والیان ریاست کی نگرانی اور ان کا محاسبہ
علی محمد الصلابیوالیان ریاست کی نگرانی
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس بات سے قطعاً مطمئن نہ تھے کہ صرف بہترین گورنران کے انتخاب کا اہتمام کر کے اس پر خوش رہیں بلکہ انہیں ان کی ذمہ داریاں سونپنے کے بعد پوری کوشش سے ان کی نگرانی کرتے رہتے تاکہ ان کی بہترین سیرت اور اخلاقیات سے مطمئن ہو جائیں اور عدم نگرانی کی صورت میں کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ نفس پرستی میں بہک جائیں۔ گورنران کے تئیں آپ کا بس ایک ہی شعار تھا کہ ’’روزانہ میں ایک والی کو معزول کروں، یہ میرے لیے اس بات سے کہیں بہتر ہے کہ کسی ظالم کو اس منصب پر ایک گھنٹہ کے لیے باقی رکھوں۔‘‘
(النظم الإسلامیۃ: صبحی الصالح: صفحہ 89، الإدارۃ الإسلامیۃ: صفحہ 215) اور فرماتے تھے: ’’اگر میرا کوئی افسر کسی پر ظلم کرے اور مجھے اس کی خبر ہو جانے کے بعد میں اسے نہ بدلوں تو گویا میں نے اس پر ظلم کیا ہے۔‘‘
(مناقب امیرالمومنین عمر بن الخطاب: ابن الجوزی: صفحہ 56، الإدارۃ الإسلامیۃ: صفحہ 215) ایک دن آپؓ نے اپنے ہم نشینوں سے کہا: ’’اگر میں اپنے علم کے مطابق کسی کو اچھا جان کر تم پر عامل افسر مقرر کر دوں، پھر اسے عدل و انصاف کرنے کا حکم دے دوں تو تمہارا کیا خیال ہے کہ میں نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی؟ آپؓ کے ہم نشینوں نے جواب دیا: ہاں۔ آپؓ نے فرمایا: ’’نہیں نہیں، یہاں تک کہ میں اس کے کام کو دیکھ لوں کہ کیا میرے حکم کے مطابق اس نے کام کیا یا نہیں۔‘‘
(الإدارۃ الإسلامیۃ فی عہد عمر بن الخطاب: صفحہ 215) آپؓ بڑی ثابت قدمی اور دقت سے اپنے افسران و گورنران کے ادارتی کاموں کی نگرانی کرتے رہتے تھے۔ ادارتی نظم و نسق کے سلسلے میں آپؓ کا طریقہ یہ تھا کہ مقامی معاملات میں عامل افسر کو مکمل اختیار دے دیتے، عام مسائل میں اس کے اختیارات محدود رکھتے اور اس کے اخلاق و کردار نیز ادارتی کار گزاری پر گہری نگاہ رکھتے۔ آپؓ کے پاس ایک خفیہ ایجنسی تھی جس سے آپؓ گورنران و رعایا کے صحیح حالات تک رسائی حاصل کرتے تھے۔ تاریخی مصادر اس بات پر شاہد ہیں کہ موجودہ دور میں جسے خفیہ ایجنسی انٹیلی جنس بیورو کہا جاتا ہے وہ سیدنا عمرؓ کے دور میں موجود تھا چنانچہ آپؓ کے علم میں یہ بات ہوتی تھی کہ آپؓ کا کون سا افسر اپنے فرائض سے دور ہے۔ ایک بستر اور ایک ہی تکیہ پر کون کس کے ساتھ سویا ہے۔ کسی علاقے اور کسی بھی ریاست میں کوئی افسر یا امیر لشکر کسی حالت میں ہوتا اس کے ساتھ آپؓ کا جاسوس برابر لگا رہتا۔ اسلامی سلطنت کے مشرق و مغرب میں بولے گئے الفاظ ہر صبح و شام آپؓ کے پاس موجود ہوتے، آپؓ نے اپنے افسران کے نام جو خطوط ارسال کیے تھے ان میں اس بات کا اچھی طرح مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور اسی نگرانی کی برکت تھی کہ وہ افسران اپنے قریبی اور خاص لوگوں سے بھی بے خوف نہیں ہوتے تھے۔
(التاج فی أخلاق الملوک: صفحہ 168) آپؓ اپنے اعمال کی نگرانی میں متعدد وسائل استعمال کرتے تھے، ان میں سے چند یہ ہیں