ارحج المطالب مصنفہ عبید اللہ امرتسری - ردِ رافضیت | دفاع…

ارحج المطالب مصنفہ عبید اللہ امرتسری

  محمد علی

صفحہ 5 از 6

 توضیح: جس آیت کریمہ کے بارے میں مذکورہ اقوال لکھے گئے وہ یہ ہے یا ایہا الرسول بلغ ما انزل اليك من ربك الخ اس آیت کا شان نزول ولایت سیدنا علی المرتضیٰؓ کے لیے ہوا یہ عقیدہ سراسر شیعہ عقیدہ ہے اس کی تفصیلی بحث ہم نے تحفہ جعفریہ جلد اول اور عقائد جعفریہ جلد دوم میں کر دی ہے سبب نزول یوں بنایا گیا کہ حضورﷺ کو حج کے دوران میدان عرفات میں جبرائیلؑ آمین نے یہ پیغام دیا کہ یہاں تم سیدنا علی المرتضیٰؓ کی ولایت کا اعلان کرو آپ نے اعلان نہ کیا اور اپنے تحفظ کی اللہ تعالیٰ سے ضمانت طلب کی دوسری طرف منٰی میں جبرائیلؑ حاضر ہو گئے پھر یہی سوال جواب ہوئے تیسری مرتبہ مکہ کے قریب ملاقات ہونے پر جبرائیلؑ نے عرض کیا پھر وہی طلب ضمانت کا جواب چوتھی مرتبہ خم غدیر پر پہنچ کر آپ پر مذکورہ آیت اتاری گئی جس میں تنبیہ کی گئی اگر ٹال مٹول کیا تو رسالت کی تبلیغ ناقص بلکہ کالعدم ہو جائے گی یہ اول تا آخر شیعہ عقائد کی کہانی ہے پھر اسے محمد بن یوسف الکنجی صاحب کفایة الطالب کے حوالے سے پیش کرنا سونے پر سہاگہ کے مترادف ہے عبیداللہ امرتسری نے رعب ڈالنے کے لیے ابو نقاش کا نام لیا جس کی کوئی سند ذکر نہ کی امام رازیؒ کو اپنا ہم نوا ثابت کیا حالانکہ امام رازیؒ نے اس آیت کریمہ کی تفسیر میں دس عدد روایات پیش کیں آخری یہ کہ نزلت الايتہ في فضل علي ابنِ ابي طالب یعنی یہ آیت کریمہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کی فضیلت میں اتری کیا فضیلت اور امامت لازم ملزوم ہیں؟امام رازیؒ نے اس آیت کریمہ کا مفہوم جو راجح طور پر بیان کیا وہ یہ ہے اور یہی ان کا مسلک ہے۔

 تفسیر کبیر: اعلم ان هذه الروايات وان كثرت الا ان الاولى حمله على انه تعالى امنه من مكراليهودوالنصارى وامره باظهار التبليغ من غير مبالاة من هوبهم وذلك لان ماقبل هذه الاية بكثير وما بعدها بكثير لما كان كلاما مع اليهود والنصارى امتنع القاء هذه الايۃ الواحدة في البين على وجه تكون اجنبيه عما قبلها وما بعدها

( تفسیر کبیر: جلد 12 صفحہ 50)

 ترجمہ: مذکورہ آیت یا ایہا الرسول بلغ انزل الیک الخ کے مفہوم پر اگرچہ بہت سی روایات ملتی ہیں مگر بہتر یہ ہے کہ اسے اس بات پر محمول کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاری کے مکر و فریب سے آپ کو امن میں رکھنے کا اعلان فرمایا اور بےدھڑک تبلیغ کرنے کا حکم دیا یہ معنیٰ اس لیے بہتر ہے کیونکہ اس سے پہلے کی بکثرت آیات اور اس کے بعد کی بہت سی آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاری سے گفتگو کی لہٰذا اس آیت کو ماقبل اور مابعد سے کاٹ کر اجنبی مضمون پر محمول کرنا ممتنع ہے۔ 

قارئین کرام! عبید اللہ امرتسری شیعی کا ارحج المطالب میں امام رازی صاحبؒ کا قول اپنے مسلک کی تائید میں ذکر کرنا کہاں تک درست ہے؟ آپ نے امام رازیؒ کی تفسیر سے ان کا اپنا مسلک ملاحظہ کر لیا سیدنا علی المرتضیٰؓ کی ولایت و امامت کا ان کے مسلک میں اس آیت سے ثابت نہیں تو اس طرح عبید اللہ امرتسری نے اس عبارت کے ذریعے بھی شیعت کا پرچار کیا خم غدیر پر سیدنا علی المرتضیٰؓ کی امامت کا اعلان ہونا شیعی مسلک ہے جس کا نتیجہ یہ کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا بطور خلیفہ و امام انتخاب غلط تھا اسی مسلک کی تبلیغ صاحب ارحج المطالب بھی کر رہا ہے۔

 عبارت نمبر 8: عن حذيفه قال قال رسول الله‎ علي خير البشر من ابى فقد كفر اخرجه ابنِ مردويه۔

(ارحج المطالب صفحه 46)

 ترجمہ: حذیفہ روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ فرماتے تھے علی خیر البشر ہے جس نے انکار کیا وہ کافر ہوا۔

 توضیح:ابنِ مردویہ اور سیدنا حذیفہؓ کے درمیان تین چار صدیوں کا طویل زمانہ ہے کیونکہ سیدنا حذیفہؓ صحابی رسولﷺ ہیں اور ابنِ مردویہ نے 410ھ میں انتقال کیا صاف واضح کے ان دونوں میں ملاقات نہ ہوئی لہٰذا کئی واسطوں سے یہ روایت ابنِ مردویہ تک پہنچی ہو گی وہ واسطے کیا ہے کتنے ہیں کیسے ہیں؟ کوئی علم نہیں اس لیے تحقیق کے میدان میں یہ روایت قابل احتجاج ہرگز نہیں اب اس کے مضمون کی طرف ہم آتے ہیں وہ بھی نہایت عجیب ہے بلکہ کفر تک پہنچانے والا ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ وہ خیر البشر سے مراد مطلقاً ہر بشر وہ انسان سے بہتر ہے تو پھر سیدنا علی المرتضیٰؓ کی افضلیت تمام انبیاء کرامؑ حتیٰ کہ حضورﷺ‎ پر بھی تسلیم کرنا پڑے گی اسے تسلیم کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہے اور اگر خیر البشر سے مراد صرف حضورﷺ‎ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین لیے جائے تو اجماع امت کے مخالفت لازم آتی ہے کیونکہ امت محمدیہ میں سیدنا صدیق اکبرؓ کی افضلیت پر اجماع منعقد ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ کچھ مسلمان علماء سیدنا علی المرتضیٰؓ کی افضلیت کے قائل ہیں تو ہم کہیں گے کہ ان علماء نے عبیداللہ امرتسری کی طرح اس افضلیت کے منکر کو کافر ہرگز نہیں کہا آخر میں ہم خود عبیداللہ امرتسری کے منہ سے اس کا اپنے بارے میں امامی ہونا ثابت کر کے بحث کو ختم کر رہے ہیں۔ ملاحظہ ہو:

 مولوی عبیداللہ امرتسری کا اپنی زبان سے اپنا شیعہ ہونے کا اقرار

ارحج المطالب: ہمارے نزدیک سبِّ شیخینؓ نہایت امر شینع ہے ہم اپنے امامیہ مذہب کے ساتھ ہرگز اس میں اتفاق نہیں کر سکتے۔

 (ارحج المطالب صفحہ 673)

صفحہ 5 از 6