Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شعبہ ترجمہ اور گورنران کے اوقات عمل

  علی محمد الصلابی

شعبہ ترجمہ

خلفائے راشدینؓ کے دور میں ترجمہ کا کام والیان ریاست کے معاون عہدوں میں شمار کیا جاتا تھا اور بیشتر اوقات میں اس کی سخت ضرورت محسوس کی جاتی تھی۔ ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے عراقی گورنران سے مطالبہ کیا کہ دارالخلافہ مدینہ میں ہمارے پاس فارس کے کچھ جاگیرداروں کو بھیج دو تاکہ خراج کے بارے میں ان سے کچھ تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ چنانچہ انہوں نے آپؓ کے پاس جاگیرداروں کو بھیجا اور ان کے ساتھ ایک ترجمان بھی بھیجا۔

(الخراج: أبو یوسف: 40، 41، الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 105) حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے بارے میں آتا ہے کہ انہیں فارسی زبان اچھی طرح آتی تھی اور انہوں نے ہی مدینہ میں حضرت عمرؓ اور ہرمزان کے درمیان ترجمانی کی تھی۔

(الخراج: أبو یوسف، صفحہ 40، 41، الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 105) خلفائے راشدینؓ کے دور میں پوری اسلامی سلطنت میں بلکہ اس سے پہلے بھی ترجمہ اور ترجمانی کا عام رواج تھا، پچھلے مباحث میں جہاں یہ ہم جان چکے ہیں کہ خراج کے دواوین و دفاتر غیر عربی زبان میں تھے وہیں ہمیں اس بات کا بھی شعور ہوتا ہے کہ ان ریاستوں میں مترجمین کی کس قدر ضرورت رہی ہو گی جو خراج وغیرہ کے معاملات میں ترجمانی کا کام کرتے رہے ہوں گے۔ بالخصوص ایسی حالت میں جب کہ خراج کے اعلیٰ افسران غیر عربی تھے۔ اسی طرح غلاموں اور مختلف اسلامی شہروں میں نو مسلموں کی کثرت نے عدل و قضاء سے متعلق بہت سارے معاملات میں ترجمہ کی ضرورت کو کافی اہم بنا دیا تھا۔ اسی طرح فاتح قائدین اسلام جو عموماً گورنران ہی ہوا کرتے تھے ان کے اور مفتوحہ ممالک کے باشندوں کے درمیان بات چیت کے لیے مترجمین کی ضرورت یقینی ہوا کرتی تھی۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 104)