مطالب المسئول مصنفہ کمال الدین محمد بن طلحه - ردِ رافضیت |…

مطالب المسئول مصنفہ کمال الدین محمد بن طلحه

  محمد علی

صفحہ 3 از 4

ترجمہ: حسن بن علی کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا میرے پاس سید العرب علی ہیں۔ عائشہ نے عرض کیا کیا آپ خود سید العرب نہیں ہیں؟ فرمایا میں اولادِ آدم کا سردار ہوں اور سید العرب علی ہیں پھر جب علی آ گئے تو آپ نے انصار کو بلوایا پھر انہیں فرمایا اے گروہ انصار! کیا میں وہ نہ بتاؤں کہ اگر میرے بعد اس کو مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو گمراہ نہ ہو گے انہوں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ بتلایے فرمایا! یہ علی ہیں میری محبت کی بنا پر ان سے محبت رکھو اور میری بزرگی کی بنا پر ان کا احترام کرو کیونکہ جبرائیلؑ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے ہی کچھ تمہیں کہنے کا حکم دیا ہے امام حافظ مذکور نے حلیتہ الاولیاء میں انس بن مالک سے روایت لکھی ہے کہ رسول اللہ نے مجھے وضو کے لیے پانی تیار کرنے کا حکم دیا پھر وضو کے بعد آپ نے دو رکعت نماز ادا فرمائی پھر کہا اے انس جو شخص اس دروازے سے سب سے پہلے تمہارے سامنے آئے وہ امیر المؤمنین سید المسلمین قائد المصلحین اور خاتم الوصیین ہے۔ انس کہتے ہیں اے اللہ! اس کا مستحق کسی انصاری مرد کو کر دے یہ بات میں نے دل میں چھپائے رکھی تا آنکہ علی  تشریف لے آئے حضور نے پوچھا یہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا علی ہیں، آپ خوش ہو کر اٹھے اور ان کو گلے لگایا۔ پھر اپنی پیشانی کے پسینہ کو سیدنا علی کی پیشانی کے پسینے سے ملایا اس پر علی نے کہا یا رسول اللہ! آپ نے آج میرے ساتھ وہ کام کیا جو آج سے قبل کبھی نہیں کیا فرمایا مجھے اس کام کے کرنے سے کیا روکاوٹ ہو سکتی ہے تو میری امانت ادا کرے گا لوگوں کو میری آواز سنائے گا اور میرے بعد اختلافی امور میں ان کی صحیح راہنمائی کرے گا حلیہ الاولیاء میں ہی حافظ مذکور نے سیدنا علقمہ بن عبداللہ کی سند سے یہ روایت بھی لکھی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ کی مجلس پاک میں تھا آپ سے علی کے بارے میں پوچھا گیا فرمایا حکمت دس حصوں میں بانٹی گئی اس میں نو حصے علی کو اور ایک حصہ تمام لوگوں کو دیا گیا ایک اور روایت حلیتہ الاولیاء میں ابنِ عباس سے نقل کی گئی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جب بھی یايها الذين آمنو، نازل فرمایا تو علی کو اس کا سردار اور امیر مقرر فرمایا ایک اور روایت میں صاحب حلیتہ الاولیاء نے نقل کیا کہ رسول اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے علی کے بارے میں مجھ سے عہد لیا میں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا اس عہد کو واضح فرمایے بس اللہ تعالیٰ نے فرمایا سنو! علی ہدایت کے جھنڈے میرے اولیاء کے امام اور میرے فرمانبرداروں کے نور ہیں اور وہ وہی کلمہ ہیں جسے میں نے پرہیز گاروں کے لیے لازم کر دیا ہے۔

