Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

آغا خانی تنظیم سے فنڈ لینا اور اس کا رکن بننا


سوال: آغا خانی دیہی ترقیاتی تنظیموں کی رکنیت اختیار کرکے ترقیاتی فوائد حاصل کرنا کتاب و سنت کی رو سے جائز ہے یا حرام؟ جبکہ صورتِ حال یہ ہیں۔

  1.  شمالی علاقہ جات اور چترال میں آغا خانی فاونڈیشن اور آغا خانی رورل سپورٹ پروگرام کے تحت رفاہی اور فلاحی منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جس سے اقتصادی لحاظ سے آدمی کو فائدہ ہو رہا ہے۔
  2.  شمالی علاقہ جات کے غریب عوام کے نام پر مغربی ممالک آغا خانی تنطیموں کے ذریعے بےتحاشا فنڈ دیتے ہیں جبکہ ان سے غریب تر لوگ بلوچستان ،سندھ، وغیرہ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، ان پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔
  3. حکومتِ پاکستان جس قدر اسلام پسند رفاہی تنظیموں کا ناطقہ بند کر رہی ہے وہ کسی سے مخفی نہیں، مگر مغرب نواز این جی اوز کو ہر قسم کی چھوٹ دے رکھی ہے بلکہ عوام الناس کو ان اداروں کے سامنے جھکنے پر مجبور کرنے اور ان کا احسان مند رہنے کے لیے بہت سارے سرکاری فنڈز بھی آغا خانی تنظیم کے ذریعے فراہم کرتے ہیں جس میں سر دست بیت المال کی طرف سے گرلز سکولوں میں دوپہر کا کھانا شامل ہے۔
  4.  آغا خان اسماعیلی مذہب باطنی عقائد کا حامل ہے، ان کی تاریخ عہدِ خاطی سے لے کر حسن بن صباح، سقوطِ بغداد اور صلاح الدین ایوبی کے خلاف سازشیں سب اہلِ علم پر عیاں ہیں۔
  5.  محلہ تکبیر وغیرہ میں اسماعیلیوں کے موجودہ سیاسی عزائم اور علیحدگی پسند تحریک سے متعلق تفصیلات آتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ رفاہی خدمات کے پس پردہ یہاں کے اہم ترین جغرافیائی خطوں پر مشتمل آغا خانی ریاست قائم کرنے کے منصوبے پر گامزن ہیں، حتٰی کہ جانباز فورس کے نام پر وہ اپنی الگ مصلح فوج بنا رہے ہیں اور حکومت پاکستان بھی بین الاقوامی سازشوں کے زیرِ اثر ان کا دست و بازو بنی ہوئی ہے۔
  6. آغا خانی تنظیم سے منصوبہ طلب کرنے کے لیے شرط ہے کہ متعلقہ علاقے میں آغا خان کے نام پر دیہی ترقیاتی تنظیم بنائی جائے، اس کے ارکان تھوڑی سی رقم جمع کر کے بطورِ فیس تنظیم کے نام پر بینک میں جمع کرائیں جو فکس ڈیپارٹمنٹ میں رکھی جاتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ سود حاصل ہو۔
  7. جبکہ بعض لوگ اس فیس کو آغا خان کے عقیدے کے مطابق مالِ امام یا مذہبی نذرانہ تصور کر کے رقم دینے سے کترانے لگے تو انہوں نے نظام میں تبدیلی کی، اب تنظیم سازی کے لیے ممبروں سے فیس نہیں لی جاتی لیکن منظور شدہ فنڈ سے ان کے قاعدے کے مطابق رقم کاٹ کر اکاؤنٹ میں جمع کی جاتی ہے۔

جواب: آغا خانی اسماعیلی ایک غیر مسلم انتہائی شاطر اور سازشی ٹولہ ہے، یہ دین و ایمان کے ڈاکو اور ملک و ملّت کے دشمن ہیں، یہ لوگ بنیادی ضرورتوں اور رفاہی کاموں کی آڑ میں آغا خانیت پھیلا رہے ہیں، ان سے عوام و خواص اور اربابِ اقتدار کو ہوشیار رہنا چاہیے اور غیرت ایمانی کا ثبوت دیتے ہوئے ان کا مکمل بائیکاٹ کریں، ان کی تنظیم میں شامل ہونا، ان کا ممبر بننا، ان سے ایمان کش امداد لینا درست نہیں ہے، نا جائز ہے۔ یہ تو کفر و ارتداد پھیلا رہے ہیں عوام کو اس سے باخبر رکھنا اور ان سے مکمل اجتناب کی تلقین کرنا ضروری ہے۔ سیدنا ابوبکر حصاص راضیؒ يايها الذين امنوا لا تتخذوا الكافرين أولياء من دون المؤمنين کے ذیل میں لکھتے ہیں:

اقتضت الآية النهى عن الاستنصار بالكافر والاستعانة بهم والركعون إليهم والثقه بهم 

(احكام القران الجصاص: جلد، 2 صفحہ، 410) اور علامہ شامیؒ ردالمختار میں تحریر فرماتے ہیں۔ يعلم مما هنا حكم الدوز و التيامنة فانهم فى البلاد الشامية يظهرون الاسلام والصوم والصلاة مع انهم يعتقدون انا سخ الارواح وحل المخمر والزنا وان الالوهية تظهر فى شخص بعد شخص ويجحدون الحشر و الصوم والصلاة والحج و يقولون المسمى بها غير المانيا امر ادو يتكلمون فى جناب نبينا محمد صلى الله عليه وسلم كلمات فظيعة و للعلامة المحقق عبدالرحمن العمادى فيهم فتوى مطلولة و ذكر فيها انهم ينتحلون عقائد النصيرية والا سما عيلية الذين يلعبون بالقرامطة والباطنية الذين ذكرهم صاحب المواقف ونقل عن علماء المذاهب الأربعة انه لا يحل اقرارهم فى ديار السلام بجزية ولا غير ها ولا تحل منا كحتهم ولا ذباءحهم۔

(ردالمختار: جلد، 3 صفحہ، 326)

(ارشادالمفتين: جلد، 1 صفحہ، 454)