الفصول المہمہ مصنفہ علی بن محمد المعروف ابن صباغ - ردِ…

الفصول المہمہ مصنفہ علی بن محمد المعروف ابن صباغ

  محمد علی

صفحہ 2 از 3

توضیح: فصول المہمہ کا مقدمہ تحریر کرنے والا کٹر شیعہ ہے اور اس نے صاحب الفصول المہمہ کے شیعہ ہونے کی تائید اس طرح کی کہ یہ بھی ائمہ اہلِ بیت کو معصوم سمجھتا ہے حالانکہ اہلِ سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرات انبیاء کرامؑ کے علاؤہ کوئی اور معصوم نہیں ہے عصمت ائمہ دراصل اہلِ تشیع کا عقیدہ ہے لہٰذا اس سے بھی ثابت ہوا کہ صاحب الفصول المہمہ اہلِ سنت کا فرد نہیں بلکہ اہلِ تشیع کا ایک فرد ہے۔

عبارت نمبر 6 قد اثبت الوصیت والامامت بعد رسول اللہ لامیر المومنین (ع) فی موضوعات کتابہ ھذا

 (مقدمہ الکتاب: صفحہ 16)

ترجمہ: مصنف نے اپنی اس کتاب میں وصیت اور امامت کو رسول اللہﷺ کے بعد سیدنا علی المرتضیٰؓ کے لیے ثابت کیا ہے یہ بات اس کتاب کے موضوعات میں سے ایک ہے۔

توضیح: قارئین کرام! اہلِ سنت کا عقیدہ اس بارے میں یہ ہے رسول اللہﷺ کے بعد خلافت بلا فصل اور امامت کا منصب سیدنا صدیق اکبرؓ کو ملا اس کے بر خلافت بلا فصل اور امامت بلافصل کو سیدنا علی المرتضیٰؓ لیے ثابت کرنے والا قطعاً سنی نہیں ہو سکتا۔

عبارت نمبر 7 قال الشیخ کمال الدین طلحة توفیت فاطمتہ علیہا السلام لیلت الثلاثاء لثلاث خلون من شھر رمضان المعظم سنة احدی عشرة من الھجرۃ ودفنت بالبقیع لیلا صلی علیھا علی ابنِ ابی طالب وکبر علیھا خمس تکبیرات

(الفصول المہمہ فی ذکر البتول: صفحہ 147) 

 ترجمہ: شیخ کمال الدین طلحہ نے کہا خاتون جنت سیدہ فاطمتہؓ کا گیارہ ہجری رمضان المبارک کی تین تاریخ منگل کو انتقال ہوا اور رات کے وقت جنت البقیع میں دفن کی گئیں سیدنا علی المرتضیٰؓ نے ان کی نماز جنازہ پانچ تکبیرات سے پڑھائی۔

توضیح: اہلِ سنت کی کتب مثلاً البدایہ والنہایہ اور تاریخ خمیس میں سیدہ فاطمہؓ کی نماز جنازہ پڑھانے والا سیدنا صدیق اکبرؓ کو لکھا گیا ہے اور انہوں نے چار تکبیرات کہیں لیکن صاحب الفصول نے امام اور تعداد تکبیرات میں اہلِ سنت کے قول کی مخالفت کی اور اہلِ تشیع کا مسلک ثابت کیا لہٰذا اسے سنی کہنا صرف دھوکہ دہی کے لیے ہو سکتا ہے ورنہ یہ اہلِ تشیع میں سے ایک کٹر شیعہ ہے۔

عبارت نمبر 8 فصل فی ذکر وفاتہ ومدۃ عمر وامامتہ قال ابو علی الفضل بن الحسن الطبرسی فی کتابہ "اعلام الوری " بعد ان ثم الصلح بین الحسن و معاویۃ وخرج الحسن الی المدینۃ واقام بھا عشر سنین سقته زوجته جعدۃ بنت الاشعت بن قیس الکندی السم وذلک بعد ان بدل لھا معاویۃ علی سمہ ماۃ الف درھم فبقی مریضا اربعین یوما

(الفصول المہمہ فی ذکر البتول: صفحہ 146)

