الفصول المہمہ مصنفہ علی بن محمد المعروف ابن صباغ - ردِ…

الفصول المہمہ مصنفہ علی بن محمد المعروف ابن صباغ

  محمد علی

صفحہ 1 از 3

الفصول المہمہ مصنفہ علی بن محمد المعروف ابنِ صباغ

ان کتب میں سے جس کے مصنفین میں شیعیت پائی جاتی ہے ایک کا نام الفصول المہمة فی معرفة احوال الائمة علیہم السلام بھی ہے اور اس کتاب کو بھی کچھ شیعہ مؤلفین نے اہلِ سنت کی معتبر کتاب کے عنوان سے پیش کر کےاس کی عبارات سے اپنے نظریات ثابت کیے۔

یوں قارئین کرام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ اہلِ سنت اور شیعہ کا فلاں نظریہ مشترکہ ہے حالانکہ اس کتاب کا مصنف اہلِ سنت نہ ہونے کی وجہ سے سنیوں کے لیے کوئی دقعت نہیں رکھتا چناچہ غلام حسین نجفی نے اسی انداز فریبانہ کو پیش نظر رکھ کر قول مقبول میں لکھا ہے۔ 

قول مقبول: قالت ام سلمی قال لی النبی قومی تنحی عن اھل بیتی فتنحیت

(بحوالہ الفصول المہمہ: صفحہ25 مطبوعہ طہران: بحوالہ قوال مقبول صفحہ 159)

ترجمہ: سیدہ ام سلمہ نے کہا مجھے نبی پاکﷺ نے فرمایا تو میری اہلِ بیت سے الگ ہو جا لہٰذا میں الگ ہو گئی۔

توضیح: الفصول المہمہ کی مزکورہ عبارت کو ذکر کر کے نجفی نے یہ ثابت کیا ہے کے اہلِ سنت کے نزدیک بھی ازواج مطہرات حضورﷺ کی اہلِ بیت میں شامل نہیں صاحب الفصول المہمہ کا تعارف بحیثیت مصنف اس کتاب کے ٹائٹل پر یوں کرایا گیا ہے۔ علی محمد بن احمد مالکی مالکی چونکہ امام مالک بن انس کے مقلد کو کہتے ہیں اور ائمہ اربعہ اپنے مقلدین سمیت اہلِ سنت کہلاتے ہیں لہٰذا علی بن محمد احمد بھی سنی ہوا حالانکہ اس کی رفض و شیعت ہر دو مکتبہ فکر کے نزدیک ثابت ہے اس کی کتاب کے بعض مندرجات، کتب شیعہ میں اس کو اپنا مشائخ کہنا اور اہلِ سنت کا اس کی شیعت کی وضاحت کرنا یہ تین امور اس کے نظریات و متقدات کا فیصلہ کر دیتے ہیں سب سے پہلے ہم اس کی مذکورہ تصنیف سے چند اِقتباسات پیش کر رہے ہیں انہیں پڑھیں اور فیصلہ کریں کہ ان کا قائل کون ہے۔

 عبارت نمبر 1 وقد نسب بعضہم المصنف فی ذلک الی الترفض لما ذکرہ فی خطبتہ اولہ الحمد للّٰہ الذی جعل من صلاح ھذہ الامة نصب الامام العادل

(مقدمہ الفصول المہمہ: صفحہ 6)

ترجمہ: (صاحب کشف الظنون نے کہا) بعض نے الفصول المہمہ کے مصنفین کو رافضیت کی طرف منصوب کیا اور اس پر دلیل اس کی کتاب کے خطبہ کے ان الفاظ کو بنایا تمام تعریفیں اللہ پاک کے لیے کہ جس نے اس امت کی اصلاح کے لیے امام عادل کو مقرر کیا خطبہ کی مذکور عبارت میں امامت کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف منصوص قرار دیا گیا اور یہی نظریہ اہلِ تشیع کا دربارہ امامت ہے اور اہلِ سنت کے ہاں مسئلہ امامت منصوص من اللہ نہیں لہٰذا مصنف الفصول المہمہ کا عقیدہ وہی ہے جو اہلِ رفض و تشیع کا ہے اس لئے یہ علمائے اہلِ سنت میں سے نہیں ہے۔

عبارت نمبر 2 اکثر القول بتبجیلہ واستحسان فرایدہ من الحج المعاصرین استاذنا الاکبر الحجتہ الامام الشیخ محمد الحسین آلی کاشف الغطاء دامت فواضلہ 

(مقدمہ الفصول المہمہ: صفحہ 8)

ترجمہ: کتاب الفصول المہمہ کی عظمت شان اور اس کے دلائل کی اچھائی مصنف کے ہم عصر علماء میں سے خاص کر استاد الاکبر الحجتہ الامام الشیخ محمد حسین نے بیان کی ہے جو صاحب الکاشف الغطاء ہیں۔

