Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مطالب المسئول مصنفہ کمال الدین محمد بن طلحه

  محقق اسلام حضرت مولانا علی صاحب

مطالب المسئول مصنفہ کمال الدین محمد بن طلحه

کمال الدین محمد بن طلحہ 582 ھ میں پیدا ہوا اور 652 ھ میں اس کا انتقال ہوا بظاہر شافعی المسلک کہلاتا ہے یا اسے لکھا جاتا ہے لیکن اس کے نظریات جو اس کی تصنیف مطالب المسئول سے معلوم ہوتے ہیں اُن کے پیش نظر اس کی رافضیت عیاں ہوتی ہے اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کے درمیان مختلف فیہ مسائل میں اس کا رجحان اہلِ سنت کی طرف نہیں بلکہ مسئلہ اِمامت میں واضح طور اس نے اہلِ تشیع کا عقیدہ اپنایا ہے ہم درج ذیل میں اس کی شیعیت پر چند شواہد پیش کرتے ہیں ملاحظہ ہوں۔

علمائے شیعہ نے اس کی مذکورہ کتاب کو اپنے ہاں معتبر گردانا ہے

مقدمة مطالب المسئول:

كَلِمَةُ الإِمَامِ ايَةِ اللهِ كَاشِف الْغَطَاء حَولَ هذَا الْكِتَابَ إِنَّ كِتَابَ (مطالب المسئول في مناقب آل الرسولﷺ) أَحَد الْكُتُبِ الْمُعْتَبَرَةِ فِي عَالَمِ التَّالِيتِ فَقَدْ حَوِيَ كُلَّ نَفیسٍ مِنَ الْقَوْلِ تَضَمَّنَ الْمُعَاكَمَاتِ الَّتِي تَهْدِفُ إِلَى تَدْوينِ فَضَائِلِ آلِ بَيْتِ مِنَ الطرْقِ الصَّحِيحَةِ وَالرُّواة الثقاتِ بِقَلْمٍ شَخْصِيَّةٍ عَرَفَهَا أَعْلَامُ الْمُؤْمِنِينَ بالضبط والتَّحْقِيق وَعَلَيْهِ فَهُوَ كِتَابٌ جَلِيلٌ حَويَ فَوائدَ جُمةً قَدْلَا يَحْوِيدَ كِتَاب آخر جَاءَتْ وَفْقَ مَا تَطْلُبُهُ هُدَاةُ الْفَضَائِلِ وَأَنْ بَابُ الْوَلاءِ لِلأَئمّةِ الطاهِرِينَ وَهَذَا عَمَلٌ يَسْتَحِقُ صَاحِبُه (الشيخ محمد رضا الكتبى) الَّذِي عُرِفَ بِمَسَاعِيهِ وجهودِهِ فِي نَشْرِ الكُتُبِ النَّفیسَةِ الشَّكْرِ والدعاء ۔

( مقدمة مطالب المسئول مصنفه كمال الدين محمد بن طلحه)

ترجمہ:

کتاب مطالب المسئول کے بارے میں امام آیت اللہ کاشف الغطاء کے تاثرات: دنیائے تصانیف میں کتاب مطالب المسئول ایک معتبر اور مشہور کتاب ہے مصنف نے اس میں نفیس باتیں درج کیں اور ایسے محاکمات پر مشتمل ہے جو اہلِ بیت کے فضائل کی طرف نشاندہی کرتے ہیں اس موضوع پر مصنف نے صحیحہ اور ثقہ روایات درج کیں اور مصنف مذکور کو مشہور مؤرخین نے صاحب ضبط و تحقیق میں شمار کیا لہٰذا یہ کتاب عظیم الشان کتاب ہے اور ایسے فوائد کی جامع ہے جو کسی اور کتاب میں نہیں پائےجاتے حضراتِ ائمہ طاہرین کے بارے میں صاحبان فضل اور ارباب ولایت کا دیرینہ مطالبہ اس کتاب نے پورا کر دیا ہے اور اس عمل کی بنا پر اس کا ناشر شیخ محمد رضابالکتبی ہماری دعا اور شکر کا مستحق ہے جس نے ایسی نفیس کتابوں کے چھاپنے اور نشر واشاعت میں بہت شہرت پائی ہے۔

