الفصول المہمہ مصنفہ علی بن محمد المعروف ابن صباغ - ردِ…

الفصول المہمہ مصنفہ علی بن محمد المعروف ابن صباغ

  محمد علی

صفحہ 3 از 3

ترجمہ: فصول المہمہ کتاب جس میں بارہ اماموں کے فضل اور ان کی اولاد و نسل کی معرفت کا تذکرہ ہے اس کے مصنف شیخ نور الدین علی بن محمد الصباغ مالکی ہیں جن کا انتقال 755ء میں ہوا مشہور و معروف کتاب ہے اس کی ابتدا ان الفاظ سے ہوتی ہے "الحمدللہ الذی جعل من صلاح ھذہ الامۃ نصب الامام العادل" رسالہ مشائخ شیعہ میں اس مصنف کو شیعہ مشائخ میں شمار کیا گیا حالانکہ یہ مالکی مسلک کے بڑے عالم تھے اس لیے کشف الظنون میں ہے کہ بعض نے اس کے مصنف کی طرف رافضی ہونے کی نسبت کی کیونکہ اس کی کتاب کے خطبہ میں مذکورہ الفاظ اس کے رفض کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

الکنی والالقاب: وقد یطلق ابنِ الصباغ علی نور الدین علی بن محمد بن الصباغ المکی المالکی صاحب کتاب الفصول المہمہ فی معرفۃ الائمۃ قال الکاتب الحلبی وقد نسبہ بعضہم الی الترفض لما ذکر فی اول خطبتہ الحمد للّٰہ الذی جعل من صلاح ھذہ الامۃ نصب الامام العادل الخ توفی سنۃ855 (الکنی والالقاب جلد 1 صفحہ 336)

ترجمہ: ابنِ الصباغ نور الدین علی بن محمد الصباغ کو بھی کہا جاتا ہے جو مکی اور مالکی ہے اور کتاب الفصول المہمہ کا مصنف ہے کاتب الحلبی نے کہا کہ اسے بعض علماء نے رافضی ہونے کی طرف منسوب کیا کیونکہ اس نے اسی مذکورہ کتاب کے شروع میں یہ لکھا ہے کہ تمام تعریفیں اس ذات کے لیے جس نے امت کی اصلاح کے لیے امام عادل کھڑا کیا 855ء میں اس کا انتقال ہوا۔

توضیح: قارئین کرام! صاحب الفصول المہمہ کے بارے میں دو عدد ایسی کتب شیعہ سے ہم نے حوالہ جات پیش کیے جن پر دنیائے شیعیت کو مکمل اعتماد ہے ان میں سے ایک نے بحوالہ کاتب حلبی اس کی رافضیت کو بیان کیا لیکن اس پر جرح نہ کر کے یہ تاثر دیا کہ کاتب حلبی کی بات درست ہے درست کیوں نہ ہوتی آخر مشائخ شیعہ کے مصنف نے اسے صرف شیعہ ہی نہیں بلکہ مشائخ میں سے لکھا ہے لہٰذا معلوم ہوا کہ ابنِ الصباغ علی بن محمد اہلِ سنت علماء میں سے نہیں بلکہ شیعہ ہے اور اس کتاب مذکورہ کا کوئی حوالہ ہم اہلِ سنت پر حجت نہیں ہو سکتا۔

فاعتبروایا اولی الابصار


صفحہ 3 از 3