 ترجمہ: امام حسن کی وفات ان کی عمر اور مدت خلافت کی فصل میں مؤلف نے ذکر کیا کہ ابو علی فضل بن حسن طبرسی نے اپنی تصنیف"اعلام الوریٰ" میں لکھا کہ جب  معاویہ اور سیدنا حسن کی صلح ہوگئی اور حسن مدینہ کی طرف تشریف لے گئے وہاں کچھ سال آپ نے قیام فرمایا پھر ان کی بیوی جعدہ بنت اشعث نے انہیں زہر کھلایا اور اس زہر کھلانے کے لیے  معاویہ نے ایک لاکھ درہم خرچ کیے تھے چناچہ اس زہر کے اثر سے چالیس دن بیمار رہ کر سیدنا حسنؓ نے انتقال فرمایا۔

توضیح: قارئین کرام! اہلِ سنت کا عقیدہ یہ ہے اور کتب شیعہ میں بھی اس کی تائید موجود ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ سے جب سیدنا حسنؓ کی صلح ہوگئی تو سیدنا امیر معاویہؓ انہیں خطیر رقم سالانہ بطور وظیفہ دیتے رہے اس کی تفصیل تحفہ جعفر جلد چہارم میں وضاحت سے مذکور ہو چکی ہے رہا زہر دینے کا معاملہ تو خود حسنین کریمینؓ کو بھی علم نہیں تھا چہ جائیکہ کسی دوسرے کو اس بارے میں علم ہو صاحب الفصول کا سیدنا امیر معاویہؓ پر یہ الزام دھرنا کہ انہوں نے سیدنا حسنؓ کو زہر کھلانے کے لیے بہت سے دراہم خرچ کیے اہلِ تشیع کی ترجمانی کرتا ہے صحابی رسول اور کاتب وحی پر ایک بہتان عظیم بھی ہے علاوہ ازیں جس کتاب کا حوالہ دیا گیا ہے اس کا مصنف بہت بڑا شیعہ مجتہد بلکہ اس کے شاگردوں میں سے نو شاگردوں کی اجتہادی عظمت کا تذکرہ اعلام الوریٰ میں یوں مذکور ہے۔ 

  1.  الشیخ محمد بن علی شھر آشوب السروی انمازنہ رانی۔
  2.  ولدہ الذاکی رضی الدین الحسن بن الفضل ابوانصر ابطرسی۔
  3. الشیخ منتجب الدین علی بن عبید اللہ بن الحسن المقلب بحسکا الرازی من احفاد ابن باابویه القمی۔
  4. الشیخ سعید بن ھبة اللہ ابو الحسین المعروف بالقطب الراوندی۔
  5.  الشیخ عبداللہ بن جعفر الدوریستی ۔
  6.  الشیخ شاذان بن جبرئیل القمی۔ 
  7.  السید مھدی بن نزار ابو الحمد الحسینی القائبنی۔
  8.  السید شر فشاہ بن محمد بن زیادۃ الافطسی 
  9.  السید فضل الدین علی بن عبیداللہ الحسنی ضیاء الدین راوندی۔

(علام الوری: صفحہ 5 ترجمۃ المؤلف)

قارئین کرام! یہ تو کتب وہ ہیں جن پر شیعت کی چکّی گھومتی ہے اور یہ ان لوگوں کی تصانیف ہے جن کو شیعت میں اعلیٰ مقام حاصل ہے ان کے استاد اور ان کے مربی فضل ابنِ عباس طبرسی کے شیعہ ہونے میں کس کو اعتراض ہے جب پورا ٹولہ "گروہ شیعہ" سے تعلق رکھتا ہے تو پھر ان کی کتب کو اہلِ سنت کی مشہور و معتبر قرار دینا کس قدر جہالت ہے یہ چند حوالہ جات کتاب "الفصول المہمہ"سے ہم نقل کیے ہیں ان کے علاؤہ خود اہلِ تشیع نے اس کا تعارف "اپنا آدمی" کے طور پر کرایا ہے۔

کتب شیعہ سے صاحب الفصول المہمہ علی بن محمد کا تعارف

الذریعہ: الفصول المہمۃ فی معرفۃ الائمۃ الاثنی عشر وفضلھم ومعرفۃ اولادھم ونسلھم للشیخ نور الدین محمد علی بن محمد الصباغ المبلکی المکی المتوفی 855 متد اول اقلہ (الحمدللہ الذی جعل من صلاح ھذہ الامۃ نسب الامام العادل) عدۃ فی رسالۃ (مشائخ الشیعۃ) منھم مع انہ من اعاظم المالکیۃ ولذا قال فی (کشف الظنون) انہ نسب بعضھم المصنف الی الرفض لما ذکرہ فی خطبتہ ۔(الذریعہ جلد 16صفحہ 246 در حروف فاءصاد واؤ مطبوعہ بیروت)

صفحہ 2 از 3