توضیح:

کتاب مذکور کے بارے میں کہ جسے غلام حسین نجفی نے اہلِ سنت کی معتبر کتاب کے طور پر پیش کیا۔

  1. اسے ایسے مطبع نے چھاپا جو خالص شیعہ کتب کے نشر و اشاعت کا ادارہ ہے۔
  2. اس کی تعریف میں صاحب کاشف الغطاء نے خوب دل کھول کر داددی اور اس کے مصنف کو محقق کہا۔
  3. اسی علامہ نے اس کی اشاعت کرنے والے ادارے کو دعائے خیر سے نوازا۔
  4.  فضائل و مناقب اہلِ بیت پر خواہشات اہلِ تشیع کا پورا پورا حق ادا کیا گیا ۔

ان تمام باتوں کے پیشِ نظر محمد بن طلحہ کے شیعہ ہونے میں کسے شک ہو سکتا ہے صرف دھوکہ دینے کے لیے اس کے نام کے ساتھ شافعی ہونے کی دُم لگا دی گئی ہے۔

مقدمة مطالب المسئول 2

وَ قَدْ اعْتَمَدَ عَلَى هَذَا الْكِتَابِ كَثِيرٌ مِنَ الْعُلَمَاءِ وَ مِنْهُمُ الْعَلَامَةُ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْأَرْبَلِي الَّذِي نَقَلَ عَنْهُ كَثِيرًا فِي كِتَابِه (كشف الغمه) وكذالك ابن الصباح 

(مقدمة مطالب المسئول صفحہ4)

ترجمہ

اس کتاب کے مندرجات پر بہت سے علماء نے اعتماد کیا ان میں سے ایک علامہ علی بن عیسیٰ ارملی بھی ہیں جنہوں نے اس کتاب سے بہت سی باتیں اپنی کتاب کشف الغمہ میں نقل کیں اور اسی طرح ابنِ الصباغ نے بھی۔

توضیح:

جن علماء کا ذکر اس اعتبار سے کیا گیا کہ انہوں نے اس کی کتاب سے بہت زیادہ اِقتباس کیا ان میں سے ایک صاحب کشف الغمہ بھی ہیں جس کے شیعہ ہونے پر کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے جس کی عبارات کو ایک شیعہ عالم بطور تائید پیش کرے۔ اور اپنے مسلک کی توثیق کے طور پر پیش کرے اُسے اہلِ سنت کا عالم کہنا کس قدر زیادتی اور ناانصافی ہے۔

مقدمہ مطالب المسئول3:

وَالْأَوَّلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ والثاني مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهﷺ وَكُلٌ وَاحِدٍ مِنْ هٰذينِ الْأَصْلَيْنِ مُرَكبَ مِنْ اثْنَى عَشَرَ حَرْفًا وَالْإِمَامَة فَرْغ عَلَى الْإِيمَانِ الْمُتَاصرِ وَالْإِسْلَامِ الْمُتَقَرَّرِ فَيَكُونُ عَدَدُ الْأَيْمَةِ الْقَائِمِينَ بِهَا إِثْنى عَشَرَ كَعَدَدٍ كُلِّ وَاحِدٍ مِنَ الْأَصَليْنِ الْمَذْكُورَيْنِ 

(مطالب المسئول صفحہ11)

 ترجمہ:

 بارہ اماموں میں امامت کے انحصار پر بہت سے دلائل میں سے ایک یہ ہے کہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ کے دونوں اجزاء بارہ بارہ حروف سے مرکب ہیں اور امامت ایمان مضبوط اور پختہ اسلام کی شاخ ہے لہٰذا ان اماموں کی تعداد جو اسے قائم رکھنے والے ہیں اتنی ہی ہے جتنی ان دونوں اصول (توحید ورسالت) کے حروف کی تعداد ہے ۔

مقدمه مطالب المسئول4:

