ آدمی ہو اس سے بھی ہو سکتا ہے لہٰذا فقہ جعفریہ میں تو کفو کا معاملہ ہی ختم ہے اہلِ سنت کے ہاں اس کا نکاح میں ہونا ضروری ہے حضورﷺ کے صریح ارشاد کے ہوتے ہوئے کہ قریش باہم کفو ہیں یہ کہنا کہ سیدہ کا سیدنا علی المرتضیٰؓ کے سوا کوئی اور کفو نہیں بالکل غلط ہے اور شیعی عقیدہ ہے مولوی عبید اللہ امرتسری اس عبارت سے سیدنا علی المرتضیٰؓ کے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر افضلیت ثابت کرنے کے درپہ ہیں اور یہ بارہا بیان ہو چکا ہے کہ اہلِ سنت کا مسلک یہ ہے کہ حضرت انبیاء کرامؑ کے بعد افضل ترین شخصیت سیدنا ابوبکر صدیقؓ ہیں۔

 عبارت نمبر 5: علی اس وقت موجود نہ تھے اور نہ ان سے رائے لینے کی مہلت ملی جب ابوبکر وہاں سے لوٹے تو سرور عالم دفن ہو چکے تھے اس لیے شرکت جنازہ سے محروم رہے جس کا قلق ان کو تامدت العمر باقی رہا ذکر شیخین

(ارحج المطالب صفحہ 67)

 لمحہ فکریہ: مذکورہ عبارت بظاہر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی تعریف کرتی نظر آتی ہے لیکن حقیقت یہ نہیں بلکہ کہا یہ جا رہا ہے کہ اب سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے ثقیفہ بنی ساعدہ میں اپنی خلافت کا اعلان کیا اور بیعت لی تو اس وقت انہوں نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کو اس بارے میں مشورہ دینے کے لیے نہیں بلایا سیدنا ابوبکر صدیقؓ ایک جھگڑے کو نمٹانے کے لیے وہاں تشریف لے گئے تھے لیکن وقت کی نزاکت کے پیشِ نظر سیدنا فاروق اعظمؓ نے فوراً ان کی خلافت کا اعلان کر کے اپنا ہاتھ بڑھا کر بیعت کر لی سیدنا فاروق اعظمؓ کے اس عمل کی سب حاضرین نے تائید کی اور اگر اس معاملے میں سیدنا علی المرتضیٰؓ کے آنے کا انتظار کیا جاتا تو بہت بڑے فتنے کے اٹھ کھڑے ہونے کا اندیشہ تھا یہاں تک کہ واقعات تو درست ہیں لیکن اس کے بعد مولوی عبیداللہ امرتسری کا یہ کہنا کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ وہاں اتنے مشغول ہو گئے کہ حضورﷺ کے جنازے میں بھی شریک نہ ہو سکے یہ اس کے باطنی کوڑھ کی علامت ہے کیونکہ واقعات کے مطابق سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے دو مرتبہ بیعت لی ایک مرتبہ ثقیفہ بنی ساعدہ میں موجود لوگوں سے اور دوسری مرتبہ مسجد نبوی میں عام لوگوں سے پہلی بیعت چونکہ بہت کم لوگوں سے لی گئی اس لیے وہاں دو چار گھنٹے ہی صرف ہو سکتے تھے اور اسی بیعت کی مشغولیت کو جنازہ میں عدم شرکت کی وجہ بنایا جا رہا ہے تاریخ شاہد ہے کہ حضور سرور کائناتﷺ کا وصال مبارک پیر کے دن ہوا اور پیر کے دن سے لے کر بدھ کی نصف شب تک آ پ کا جنازہ ہوتا رہا سیدنا ابوبکر صدیقؓ اگر پیر سے لے کر بدھ کی رات تک وہاں بیعت لینے میں مشغول رہے تو پھر جنازے میں عدم شرکت مفقود لیکن عبیداللہ امرتسری وغیرہ کوئی یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ ثقیفہ بنی ساعدہ میں تین دن ٹھہرے رہے اور بدھ کی رات حضورﷺ کے دفنانے تک واپس نہیں آئے شیعہ خواں مخواہ اس بات کو اچھالتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ جنازہ رسولﷺ میں شریک نہ ہوئے حالانکہ خلیفہ وقت کی اجازت کے بغیر یہ کیسے ممکن تھا۔

