ارحج المطالب مصنفہ عبید اللہ امرتسری - ردِ رافضیت | دفاع…

ارحج المطالب مصنفہ عبید اللہ امرتسری

  محمد علی

صفحہ 6 از 6

 توضیح: مولوی عبیداللہ امرتسری تسلیم کرتا ہے کہ میں اِمامی ہوں لیکن ساتھ ہی اِمامیہ مسلک کے ایک عقیدے سے اتفاق کرنے سے پہلو تہی کی جا رہی ہے پہلی تو بات یہ ہے کہ اِمامیہ فرقہ کے نزدیک سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کو برا بھلا کہنا ضروری ہے اس کے بغیر کوئی پکا اِمامی نہیں بن سکتا اس لیے اگر عبیداللہ امرتسری اِمامی کہلانے میں عار نہیں محسوس کرتا تو پھر اس عدم اتفاق کے اعلان کی ضرورت کیوں؟؟ممکن ہے کہ کچھ دوسرے نام نہاد سنّیوں کی طرح اس نے بھی تقیہ سے کام لیا ہو اور یہ عدم اتفاقی اسی کا ثمرہ ہو دوسری بات یہ ہے کہ صرف شیخینؓ کے برا بھلا کہنے میں اس کے بقول اسے دوسرے امامیوں سے اتفاق نہیں دیگر تمام عقائد و نظریات میں ان سے اتفاق ہے اب اس سے بڑھ کر اِمامی شیعی ہونے کا ثبوت کیا ہو سکتا ہے۔ مختصر یہ کہ ہم نے آٹھ عدد عبارات ایک عدد قول مقبول سے غلام حسین نجفی کی عبارت اور آخری حوالہ جس میں عبیداللہ نے اپنے اِمامی ہونے کا صراحتاً اقرار کیا کل 10 حوالہ جات نقل کیے ہیں ان کے مطالعے کے بعد کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ مولوی عبیداللہ امرتسری صاحب ارحج المطالب سنی عالم تھا اور نہ ہی اس کی تصنیف ارحج المطالب کو معتبر سنی کتاب کہا جا سکتا ہے۔

 والله اعلم بالصواب

 فاعتبروا يا اولى الابصار


صفحہ 6 از 6