الْقِسْمُ الثَّانِي فِي ذِكْرِ الْمَعَانِي الَّتِي ذُكِرَ اخْتِصاصهُم بِهَا وَهِيَ الإِمَامَةَ الثَّابِةُ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمُ وَكَرْن عَدِدِهِمْ مُنْحَصَرًا فِي إِثْنى عَشْرً امَامَّا وَأَمَّا تُبُوتُ الْإِمَامَةِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فَإِنَّهُ حَصَلَ ذَالِكَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْ قِبَائِهِ فَحَصَلَتْ للحَسَنِ التَّقى ع من أبيه على ابن ابي طالبؓ ع وَحَصَلَتْ بَعْدَہ لِأَخِيهِ الْحُسين الزكي مِنْه وحَصَلَتْ بَعْدَ الحسين لابْنِهِ زَيْنِ الْعَابِدِينَ لِوَلِدِهِ محمد الباقر ع مِنْهُ وَحَصَلَتْ بَعْدَ الْبَاقِرِ لِوَلْدِهِ جعفر صادق ع مِنْهُ وَحَصَلَتْ بَعْدَ الصَّادِقِ لِوَلدِه موسىٰ الكاظم ”ع“ منهُ وَحَصَلَتْ بَعدَ الكاظم لولده على الرضا ع ، مِنْهُ وَحَصَلَتْ بَعْدَ الرِّضَا لولده محمد القانع مِنْهُ وَحَصَلَتْ بَعْدَ الْقَانِعِ لِوَلْدِهِ عَلي المتوكل مِنْهُ وَحَصلَتُ بَعْدَ الْمُتَوَكَّلِ لِوَلْدِهِ الْحَسَنِ الخَالِصُ مِنْهُ وَحَصَلَتْ بَعْدَ الْخَالِصِ لِوَلْدِه محمد الحجة المهدى مِنْهُ وَ امَا ثبوتُهَا لامير المُؤْمِنِين فَمُسْتَقْصَى عَلَى كُلِّ الوجُوهِ فِي كُتُبِ الْأَصُولِ وَلَاحَاجَةِ إِلَى بَسْطِ الْنَّرْلِ فِيهِ في هذا الكتاب۔

(مطالب المسئول صفحہ 10 11)                                    ترجمہ

دوسری قسم میں ان باتوں کا تذکرہ ہوگا جو حضرات ائمہ کے ساتھ خاص ہیں اور امامت کا مسئلہ ہے جو ان بارہ میں سے ہر ایک کے لیے ثابت ہے اور یہ بھی کہ ان کی تعداد بارہ میں ہی منحصر ہے بہر حال ان میں سے ہر ایک کے لیے ثبوت امامت کا مسئلہ ہے تو یہ بات ہر ایک آنے والے امام کو اپنے پیش امام سے ملی سیدنا حسنؓ کو ان کے والد سیدنا علیؓ سے ان کے بعد سیدنا حسینؓ ان کے بعد سیدنا زین العابدینؓ ان کے بعد محمد باقر ان کے بعد جعفر صادق ان کے بعد موسیٰ کاظم ان کے بعد علی رضاء، ان کے بعد محمد قانع، ان کے بعد علی المتوکل ان کے بعد ان کے صاحبزاد حسن خالص اور آخر میں ان کے صاحبزادے محمد المہدی کو اِمامت ملی سیدنا علی المرتضیٰؓ کے لیے مسئلہ امامت کا ثبوت تو وہ مکمل طریقہ سے کتب اصول میں مذکور ہے اس کتاب میں اس تفصیل کی گنجائش نہیں۔

توضیح:

مسئلہ امامت میں اہلِ تشیع کا یہ نظریہ ہے کہ یہ منصوص من اللہ ہوتی ہے محمد بن طلحہ نے اس مقام پر مسئلہ امامت کے منصوص من اللہ ہونے پر چھ عدد دلائل ذکر کیے ہیں اب اس وضاحت کے بعد بھی کوئی شخص محمد بن طلحہ کو اہلِ سنت کا عالم کہے گا؟ لہٰذا اس کی کوئی عبارت ہم اہلِ سنت پر بطور حجت پیش نہیں ہو سکتی اگرچہ تقتہً اس کے ساتھ شافعی بھی لکھا جاتا ہے۔

مقدمه مطالب المسئول:

