مطالب المسئول مصنفہ کمال الدین محمد بن طلحه - ردِ رافضیت |…

مطالب المسئول مصنفہ کمال الدین محمد بن طلحه

  محمد علی

صفحہ 1 از 4

مطالب المسئول مصنفہ کمال الدین محمد بن طلحہ

کمال الدین محمد بن طلحہ 582ھ میں پیدا ہوا اور 652ھ میں اس کا انتقال ہوا بظاہر شافعی المسلک کہلاتا ہے یا اسے لکھا جاتا ہے لیکن اس کے نظریات جو اس کی تصنیف مطالب المسئول سے معلوم ہوتے ہیں ان کے پیش نظر اس کی رافضیت عیاں ہوتی ہے اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کے درمیان مختلف فیہ مسائل میں اس کا رجحان اہلِ سنت کی طرف نہیں بلکہ مسئلہ اِمامت میں واضح طور اس نے اہلِ تشیع کا عقیدہ اپنایا ہے ہم درج ذیل میں اس کی شیعیت پر چند شواہد پیش کرتے ہیں؛ ملاحظہ ہوں:

علمائے شیعہ نے اس کی مذکورہ کتاب کو اپنے ہاں معتبر گردانا ہے

مقدمة مطالب المسئول: كَلِمَةُ الإِمَامِ ايَةِ اللهِ كَاشِف الْغَطَاء حَولَ هذَا الْكِتَابَ إِنَّ كِتَابَ (مطالب المسئول في مناقب آل الرسولﷺ) أَحَد الْكُتُبِ الْمُعْتَبَرَةِ فِي عَالَمِ التَّالِيتِ فَقَدْ حَوِيَ كُلَّ نَفیسٍ مِنَ الْقَوْلِ تَضَمَّنَ الْمُعَاكَمَاتِ الَّتِي تَهْدِفُ إِلَى تَدْوينِ فَضَائِلِ آلِ بَيْتِ مِنَ الطرْقِ الصَّحِيحَةِ وَالرُّواة الثقاتِ بِقَلْمٍ شَخْصِيَّةٍ عَرَفَهَا أَعْلَامُ الْمُؤْمِنِينَ بالضبط والتَّحْقِيق وَعَلَيْهِ فَهُوَ كِتَابٌ جَلِيلٌ حَويَ فَوائدَ جُمةً قَدْلَا يَحْوِيدَ كِتَاب آخر جَاءَتْ وَفْقَ مَا تَطْلُبُهُ هُدَاةُ الْفَضَائِلِ وَأَنْ بَابُ الْوَلاءِ لِلأَئمّةِ الطاهِرِينَ وَهَذَا عَمَلٌ يَسْتَحِقُ صَاحِبُه (الشيخ محمد رضا الكتبى) الَّذِي عُرِفَ بِمَسَاعِيهِ وجهودِهِ فِي نَشْرِ الكُتُبِ النَّفیسَةِ الشَّكْرِ والدعاء ۔

(مقدمة مطالب المسئول مصنفه كمال الدين محمد بن طلحہ)

ترجمہ: کتاب مطالب المسئول کے بارے میں امام آیت اللہ کاشف الغطاء کے تاثرات: دنیائے تصانیف میں کتاب مطالب المسئول ایک معتبر اور مشہور کتاب ہے مصنف نے اس میں نفیس باتیں درج کیں اور ایسے محاکمات پر مشتمل ہے جو اہلِ بیت کے فضائل کی طرف نشاندہی کرتے ہیں اس موضوع پر مصنف نے صحیحہ اور ثقہ روایات درج کیں اور مصنف مذکور کو مشہور مؤرخین نے صاحب ضبط و تحقیق میں شمار کیا لہٰذا یہ کتاب عظیم الشان کتاب ہے اور ایسے فوائد کی جامع ہے جو کسی اور کتاب میں نہیں پائے جاتے حضراتِ ائمہ طاہرین کے بارے میں صاحبان فضل اور ارباب ولایت کا دیرینہ مطالبہ اس کتاب نے پورا کر دیا ہے اور اس عمل کی بنا پر اس کا ناشر شیخ محمد رضابالکتبی ہماری دعا اور شکر کا مستحق ہے جس نے ایسی نفیس کتابوں کے چھاپنے اور نشر و اشاعت میں بہت شہرت پائی ہے۔

