ارحج المطالب مصنفہ عبید اللہ امرتسری - ردِ رافضیت | دفاع…

ارحج المطالب مصنفہ عبید اللہ امرتسری

  محمد علی

صفحہ 4 از 6

 ترجمہ: محمد بن سیرین نے عکرمہ سے روایت کی ہے کہ جب سیدنا ابوبکر سے لوگوں نے بیعت لی اور سیدنا علیؓ سے کہلا بھیجا کہ کیا آپ نے میری بیعت سے کراہت کی تو آپ نے جواب دیا کہ نہیں پھر پوچھا کہ آپ کے گھر میں بیٹھ رہنے کی کیا وجہ ہے فرمایا میری یہ رائے ہوئی ہے کہ کتاب اللہ میں کچھ نہ کچھ ضرور زیادتی کی جائے گی لہٰذا میرے دل میں آیا کہ میں اپنی چادر سوائے نماز کے اور وقت نہ اوڑھوں جب تک کہ قرآن کو جمع نہ کر لوں ابوبکر نے کہا آپ کی رائے بہت مناسب ہے محمد بن سیرین نے عکرمہ سے پوچھا کہ کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے قرآن اسی طرح سے تالیف کیا ہے جیسا کہ اول مرتبہ نازل ہوا تھا عکرمہ نے کہا اگر تمام انس و جن جمع ہو کر ویسے تالیف کرنا چاہیں تو ہرگز نہیں کر سکیں گے۔

  توضیح: مولوی عبیداللہ امرتسری نے روایت مذکورہ کی نسبت ابو داؤد کی طرف کی ہے لیکن ابوداؤد شریف میں ان الفاظ کے ساتھ ایسی کوئی روایت نہیں اصل مقصد اس روایت کے بیان کرنے کا یہ ہے کہ یہ ثابت کیا جائے یا کم از کم قارئین و ناظرین کے ذہن میں یہ خدشہ بٹھا دیا جائے کہ موجود قرآن مکمل نہیں اس میں کمی بیشی موجود ہے اصل اور مکمل قرآن وہ ہے جو سیدنا علی المرتضیٰؓ نے جمع کیا تھا اس مقصد کو بیان کرنے کا انداز اور ہے لیکن پس پردہ یہی شیعی عقیدہ کارگر ہے سیدنا علی المرتضیٰؓ کے حوالے سے یہ ذکر کرنا کہ یہ میری رائے یہ ہے کہ اس قرآن میں زیادتی کی جائے گی اس عقیدے کی نشاندہی کرتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر سیدنا علی المرتضیٰؓ کو جمع قرآن کے بارے میں بھروسہ نہ تھا اور جب سیدنا علی المرتضیٰؓ کا جمع کردہ نسخہ عام نہ ہوا تو پھر اپ کا یہ خدشہ عملی طور پر سامنے آ گیا لہٰذا موجودہ قرآن میں بہت سی ایسی آیات اور کثیر تعداد میں ایسے کلمات ہیں جو خود ساختہ ہیں یہی شیعہ کہتے ہیں اور یہی بات عبیداللہ امرتسری بھی کہہ رہا ہے اس کی تفصیل کے لیے عقائد جعفریہ جلد سوم کا مطالعہ بہت مفید ہوگا روایت مذکورہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر وہ قرآن مل جاتا جس کو سیدنا علی المرتضیٰؓ نے جمع کیا تو بہت کچھ علم حاصل ہوتا اس سے عبید اللہ امرتسری یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے جمع کردہ قرآن میں اس موجود قرآن کی بنسبت زیادہ علم ہے اور یہ بات واضح ہے کہ علم کی زیادتی کے لیے الفاظ و آیات کی زیادتی ضروری ہے اگر سیدنا علی المرتضیٰؓ کا جمع کردہ وہ قرآن اور موجود قرآن آیات و کلمات کی تعداد کے اعتبار سے برابر ہوتے تو زیادتی کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا کیونکہ قرآن کریم چاہے ترتیب نزولی پر مرتب و مؤلف کیا جائے یا موجود ترتیب پر آیات اور سورتیں برابر ہی رہتی صرف تقدیم اور تاخیر کا فرق پڑتا لیکن زیادتی علم کا پایا جانا اس کو متقاضی ہےکہ کچھ نہ کچھ اضافہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے جمع کردہ نسخے میں کیا تھا اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ موجود قرآن ناقص اور نامکمل ہے اور یہ بھی اہلِ تشیع کا عقیدہ ہے جیسے عبیداللہ امرتسری بیان کر رہا ہے علاوہ اس کے کہ اس روایت میں خود تضاد ہے (جیسا کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کا خدشہ کے لوگ اس قرآن میں زیادتی کر دیں گے اور یہ کہ آپ کا مرتب کردہ زیادہ آیات پر مشتمل تھا)یہ روایت اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اختیار پر بھی ضرب کاری لگا رہی ہے قرآن کریم کے بارے میں اس کا اعلان ہے انا لہ لحافظون ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں تو جب موجود قرآن کمی بیشی لیے ہوئے ہیں اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کا جمع کردہ کہیں نظر نہیں آتا تو پھر اللہ تعالیٰ کا حفاظت کرنا کہاں گیا؟ معاذ اللہ اس کی حفاظت کا انتظام ناقص تھا سیدنا علی المرتضیٰؓ کو اللہ تعالیٰ کے اس اعلان کی خبر نہ تھی یا اس کی حفاظت کرنے پر انہیں شک تھا؟

روایت مذکورہ کی روشنی میں بھی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ صاحب ارحج المطالب مولوی عبیداللہ امرتسری شیعہ مسلک کا پیرو ہے اور ان کی نظریات کی تبلیغ و ترویج اس کا مطمع نظر ہے نہ یہ سنّی نہ اس کی تصنیف سنّی لہٰذا اس کا کوئی حوالہ ہمارے خلاف بطور حجت پیش نہیں کیا جا سکتا۔

 عبارت نمبر7 قال الحافظ ابو عبد اللّٰه محمد بن يوسف الكنجي الشافعي هكذا ذكر الشيخ محي الدين النووى وقال ابو بكر النقاش انها نزلت في بيان الولاية لعلي وقال الامام فخر الدين الرازي وهو قول ابنِ عباس والبراء بن عازب ومحمد بن علي بن الحسين ابنِ علي و ابو سعيد الخدري( ۔ارحج المطالب صفحه 75)

 ترجمہ: حافظ ابوعبداللہ محمد بن یوسف الکنجی شافعی کفایة الطالب میں لکھتے ہیں کہ امام نووی شارح صحیح مسلم نے بھی اس طرح پر ذکر کیا ہے اور ابوبکر نقاش کہتے ہیں کہ یہ آیت جناب امیر کی روایت کی نسبت نازل ہوئی اور امام فخر الدین رازی لکھتے ہیں کہ غدیر خم کے روز اس آیت کے شرف نزول کی نسبت عبداللہ بن عباس ، برا بن عازب اور جناب محمد بن علی بن الحسین بن علی کا قول ہے۔

صفحہ 4 از 6