عن الحسن بن علىؓ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللهﷺ ادْعُ لِي سَيِّدِ الْعَرَبِ يعني فَقَالَتْ عَائشَةؓ الَسْتَ سَيِّدَ الْعَرَبِ فَقَالَ أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ وَعَلَىؓ سَيِّدُ الْعَرَبِ فَلَمَّا جَاءَ أَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَاتَوهُ فَقَالَ لَهُمْ يَا مُعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلی مَا إِنْ تَمَسَّكُتُمْ بِهِ لَن تَضِل بَعُدَهُ أَبَدًا قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللهِﷺ قَالَ هَذَا عَلىؓ فَأَحِبُّهُ يحْيِي وَاکرمُوهُ بِكَرَامَتِي فَإِنَّ جِيرَائِيلَ أَمَرَنِي بِالَّذِي قُلْتُ لَكُمْ عَنِ اللَّهِ تَعَالىٰ وَرَوَى الإِمَامُ الْحَافِظُ الْمَذْكُورُ بِسَندِهِ فِي حِلْيَتِهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍؓ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ يا أنسؓ أَسْكَبْ لِي وَضواً ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثم فَقَالَ يَا انسؓ أَوَلَ مَنْ يَدْخُلُ عَلَيْكَ مِنْ هَذَا الْبَابِ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ وَسَيِّدُ الْمُسْلِمِينَ وَقَائِدُ الْغَيْرِ الْمُحَجلِينَ وَخَاتَمُ الْوَصِيِّينَ قَالَ أَنَسُؓ قُلْتُ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ رَجُلاً مِّنَ الْأَنْصَارِ وَكَتَمْتُهُ إِذْ جَاءَ عَلیؓ فَقَالَ مَنْ هَذَا يَا أَنَسٌؓ فَقُلْتُ عَلیؓ فَقَامَ مُسْتَبْشِرًا فَاعُتَنقهُ ثُمَّ جَعَلَ يَمَسْحُ عِرْقَ وَجْهِهِ لِوَجْهِهِ وَعِرْقَ وَجھه على بوجهه فقال علىؓ يا رسول اللهﷺ لَقَد رأَيتك صَنَعْتَ بي شَيْئًا مَا صَنَعْتَ بي قَبْلُ قَالَ وَ مَا يَمْنَعُنِي وَأَنْتَ تُوَدِّى عَينَي وَتُسْمِعُهُمْ صَوتي وَ تُبِينُ لَهُم مَا الْخَتَلَفُوا فیہ بَعْدِي وَمِنْ ذَالِكَ مَا رواه الحافظ المذكور يرفعه في حِلْيَةٍ بِسَندِهِ عَن علقمه بن عبد الله قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبيﷺ فَسُئِلَ عَنْ عَلِيؓ فَقَالَ قُسَمَتِ الْحِكْمَةَ عَشْرَةَ أَجزَاءٍ فَاعْطِيَ عَلِيؓ تِسْعَةَ أَجْزَاءٍ وَالنَّاسُ جزاءً وَاحِداً وَمِنْ ذالك ما رواه الحافظ المذكور بِسَندِهِ في حليته عَنِ ابن عباسؓ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهﷺ ما أَنْزَلَ اللهُ يَا يُّهَا الَّذِينَ امْنوا إِلَّا وَ عَلِيَّؓ رَاسُهَا وَ أَمِيرُهَا وَمِن ذالک روَاهُ الحَافِظُ الْمَذْكُورَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهﷺ إِنَّ اللهَ عَهِدَ إِلَى فِي عَليؓ عَهْدًا فَقُلْتُ يَا رَبِّ بَيِّنُهُ فِي فَقَالَ اسْمَع فَقُلْتُ سَمِعْتُ فَقَالَ إِنَّ عَلِياؓ رَايَةَ الهُدَى وَ إِمَامَ اوْلِيَاتِي وَنُوْرُ مَنْ أَطَاعَتِي وَهُوَ الْكَلِمَةُ الَّتِي الزَمْتُهَا الْمُتَّقِين۔

(مطالب المسئول صفحہ 61,60)