قارئین کرام! شیخ محمد حسین آل کاشف الغطاء اہلِ تشیع کا بہت بڑا مجتہد ہےاس کی تصنیف اصل شیعہ و اصولہا جیسا کہ اپنے نام سے ظاہر ہے مسلک شیعت کے اصول بیان کرنے پر لکھی گئی اور یہ کتاب دنیائے شیعت کی مسلمہ کتاب ہے اس سے صاف ظاہر کہ اگر الفصول المہمہ کا مصنف پکا سنی ہوتا تو اس کی کتاب کے دلائل و نظریات کو ایک بہت بڑا شیعہ مجتہد کیسے اچھے کہتا یوں محمد حسین آل کاشف الغطاء نے اس کی شیعت توثیق کر دی ادھر شیعہ یہ کہتے ہیں کہ جس راویت میں سنیوں کی موافقت نظر آتی ہو اسے چھوڑ دو ان دونوں باتوں کو پیش نظر رکھ کر آپ صاحب الفصول المہمہ کے بارے میں باآسانی فیصلہ کر سکتے ہیں۔

عبارت نمبر 3 قلنا ان من اھمیت ھذا الکتاب الجلیل القدر ھو اعتماد مؤلفہ علی کتب الفریقن فی تثبیت امامة الائمة الاطہار (ع) ومن جملتیہا کتاب

 (کفایت الطالب فی مناقب امیر المومنین علی بن ابی طالب) للشیخ العلامت فقیہ الحرمین الکنجی الشافعی المتوفی سنہ 658)

(مقدمت الکتاب: صفحہ 8) 

ترجمہ: ہم کہتے ہیں کہ اس عظیم القدر کتاب کی اہمیت یہ بھی ہے کہ اس کے مصنفین نے فریقین کی کتب سے ائمہ اطہار کی امامت ثابت کی ہے اور ان کتابوں میں سے ایک کتاب کفایت الطالب فی مناقب امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالبؓ بھی ہے جس کے مصنف علامہ الشیخ فقیہ الحرمین الکنجی شافعی متوفی 658ھ ہیں 

توضیح: کفایت الطالب کا تعارف چند اوراق قبل آپ ملاحظہ کر چکے ہیں دھوکہ دہی کے لیے اس کے نام کے آخر میں "شافعی" لکھا گیا ہے ورنہ درحقیقت یہ شخص پکا رافضی ہے، اب فصول المہمہ کا ماخذ ایسی کتاب ٹھہری جس کا مصنف کٹر رافضی ہو تو پھر اس کا نظریہ خود آشکارا ہو جاتا ہے ایسی کتاب کو اہلِ سنت کی معتبر کتاب کہنا اور اس سے عقائد اہلِ تشیع کی توثیق پیش کرنا کس طرح درست ہو سکتا ہے۔

الفصول المہمہ کے چند ماخذ

عبارت نمبر 4

  1.   المغازی لابنِ قتیبہ 
  2.  الفتوح لابنِ اعثم 
  3. الارشاد للشیخ مفید 
  4. الجوانح والجوامع للامام قطب الدین ابی سعیدھبت اللہ ابنِ الحسن نھاوندی 
  5. الدلائل للحمیری 
  6.  الوزیر السعید مویدالدین العلقمی 

(مقدمہ صفحہ 9)

توضیح: مندرجہ بالا چھ کتب کے مصنف بھی کفایة الطالب کے مصنف کی طرح رافضی ہیں اگرچہ اس کے مصنف کے نام کے آخر میں المالکی لکھا گیا ہے لیکن یہ صرف فریب دینے کے لیے کیا گیا ہے درحقیقت وہ اہلِ تشیع میں سے ہے۔

عبارت نمبر 5 لقد اعتمد المؤلف فی نقل الاحادیث الشریفۃ والاخبار فی فضائل آل البیت المیامین الاخیار علی روایت الائمۃ المعصومین علیھم السّلام ومن بعدھم علی الصحابت الکرام مثل ابنِ عباس و عبداللہ بن مسعود و ابو ذر غفاری الخ 

(مقدمہ: صفحہ 9)

ترجمہ: مؤلف نے فصول المہمہ میں احادیث و اخبار جو کہ فضائل آلِ بیت کے متعلق میں نقل کرنے میں ان پر اعتماد کیا ہے جو ائمہ اہلِ بیت معصومین سے مروی ہیں اس کے بعد چند صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مثل سیدنا ابنِ عباس، سیدنا عبد اللہ بن مسعود اور سیدنا ابو ذر غفاریؓ سے بھی روایات کی ہیں۔

صفحہ 1 از 3