توضیح:

کتاب مذکور کے بارے میں کہ جسے غلام حسین نجفی نے اہلِ سنت کی معتبر کتاب کے طور پر پیش کیا۔

  1. اسے ایسے مطبع نے چھاپا جو خالص شیعہ کتب کے نشر و اشاعت کا ادارہ ہے۔
  2. اس کی تعریف میں صاحب کاشف الغطاء نے خوب دل کھول کر داد دی اور اس کے مصنف کو محقق کہا۔
  3. اسی علامہ نے اس کی اشاعت کرنے والے ادارے کو دعائے خیر سے نوازا۔
  4.  فضائل و مناقب اہلِ بیت پر خواہشات اہلِ تشیع کا پورا پورا حق ادا کیا گیا۔

ان تمام باتوں کے پیشِ نظر محمد بن طلحہ کے شیعہ ہونے میں کسے شک ہو سکتا ہے صرف دھوکہ دینے کے لیے اس کے نام کے ساتھ شافعی ہونے کی دُم لگا دی گئی ہے۔

مقدمة مطالب المسئول 2 وَ قَدْ اعْتَمَدَ عَلَى هَذَا الْكِتَابِ كَثِيرٌ مِنَ الْعُلَمَاءِ وَ مِنْهُمُ الْعَلَامَةُ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْأَرْبَلِي الَّذِي نَقَلَ عَنْهُ كَثِيرًا فِي كِتَابِه (كشف الغمه) وكذالك ابن الصباح 

(مقدمة مطالب المسئول: صفحہ 4)

ترجمہ: اس کتاب کے مندرجات پر بہت سے علماء نے اعتماد کیا ان میں سے ایک علامہ علی بن عیسیٰ ارملی بھی ہیں جنہوں نے اس کتاب سے بہت سی باتیں اپنی کتاب کشف الغمہ میں نقل کیں اور اسی طرح ابنِ الصباغ نے بھی۔

توضیح: جن علماء کا ذکر اس اعتبار سے کیا گیا کہ انہوں نے اس کی کتاب سے بہت زیادہ اِقتباس کیا ان میں سے ایک صاحب کشف الغمہ بھی ہیں جس کے شیعہ ہونے پر کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے جس کی عبارات کو ایک شیعہ عالم بطور تائید پیش کرے اور اپنے مسلک کی توثیق کے طور پر پیش کرے اسے اہلِ سنت کا عالم کہنا کس قدر زیادتی اور ناانصافی ہے۔

مقدمہ مطالب المسئول 3: وَالْأَوَّلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ والثاني مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهﷺ وَكُلٌ وَاحِدٍ مِنْ هٰذينِ الْأَصْلَيْنِ مُرَكبَ مِنْ اثْنَى عَشَرَ حَرْفًا وَالْإِمَامَة فَرْغ عَلَى الْإِيمَانِ الْمُتَاصرِ وَالْإِسْلَامِ الْمُتَقَرَّرِ فَيَكُونُ عَدَدُ الْأَيْمَةِ الْقَائِمِينَ بِهَا إِثْنى عَشَرَ كَعَدَدٍ كُلِّ وَاحِدٍ مِنَ الْأَصَليْنِ الْمَذْكُورَيْنِ 

(مطالب المسئول: صفحہ 11)

 ترجمہ: بارہ اماموں میں امامت کے انحصار پر بہت سے دلائل میں سے ایک یہ ہے کہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ کے دونوں اجزاء بارہ بارہ حروف سے مرکب ہیں اور امامت ایمان مضبوط اور پختہ اسلام کی شاخ ہے۔ لہٰذا ان اماموں کی تعداد جو اسے قائم رکھنے والے ہیں اتنی ہی ہے جتنی ان دونوں اصول (توحید ورسالت) کے حروف کی تعداد ہے۔

صفحہ 1 از 4