ترجمہ

سیدنا حسن بن علیؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میرے پاس سید العرب سیدنا علیؓ ہیں سیدہ عائشہؓ نے عرض کیا کیا آپ خود سید العرب نہیں ہیں؟ فرمایا میں اولادِ آدم کا سردار ہوں اور سید العرب سیدنا علی المرتضیٰؓ ہیں پھر جب سیدنا علیؓ آگئے تو آپ نے انصار کو بلوایا پھر انہیں فرمایا اے گروہ انصار ! کیا میں وہ نہ بتاؤں کہ اگر میرے بعد اس کو مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو گمراہ نہ ہوگے انہوں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہﷺ بتلائیے،فرمایا۔ یہ سیدنا علی المرتضیٰؓ ہیں میری محبت کی بنا پر ان سے محبت رکھو اور میری بزرگی کی بنا پران کا احترام کرو کیونکہ جبرائیلؑ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے ہی کچھ تمہیں کہنے کا حکم دیا ہے امام حافظ مذکور نے حلیتہ الاولیاء میں سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت لکھی ہے کہ رسول اللہﷺ نے مجھے وضو کے لیے پانی تیار کرنے کا حکم دیا پھر وضو کے بعد آپ نے دو رکعت نماز ادا فرمائی پھر کہا اے انسؓ جو شخص اس دروازے سے سب سے پہلے تمہارے سامنے آئے وہ امیر المومنین سید المسلمین قائد المحجلین اور خاتم الوصیین ہے سیدنا انسؓ کہتے ہیں اے اللہ ! اس کا مستحق کسی انصاری مرد کو کر دے یہ بات میں نے دل میں چھپائے رکھی تا آنکہ سیدنا علی المرتضیٰؓ تشریف لے آئے حضورﷺ نے پوچھا یہ کون ہے ؟ میں نے عرض کیا، سیدنا علی المرتضیٰؓ ہیں، آپ خوش ہو کر اٹھے اور ان کو گلے لگایا۔ پھر اپنی پیشانی کے پسینہ کو سیدنا علی المرتضیٰؓ کی پیشانی کے پسینے سے ملایا اس پر سیدنا علی المرتضیٰؓ نے کہا یا رسول اللہﷺ ! آپ نے آج میرے ساتھ وہ کام کیا جو آج سے قبل کبھی نہیں کیا فرمایا مجھے اس کام کے کرنے سے کیا روکاوٹ ہو سکتی ہے تو میری امانت ادا کرے گا لوگوں کو میری آواز سنائے گا اور میرے بعد اختلافی امور میں اُن کو صحیح راہنمائی کرے گا حلیہ الاولیاء میں ہی حافظ مذکور نے سیدنا علقمہ بن عبداللہؓ کی سند سے یہ روایت بھی لکھی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کی مجلس پاک میں تھا آپ سے سیدنا علیؓ کے بارے میں پوچھا گیا فرمایا حکمت دس حصوں میں بانٹی گئی اس میں نو حصے سیدنا علیؓ کو اور ایک حصہ تمام لوگوں کو دیا گیا ایک اور روایت حلیتہ الاولیاء میں سیدنا ابنِ عباسؓ سے نقل کی گئی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جب بھی یايها الذين آمنو، نازل فرمایا،توسیدنا علیؓ کو اس کا سردار اور امیر مقرر فرمایا ایک اور روایت میں صاحب حلیتہ الاولیاء نے نقل کیا کہ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے سیدنا علیؓ کے بارے میں مجھ سے عہد لیا میں نے اللہ تعالیٰ سےعرض کیا اس عہد کو واضح فرمائیے بس اللہ تعالیٰ نے فرمایا سنو! سیدنا علیؓ ہدایت کے جھنڈے میرے اولیاء کے امام اور میرے فرمانبرداروں کے نور ہیں اور وہ وہی کلمہ ہیں جسے میں نے پرہیز گاروں کےلیے لازم کر دیا ہے

