*حضرت حسین رضی اللہ عنہ کربلا کیوں گئے؟ اگر مکہ یا مدینہ میں شہید ہوتے تو دنیا کہتی آخر دم تک اللہ و رسول کے شہروں کو نہ چھوڑا۔*
مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند♦ *سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر خوارج کا بارہواں اعتراض* ♦️
*حضرت حسین رضی اللہ عنہ کربلا کیوں گئے؟ اگر مکہ یا مدینہ میں شہید ہوتے تو دنیا کہتی آخر دم تک اللہ و رسول کے شہروں کو نہ چھوڑا۔*
حضرت حُسین رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کربلا کیوں گئے؟ کیا وہاں بیت اللّٰه تھا یا روضۂ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم۔ اگر مکّہ یا مدینہ میں شہید ہو جاتے، دُنیا یہ تو کہتی کہ اللّٰه کے دروازے، نانا کے روضۂ مبارک کو آخر دم تک نہ چھوڑا۔ وہاں جا کر خانوادۂ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی جِتنی بے حرمتی ہوئی، کیا حضرت حُسین رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ اس کا جواب قیامت کے دِن نہ دیں گے۔؟
♦️ *جوابات اہلسنّت* ♦️
شیعیانِ کوفہ کے پیہم اصرار اور متعدد خطوط اور بار بار فرستادوں کے بھیجنے سے آپ مجبور ہو گئے۔ اور آپ نے تشریف لے جانے کا وعدہ کر لیا۔
مدینہ کی سکونت کو ترک کرنے کا نہ آپ کا ارادہ تھا اور نہ آنے والے حالات کی آپ کو خبر تھی۔ سیّدنا مُسلم کو اس لیے تو بھیجا تھا کہ وہاں کے حالات معلوم کر کے مجھے مطلع کرے۔
مگر ! *تدبیر کند بندہ تقدیر کند خندہ۔*
حالات جیسے بھی پیش آئے وہ سب کے سامنے ہیں۔ اگر آپ تشریف نہ لے جاتے تو
{ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسۡئُوۡلًا }
کے پیشِ نظر ماخوذ ہوتے۔