 نوٹ: یاد رہے کہ آپﷺ کا جنازہ عام میت کی طرح نہ تھا بلکہ لوگ ٹولیوں کی شکل میں آتے اور صلاۃ والسلام پیش کرتے چلے جاتے اور یہی آپ کی صلاۃ جنازہ تھی کتب اہلِ سنت اس بات کی صراحت کرتی ہے کہ حضورﷺ کی مذکورہ نماز جنازہ سب سے پہلے ادا کرنے والے سیدنا ابوبکر صدیقؓ ہیں ملاحظہ ہو. 

 البدایہ والنہایہ: لما كفن رسول اللهﷺ ووضع على سريره دخل ابو بكر وعمر رضي الله عنهما ومعهما نفر من المهاجرين والانصاري بقدر ما يسع البيت فقال السلام عليك ايها النبي ورحمه الله وبركاته وسلم والالمهاجرين والانصار كما سلم ابو بكر وعمر ثم الصفو صفوفا لا يؤمهم احد فقال ابو بكر وعمر وهما في الصف الاول حيال رسول اللهﷺ اللهم انا نشهد انه قد بلغ ما انزل اليه البدايه والنهايه( جلدپنجم صفحه 265)كیفیۃ الصلاۃ عليه

 ترجمہ: جب حضورﷺ کو کفن پہنا کر چارپائی پر رکھا گیا تو ابوبکر و عمر بمعہ انصار و مہاجرین کی جماعت کے اندر آئے یہ لوگ اتنے تھے جتنے گھر میں سما سکتے تھے دونوں نے عرض کیا السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ پھر یہی الفاظ تمام موجود انصار و مہاجرین نے کہا ہے پھر انہوں نے صفیں باندھی لیکن ان کا امام کوئی نہ تھا۔ ابوبکر و عمر نے جو حضورﷺ کے بالکل قریب کھڑے تھے کہا کہ اے اللہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضورﷺ نے وہ سب کچھ پہنچا دیا جو ان کی طرف اتارا گیا۔

قارئین کرام! مولوی عبیداللہ امرتسری نے شیعوں کی ایجنٹی کا حق ادا کرتے ہوئے سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی ذات پر کیچڑ اچھالا اور صاف صاف لکھ دیا کہ حضورﷺ کے دفن کرنے تک یہ لوگ خلافت کے جھگڑے میں مشغول رہے حالانکہ سب سے پہلے آپﷺ کی نماز جنازہ پڑھنے والے یہی ہیں یہ شیعوں کا پرانا اعتراض ہے جو عبیداللہ شیعی نے بھی نقل کر دیا اس کا تفصیلی جواب ہماری کتاب تحفہ جعفریہ میں موجود ہیں جہاں رسولﷺ کے جنازے کی بحث کی ہے وہاں ملاحظہ فرما لیں۔

 عبارت نمبر 6 روى محمد بن سيرين عن عكرمه قال لما كان بيعه ابي بكر قعد علي في بيته فقيل لابي بكر قد كره بيعتك فارسل اليه فقال كرهت بيعنى قال لا قال ما اقعدك عني قال رايتى كتاب الله يزاد فيه فحدثت نفسي ان لا البس ردائ الا لصلوه حتى اجمعه قال له ابو بكر فانك نعم ما رايت قال محمد بن سيرين لعكرمة القوه كما انزل الاول فقال اجتمعت الانس والجن ان يؤلقوا هذا التعريف ما استطاعوا

رواه ابو داود محمد ابن سيرين کہا کرتے تھے اگر وہ قرآن مل جاتا جو امیر علیہ السلام نے جمع کیا ہے تو اس سے بہت علم حاصل ہو سکتا۔

( ارحج المطالب: صفحہ 138)

صفحہ 3 از 6