مذکورہ حوالہ سے مندرجہ ذیل امور سامنے آتے ہیں

  1. رسول اللہﷺ کے بعد قابل تمسلک شخصیت سیدنا علیؓ ہیں لہٰذا خلفائے ثلاثہؓ وغیرہ سے تمسک گمراہی اور بے دینی ہے اسی عقیدہ کو اہلِ تشیع یوں بیان کرتے ہیں جس نے سیدنا علیؓ کو چھوڑ کر سیدنا ابوبکرؓ کی بیعت کی وہ کافر ہو گیا۔
  2.  سیدنا علیؓ کے ساتھ تمسک کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے جس سے خلافت بلافصل کا عقیدہ نکلتا ہے۔
  3. سیدنا انسؓ کی زبانی معلوم ہوا کہ سیدنا علیؓ کو رسول اللہﷺ نے خاتم الوصيين کا لقب عطا فرمایا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کا وصال شریعت سیدہ عائشہؓ کے سینہ پر سرِ اقدس رکھے ہوئے ہوا تھا اس آخری وقت کی باتیں مائی صاحبہؓ کے علاوہ دوسرا کون جان سکتا ہے لیکن مائی صاحبہؓ سے ایسی وصیت کی ایک روایت بھی نہیں ملتی۔
  4. رسول اللہﷺ نے اپنے بعد اختلافات میں سیدنا علیؓ کو حق بیان کرنے والا فرمایا یعنی مسئلہ خلافت میں لوگوں کے اختلاف کے دوران جو سیدنا علیؓ نے فیصلہ کیا وہی حق تھا شیعہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے سیدنا علیؓ کا فیصلہ نہ مانا اور سیدنا ابوبکرؓ کو خلیفہ بنالیا اس اختلاف کی وجہ سے سیدنا علیؓ کو ہر وقت یہ خدشہ تھا کہ کہیں مجھے قتل نہ کر دیا جائے چنانچہ بحوالہ حیات القلوب احتجاج طبرسی اور جلاء العیون سیدنا علیؓ نے رسول اللہﷺ کے روضہ پاک کے سامنے کھڑے ہو کر یہ کہا تھا یا ابْنَ عَمی سَیتقتلونَنِي اے میرے چچا زاد بھائی ۔ یہ لوگ عنقریب مجھے قتل کر دیں گے۔ 
  5. بموجب عہدِ باری تعالیٰ سیدنا علیؓ و تمام صحابہ کرامؓ کے بھی امام ہیں اور یہ کلمہ تمام پرہیزگاروں پر لازم کر دیا گیا ہے یہی عقیدہ خلافت بلافصل کو جنم دیتا ہے اور خلفائے ثلاثہؓ کی امامت و خلافت کو ناجائز قرار دیتا ہے ان مذکورہ پانچ امور کے پیش نظر محمد بن طلحہ کی نظریاتی وابستگی صاف ظاہر ہے کہ اہل تشیع کے ساتھ ہے اور اس نے شافعی کی قید محض تقیہ کے طور پر لگائی ہے ۔

(فاعتبروا يا اولى الابصار)

سیدہ عائشہ صدیقہؓ سیدنا طلحہؓ اور سیدنا زبیرؓ کی گستاخی

مطالب المسئول:6

وَكَتَبَ إِلَى عَائِشَةَؓ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّكِ خَرَجْتِ من بَيْتِكِ عَاصِيَةَ لِلَّهِ تَعَالىٰ وَلِرَسُوْلِهِ تَطْلبِينَ أَمْرًا كَانَ عَنكِ مُوْضُوعَا ثمْ تَزْعَمِينَ إِنَّكِ تُرِيدِينَ الْإِصْلاحَ بَيْنَ النَّاسِ فَخَبرِينِي مَا لِلنِّسَاءِ قَوْدُ الْعَسَاكرَوَ نَعَمْتِ إِنَّكَ طَالِبَةٌ بِدَمِ عُثْمَانَؓ وَعُثْمَانُؓ رَجُلٌ مِنْ بَني امَيَّة وَأَنْتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي تَمِيمِ ابْنِ مُرَّةَ وَلِعُمُرِي إِنَّ الَّذِي عَرَضَكِ لِلْبَلَاءِ وَحَمَلِكِ عَلَى الْمُعَصِيَّةِ لاعْظَمُ إِلَيْكِ ذَنْبًا مِنْ قَتْلَةِ عُثْمَانؓ وَمَا غَضُبْتُ حَتىٰ أَغْضَبْتِ وَلَا هَيَجْتُ حَتّیٰ هَيَجتِ فَاتَّقِي اللَّهَ يَاعَائِشَةُؓ ارْجِعِي إِلَى مَنْزِلِكِ وَاسْبِلِى عَلَيْكِ سَترَكِ وَالسَّلام ثمَّ رَفَعَ يَدَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُم انَ طَلْحَةَ بن عُبَيْدِ اللهِ أَعْطَانِي صَفْقَة يَمِينِهِ طابعا ثم نَكَث بَيْعَتِي اللَّهُم فَعَاجِلُهُ وَلَا تُمَهِلُه اللَّهُم وَإِنَّ الزَّبَيْرِ بنَ الْعَوَامِ قَطَعَ قَرَابَتِي وَنَكَث عَهْدِى وَظَاهَرَ عَدُوي وَ نَصَبَ الْحَرْب لِي وَ هُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ ظَالِمُ اللَّهُمَّ فَالْفِينِهِ كَيْفَ شِئْتَ وَأَنى شِئْتَ -            

