عربی اور غیر عربی میں عدم امتیاز
علی محمد الصلابیوالیان ریاست کے لیے فرض ہے کہ وہ عوام میں مساوات برتیں، مسلمانوں میں عربی اور غیر عربی کا امتیاز نہ ہو۔ چنانچہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ ایک افسر کے پاس کچھ لوگ جماعت کی شکل میں آئے۔ اس نے عربوں کو عطیات سے نوازا اور غلاموں کو نظر انداز کر دیا، جب حضرت عمرؓ کو اس بات کی خبر ملی تو آپ نے اس کے نام خط لکھا: ’’حمد و صلاۃ کے بعد! آدمی کے برا ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔‘‘ اور دوسری روایت کے مطابق آپؓ نے لکھا: ’’تم نے ان سب میں برابری کیوں نہیں کی؟‘‘
(الوثائق السیاسیۃ للعہد النبوی والخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 523) بہرحال اس بحث میں مذکورہ فرائض کے علاوہ بھی گورنران پر بعض دیگر اخلاقی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور ان کی بجا آوری کا اسلام میں سختی سے حکم دیا گیا ہے مثلاً عہد و پیمان کی وفاداری، عمل میں خلوص و للہیت اور ہمہ وقت اللہ کا خوف، نیکی، تقویٰ اور جملہ اعمال خیر میں کاروان خیر و اصلاح کے ساتھ تعاون، اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اللہﷺ اور مسلمانوں کے حکام و عوام کے لیے خیر خواہی و ہمدردی وغیرہ۔ بلاشبہ ان مکارم اخلاق کی پابندی پوری انسانیت کو اصلاح و درستی کی راہ پر لے جانے والی ہے۔
(النظریات السیاسیۃ الإسلامیۃ: محمد ضیاء الریس: صفحہ 307، 308) ان اعلیٰ اخلاقی قدروں کی پابندی اور ان کی بجا آوری صرف گورنران کی ذات تک محدود نہ تھی بلکہ ان پر واجب تھا کہ وہ خود اس کا التزام کرنے کے ساتھ اپنے خطبوں و نصیحتوں میں، خطوط و رسائل میں اور عملی برتاؤ میں اسے لوگوں کے سامنے پیش کریں۔ چنانچہ خلافت راشدہ کے دور میں گورنران عموماً ان اعلیٰ اخلاقیات کی بجا آوری اور فرائض منصبی کی ادائیگی میں ذاتی طور پر اور رعایا کے ساتھ اپنے برتاؤ میں بھی ایک صالح نمونہ تھے۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 85)