مطالب المسئول مصنفہ کمال الدین محمد بن طلحه - ردِ رافضیت |…

مطالب المسئول مصنفہ کمال الدین محمد بن طلحه

  محمد علی

صفحہ 4 از 4

ترجمہ: علی نے عائشہ کی طرف یہ خط لکھا امابعد! تو اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمان ہو کر نکلی ہے گو وہ ذمہ داری اٹھانا چاہتی ہے جس کا تجھے متحمل نہیں بنایا گیا پھر اس پر تجھے گمان ہے کہ تو لوگوں کے درمیان اصلاح کا ارادہ رکھتی ہے مجھے بتاؤ کہ کیا فوج کی سپہ سالاری عورتوں کا کام ہوتا ہے اور تیرا یہ خیال ہے کہ تو عثمان کے خون کا مطالبہ کر رہی ہے حالانکہ عثمان کا تعلق خاندان بنی امیہ اور تیرا تعلق بنی تمیم سے ہے مجھے اپنی عمر کی قسم جس ارادہ و خیال نے تجھے ایسی نافرمانی پر ابھارا ہے وہ نافرمانی سیدنا عثمان کے قاتلوں کے گناہ سے بھی بڑی ہے جب تک تو نے غصہ نہ ظاہر کیا میں نے بھی اس کا اظہار نہ کیا اور تیرے ابھارنے کے بعد میں نے جوش کا مظاہرہ کیا اے سیدہ عائشہ! اللہ سے ڈرو اور اپنے گھر کی راہ لو اور پردہ کی پابندی کرو۔ والسلام

اس کے بعد علی نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور کہا اسے اللہ طلحہ بن عبید اللہ نے بخوشی میری بیعت کی تھی پھر اسے توڑ دیا تو اسے جلدی گرفت میں لے اور اسے مہلت نہ دے اے اللہ! زبیر بن العوام نے میری قرابت کو توڑ ڈالا میرے وعدہ کو پورا نہ کیا اور میرے دشمنوں کی پشت پناہی کی اور میرے لیے لڑائی کھڑی کر دی حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ ظالم ہے اے اللہ! جیسے تو چاہے اور جب چاہے اس کی خبر لے۔