(مطالب المسئول صفحہ 116,115)

ترجمہ:

سیدنا علیؓ نے سیدہ عائشہؓ کی طرف یہ خط لکھا امابعد تو اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمان ہو کر نکلی ہے گو وہ ذمہ داری اٹھانا چاہتی ہے جس کا تجھے متحمل نہیں بنایا گیا پھر اس پر تجھے گمان ہے کہ تو لوگوں کے درمیان اصلاح کا ارادہ رکھتی ہے مجھے بتاؤ کہ کیا فوج کی سپہ سالاری عورتوں کا کام ہوتا ہے اور تیرا یہ خیال ہے کہ تو سیدنا عثمانؓ غنیؓ کے خون کا مطالبہ کر رہی ہے حالانکہ سیدنا عثمانؓ غنیؓ کا تعلق خاندان بنی امیہ اور تیرا تعلق بنی تمیم سے ہے مجھے اپنی عمر کی قسم جس ارادہ و خیال نے تجھے ایسی نافرمانی پرابھارا ہے وہ نافرانی سیدنا عثمانؓ غنیؓ کے قاتلوں کے گناہ سے بھی بڑی ہے جب تک تو نے غصہ نہ ظاہر کیا میں نے بھی اس کا اظہار نہ کیا اور تیرے ابھارنے کے بعد میں نے جوش کا مظاہرہ کیا اے سیدہ عائشہؓ! اللہ سے ڈرو اور اپنے گھر کی راہ لو اور پردہ کی پابندی کرو والسلام اس کے بعد سیدنا علیؓ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور کہا اسے اللہ طلحہ بن عبید اللہ نے بخوشی میری بیعت کی تھی پھر اسے توڑ دیا تو اُسے جلدی گرفت میں لے اور اُسے مہلت نہ دے اے اللہ ! زبیر بن العوام نے میری قرابت کو توڑ ڈالا میرے وعدہ کو پورا نہ کیا اور میرے دشمنوں کی پشت پناہی کی اور میرے لیے لڑائی کھڑی کردی حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ ظالم ہے اے اللہ ! جیسے تو چاہے اور جب چاہے اس کی خبر لے ۔

توضیح:

مذکورہ عبارت میں محمد بن طلحہ نے سیدنا علیؓ کے حوالہ سے ایک من گھڑت رقعہ کا مضمون داغ دیا سیدہ عائشہؓ کو ان کی زبانی بے پردہ کہا گیا۔ کوئی پوچھے تو سہی کہ سیدہ عائشہؓ نے کہاں اور کس وقت احکام پردہ کی مخالفت کی ؟ ان کے بارے میں ایسی عبارت کھلی گستاخی ہے،سیدنا طلحہؓ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ ان کے حق میں سیدنا علیؓ کی بددعا نقل کردی،اگر اس بد دعا کو درست تسلیم کر لیا جائے تو پھر رسول اللہﷺ کے ارشاد کا کیا مطلب ہو گا طلحہؓ فی الجنہ یعنی رسول اللہﷺ جنہیں جنتی فرمائیں سیدنا علیؓ ان کے لیے ہلاکت کی بد دعا کریں۔ پھر یہی سیدنا طلحہؓ ہیں۔کہ جنہوں نے اپنی شہادت کے آخری لمحات میں!اپنے آپ کو سیدنا علیؓ کی فوج کے سپرد کر دیا۔ اور سیدنا علیؓ کی طرف پیغام بھجوایا کہ میں آپ کی بیعت پر رخصت ہو رہا ہوں اسے سن کر سیدنا علیؓ نے فرمایا کہ سیدنا طلحہؓ تو پہلے ہی جنتی ہے اس کی تفسیر جنگ جمل کے تحت ہم تحریر کرچکے ہیں تیسری گستاخی سیدنا زبیرؓ کے بارہ میں نقل کی کہ سیدنا علیؓ نے انہیں ظالم کہا اور ان کے حق میں اللہ تعالیٰ سے گرفت کی بد دعا کی،اس بارے میں ہم اہلِ سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ جنگ جمل میں حق اگرچہ سیدنا علیؓ کی طرف تھا۔ لیکن ان کے مقابل خطائے اجتہادی کے مرتکب ہوئے ۔ یہی سیدنا زبیرؓ ہیں،کہ جب ان کو شہید کرنے والے نے ان کا سر سیدنا علیؓ کے سامنے اس غرض سے پیش کیا۔ کہ منہ مانگا انعام ملے گا،تو اس کی بجائے اس قاتل کو آپ نے جہنمی فرمایا، سیدنا زبیرؓ کی تلوار کو رسول اللہﷺ نے ناز کرنے والی تلوار فرمایا۔ پھر خود کتب شیعہ کہتی ہیں کہ سیدنا علیؓ نے سیدنا زبیرؓ سے پوچھا۔ کہ تم میرے مقابلہ میں کیوں آئے ہو، انہوں نے کہا قتلِ سیدنا عثمانؓ کے قصاص کے سلسلہ میں ۔فرمایا تمہیں فلاں دن کا واقعہ یاد نہیں رہا جب تم اور رسول اللہﷺ مدینہ منورہ کے بازار میں سے آرہے تھے، سامنے سے میں آگیا۔ تم نے میرے ساتھ معانقہ کیا۔ رسول اللہﷺ نے پوچھا۔ سیدنا زبیرؓ تمہیں سیدنا علیؓ سے پیار ہے؟ جواب دیا ہاں وہ میرے پھوپھی زاد ہیں ۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ کہ تو ایک دن سیدنا علیؓ کے مقابلے میں آئے گا،اور تو خطا پر ہوگا۔ یہ سنتے ہی سیدنا زبیرؓ کو واقعہ یاد آ گیا اور میدانِ جنگ سے منہ موڑ لیا، مگر راستہ میں ایک بدقسمت نے انہیں شہید کر دیا اس واقعہ سے صاف معلوم ہوا کہ جب تک سیدنا زبیرؓ کو اپنی غلطی کا علم نہ تھا وہ مقابلہ کرنے پر تُلے بیٹھے تھے جونہی انہیں غلطی کا احساس ہوا فوراً دستبردار ہو گئے اب محمد بن طلحہ کی گستاخی دیکھیے کہ وہ سیدنا زبیرؓ کے بارے میں یہ کہہ رہا ہے کہ انہیں اپنے بارے میں حق پر نہ ہونے کا علم ہوتے ہوئے پھر بھی وہ سیدنا علیؓ کے مقابلہ میں ڈٹے رہے ہم اس کی کافی و شافی تفصیل جنگ جمل میں لکھ چکے ہیں

خلاصہ کلام یہ کہ اہلِ تشیع کی وہ کتاب جو ان کے اپنے اور بیگانوں میں خط امتیاز کھینچتی ہے (یعنی الذریعہ فی تصانیف الشیعہ) اس میں محمد بن طلحہ کو نظریات و عقائد کے اعتبار سے اپنا کہا گیا اور آپ بھی اس کی تصدیق و تثویب کریں گےکہ اس کی تصنیف مطالب المسئول سے ہم نے جو چند حوالہ جات پیش کیے ان کی وجہ سے واقعی یہ آدمی اہلِ تشیع کا فرد ہی ہے لہٰذا اس کے نام کی ساتھ شافعی لکھے جانے سے اہلِ سنت کو دھوکہ نہیں دیا جاسکتا اس میں رافضیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے بنا برایں اس کی کسی کتاب کی عبارت ہم اہلِ سنت پر کوئی حجت نہیں ہو سکتی۔

 خصوصاً ان مسائل میں جو اہلِ سنت اور اہلِ تشیع میں مختلف فیہ ہیں ۔

(فَاعْتَبِرُوا يا أولي الأبصار)