مذکورہ حوالہ سے مندرجہ ذیل امور سامنے آتے ہیں

  1. رسول اللہﷺ کے بعد قابل تمسلک شخصیت سیدنا علیؓ ہیں لہٰذا خلفائے ثلاثہؓ وغیرہ سے تمسک گمراہی اور بے دینی ہے اسی عقیدہ کو اہلِ تشیع یوں بیان کرتے ہیں جس نے سیدنا علیؓ کو چھوڑ کر سیدنا ابوبکرؓ کی بیعت کی وہ کافر ہو گیا۔
  2.  سیدنا علیؓ کے ساتھ تمسک کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے جس سے خلافت بلافصل کا عقیدہ نکلتا ہے۔
  3. سیدنا انسؓ کی زبانی معلوم ہوا کہ سیدنا علیؓ کو رسول اللہﷺ نے خاتم الوصيين کا لقب عطا فرمایا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کا وصال شریعت سیدہ عائشہؓ کے سینہ پر سرِ اقدس رکھے ہوئے ہوا تھا اس آخری وقت کی باتیں مائی صاحبہ کے علاوہ دوسرا کون جان سکتا ہے لیکن مائی صاحبہ سے ایسی وصیت کی ایک روایت بھی نہیں ملتی۔
  4. رسول اللہﷺ نے اپنے بعد اختلافات میں سیدنا علیؓ کو حق بیان کرنے والا فرمایا یعنی مسئلہ خلافت میں لوگوں کے اختلاف کے دوران جو سیدنا علیؓ نے فیصلہ کیا وہی حق تھا شیعہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے سیدنا علیؓ کا فیصلہ نہ مانا اور سیدنا ابوبکرؓ کو خلیفہ بنا لیا اس اختلاف کی وجہ سے سیدنا علیؓ کو ہر وقت یہ خدشہ تھا کہ کہیں مجھے قتل نہ کر دیا جائے چنانچہ بحوالہ حیات القلوب احتجاج طبرسی اور جلاء العیون سیدنا علیؓ نے رسول اللہﷺ کے روضہ پاک کے سامنے کھڑے ہو کر یہ کہا تھا یا ابْنَ عَمی سَیتقتلونَنِي اے میرے چچا زاد بھائی! یہ لوگ عنقریب مجھے قتل کر دیں گے۔ 
  5. بموجب عہدِ باری تعالیٰ سیدنا علیؓ و تمام صحابہ کرامؓ کے بھی امام ہیں اور یہ کلمہ تمام پرہیزگاروں پر لازم کر دیا گیا ہے یہی عقیدہ خلافت بلافصل کو جنم دیتا ہے اور خلفائے ثلاثہؓ کی امامت و خلافت کو ناجائز قرار دیتا ہے ان مذکورہ پانچ امور کے پیش نظر محمد بن طلحہ کی نظریاتی وابستگی صاف ظاہر ہے کہ اہل تشیع کے ساتھ ہے اور اس نے شافعی کی قید محض تقیہ کے طور پر لگائی ہے۔

(فاعتبروا يا اولى الابصار)

سیدہ عائشہ صدیقہؓ سیدنا طلحہؓ اور سیدنا زبیرؓ کی گستاخی

مطالب المسئول:6 وَكَتَبَ إِلَى عَائِشَةَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّكِ خَرَجْتِ من بَيْتِكِ عَاصِيَةَ لِلَّهِ تَعَالىٰ وَلِرَسُوْلِهِ تَطْلبِينَ أَمْرًا كَانَ عَنكِ مُوْضُوعَا ثمْ تَزْعَمِينَ إِنَّكِ تُرِيدِينَ الْإِصْلاحَ بَيْنَ النَّاسِ فَخَبرِينِي مَا لِلنِّسَاءِ قَوْدُ الْعَسَاكرَوَ نَعَمْتِ إِنَّكَ طَالِبَةٌ بِدَمِ عُثْمَانَ وَعُثْمَانُ رَجُلٌ مِنْ بَني امَيَّة وَأَنْتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي تَمِيمِ ابْنِ مُرَّةَ وَلِعُمُرِي إِنَّ الَّذِي عَرَضَكِ لِلْبَلَاءِ وَحَمَلِكِ عَلَى الْمُعَصِيَّةِ لاعْظَمُ إِلَيْكِ ذَنْبًا مِنْ قَتْلَةِ عُثْمَان وَمَا غَضُبْتُ حَتىٰ أَغْضَبْتِ وَلَا هَيَجْتُ حَتّیٰ هَيَجتِ فَاتَّقِي اللَّهَ يَاعَائِشَةُ ارْجِعِي إِلَى مَنْزِلِكِ وَاسْبِلِى عَلَيْكِ سَترَكِ وَالسَّلام ثمَّ رَفَعَ يَدَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُم انَ طَلْحَةَ بن عُبَيْدِ اللهِ أَعْطَانِي صَفْقَة يَمِينِهِ طابعا ثم نَكَث بَيْعَتِي اللَّهُم فَعَاجِلُهُ وَلَا تُمَهِلُه اللَّهُم وَإِنَّ الزَّبَيْرِ بنَ الْعَوَامِ قَطَعَ قَرَابَتِي وَنَكَث عَهْدِى وَظَاهَرَ عَدُوي وَ نَصَبَ الْحَرْب لِي وَ هُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ ظَالِمُ اللَّهُمَّ فَالْفِينِهِ كَيْفَ شِئْتَ وَأَنى شِئْتَ -   

(مطالب المسئول: صفحہ 116،115)

صفحہ 3 از 4