توضیح: مذکورہ عبارت میں محمد بن طلحہ نے سیدنا علیؓ کے حوالہ سے ایک من گھڑت رقعہ کا مضمون داغ دیا سیدہ عائشہؓ کو ان کی زبانی بےپردہ کہا گیا۔ کوئی پوچھے تو سہی کہ سیدہ عائشہؓ نے کہاں اور کس وقت احکام پردہ کی مخالفت کی؟ ان کے بارے میں ایسی عبارت کھلی گستاخی ہے، سیدنا طلحہؓ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں ان کے حق میں سیدنا علیؓ کی بددعا نقل کردی، اگر اس بددعا کو درست تسلیم کر لیا جائے تو پھر رسول اللہﷺ کے ارشاد کا کیا مطلب ہو گا طلحہؓ فی الجنہ یعنی رسول اللہﷺ جنہیں جنتی فرمائیں سیدنا علیؓ ان کے لیے ہلاکت کی بددعا کریں۔ پھر یہی سیدنا طلحہؓ ہیں کہ جنہوں نے اپنی شہادت کے آخری لمحات میں! اپنے آپ کو سیدنا علیؓ کی فوج کے سپرد کر دیا اور سیدنا علیؓ کی طرف پیغام بھجوایا کہ میں آپ کی بیعت پر رخصت ہو رہا ہوں اسے سن کر سیدنا علیؓ نے فرمایا کہ سیدنا طلحہؓ تو پہلے ہی جنتی ہے اس کی تفسیر جنگ جمل کے تحت ہم تحریر کر چکے ہیں تیسری گستاخی سیدنا زبیرؓ کے بارہ میں نقل کی کہ سیدنا علیؓ نے انہیں ظالم کہا اور ان کے حق میں اللہ تعالیٰ سے گرفت کی بد دعا کی، اس بارے میں ہم اہلِ سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ جنگ جمل میں حق اگرچہ سیدنا علیؓ کی طرف تھا لیکن ان کے مقابل خطائے اجتہادی کے مرتکب ہوئے یہی سیدنا زبیرؓ ہیں کہ جب ان کو شہید کرنے والے نے ان کا سر سیدنا علیؓ کے سامنے اس غرض سے پیش کیا کہ منہ مانگا انعام ملے گا تو اس کی بجائے اس قاتل کو آپ نے جہنمی فرمایا سیدنا زبیرؓ کی تلوار کو رسول اللہﷺ نے ناز کرنے والی تلوار فرمایا۔ پھر خود کتب شیعہ کہتی ہیں کہ سیدنا علیؓ نے سیدنا زبیرؓ سے پوچھا کہ تم میرے مقابلہ میں کیوں آئے ہو، انہوں نے کہا قتلِ عثمان کے قصاص کے سلسلہ میں فرمایا تمہیں فلاں دن کا واقعہ یاد نہیں رہا جب تم اور رسول اللہﷺ مدینہ منورہ کے بازار میں سے آرہے تھے، سامنے سے میں آ گیا۔ تم نے میرے ساتھ معانقہ کیا۔ رسول اللہﷺ نے پوچھا سیدنا زبیرؓ تمہیں سیدنا علیؓ سے پیار ہے؟ جواب دیا! ہاں وہ میرے پھوپھی زاد ہیں اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تو ایک دن سیدنا علیؓ کے مقابلے میں آئے گا، اور تو خطا پر ہو گا۔ یہ سنتے ہی سیدنا زبیرؓ کو واقعہ یاد آ گیا اور میدانِ جنگ سے منہ موڑ لیا، مگر راستہ میں ایک بدقسمت نے انہیں شہید کر دیا اس واقعہ سے صاف معلوم ہوا کہ جب تک سیدنا زبیرؓ کو اپنی غلطی کا علم نہ تھا وہ مقابلہ کرنے پر تلے بیٹھے تھے جونہی انہیں غلطی کا احساس ہوا فوراً دستبردار ہو گئے اب محمد بن طلحہ کی گستاخی دیکھیے کہ وہ سیدنا زبیرؓ کے بارے میں یہ کہہ رہا ہے کہ انہیں اپنے بارے میں حق پر نہ ہونے کا علم ہوتے ہوئے پھر بھی وہ سیدنا علیؓ کے مقابلہ میں ڈٹے رہے ہم اس کی کافی و شافی تفصیل جنگ جمل میں لکھ چکے ہیں۔

خلاصہ کلام یہ کہ اہلِ تشیع کی وہ کتاب جو ان کے اپنے اور بیگانوں میں خط امتیاز کھینچتی ہے (یعنی الذریعہ فی تصانیف الشیعہ) اس میں محمد بن طلحہ کو نظریات و عقائد کے اعتبار سے اپنا کہا گیا اور آپ بھی اس کی تصدیق و تثویب کریں گے کہ اس کی تصنیف مطالب المسئول سے ہم نے جو چند حوالہ جات پیش کیے ان کی وجہ سے واقعی یہ آدمی اہلِ تشیع کا فرد ہی ہے لہٰذا اس کے نام کی ساتھ شافعی لکھے جانے سے اہلِ سنت کو دھوکہ نہیں دیا جاسکتا اس میں رافضیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے بنا بریں اس کی کسی کتاب کی عبارت ہم اہلِ سنت پر کوئی حجت نہیں ہو سکتی۔

 خصوصاً ان مسائل میں جو اہلِ سنت اور اہلِ تشیع میں مختلف فیہ ہیں۔

(فَاعْتَبِرُوا يا أولي الأبصار)


صفحہ 4 از 4