نورالابصار مصنفه شیخ مومن بن حسن شبلنجی - ردِ رافضیت | دفاع…

نورالابصار مصنفه شیخ مومن بن حسن شبلنجی

  محمد علی

صفحہ 1 از 3

نورالابصار مصنفه شیخ مومن بن حسن شبلنجی

اس کتاب کے مصنف کا نام شیخ مومن بن حسن بن مومن شبلنجی ہے اس کا اردو ترجمہ قبلہ استاد المکرم شیخ الحدیث جامع المعقول والمنقول حضرت علامہ غلام رسول مدظلہ العالی ناظم اعلیٰ جامعہ رسولیہ سراجیہ فیصل آباد نے کیا مترجم کتاب ہر خاص و عام تک پہنچی آپ نے یہ ترجمہ بعض احباب کے پر اصرار اور مبنی برخلوص مطالبہ و فرمائش پر کیا قبلہ استادی المکرم کے پیش نظر اس کتاب کی عربی عبارت کا ترجمہ ہی تھا جس میں انہوں نے پوری دیانت داری اور کمی بیشی بغیر اپنی ذمہ داری نبھائی استاذی المکرم صرف مترجم ہیں۔ اس میں موجود نظریات و اعتقادات سے آپ متفق نہ سمجھے جائیں بلکہ ان کی نسبت صرف اور صرف مصنف مومن بن حسن کی طرف ہے اس کتاب میں بہت سے واقعات غیر معتبر اور رافضی العقیدہ لوگوں سے منقول ہیں اس لیے ہم اہلِ سنت کی یہ کتب معتبرہ میں شامل نہیں غلام حسین نجفی نے "سہم مسموم" میں اس کے حوالہ جات نقل کیے اور اسے اہلِ سنت کی معتبر کتاب کے طور پر پیش کیا ہے نور الابصار کے مصنف کے بارے میں ہلکا سا تاثر یہ ہے کہ اس میں شیعیت کی طرف میلان ہے ایسی روایات و حکایات و نظریات کو اس نے بغیر جرح کے اس کتاب میں درج کر دیا ہے جس سے اس کے رافضی ہونے کا ثبوت ملتا ہے ایسی روایات و حکایت میں سے ایک دو آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

نور الابصار: ابو بصیر نے کہا میں نے ایک روز باقر سے عرض کیا! کیا آپ رسول اللہ کے وارث ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں میں نے عرض کی جناب رسول الله تو سارے نبیوں کے وارث تھے آپ نے فرمایا میں ان کے سارے علوم کا وارث ہوں میں نے عرض کی کیا آپ رسول الله کے تمام علوم کے وارث ہیں؟ فرمایا۔ ہاں! میں نے عرض کیا کیا آپ مردوں کو زندہ کرنے، بہروں اور کوڑوں کو شفا دینے، لوگوں کا اپنے گھروں میں ذخیرہ کرنے اور ان کے کھانے پینے کی خبر دینے پر قادر ہو؟ فرمایا ہاں۔ ہم اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ کر سکتے ہیں پھر فرمایا ابوبصیر! ذرا میرے نزدیک آؤ ابوبصیر آنکھوں سے معذور تھے انہوں نے کہا میں آپ کے قریب ہوا آپ نے میرے چہرے پر اپنا ہاتھ پھیرا میں آسمان، پہاڑ اور زمین دیکھنے لگا فرمایا کیا تم چاہتے ہو کہ ایسے ہی دیکھتے رہو اور تمہارا حساب و کتاب اللہ کے حوالے ہو گا یا جیسے پہلے تھے ویسے ہی رہنا چاہتے ہو؟ اور تجھے اللہ تعالیٰ جنت دے گا میں نے کہا میں جنت چاہتا ہوں۔ آپ نے اپنا ہاتھ میرے چہرے پر پھیرا میں اسی طرح ہو گیا ۔ جس طرح تھا 

(نور الابصار مترجم: جلد دوم صفحہ 22 حضرت محمد باقر کی کرامت)

قارئین کرام! اس روایت کا مرکزی راوی"ابوبصیر" وہ شخص ہے جس پر شیعیت کی چکی گھومتی ہے رجال کشی (شیعوں کی اسماء الرجال کی مایہ ناز کتاب) میں چار آدمیوں کو اللہ تعالیٰ کے نجیب اور امینِ حلت و حرمت کہا گیا ہے ان میں سے ایک "ابوبصیر" بھی ہے۔ حوالہ ملاحظہ ہو:

رجال کشی: عن جميل بن دراج قال سمعت ابا عبد الله علیه السلام يَقُولُ بَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ بِالجَنَّةِ بريد بن معاوية العجلي وابا بصير ليث بن البختري المرادي و محمد بن مسلم وذرارة أرْبَعَة نُجَباء امناء الله على حلاله و حَرَامِهِ لَوْلَا هؤلاء لَا انْقَطَعَتْ آثارُ النّبوةِ وَ انْدَرَسَتْ

(رجال کشی صفحہ 152، ابو بصير ليث بن بختری) مطبوعہ کربلا

ترجمہ: جمیل بن دراج سے مروی کر میں نے ابو عبد الله محمد باقر کو فرماتے سنا عجز وانکساری کرنے والوں کے لیے جنت کی بشارت دو یعنی بریده بن معاویہ عجلی، ابو بصیر لیث بن البختری المرادی، محمد بن مسلم اور زرارہ یہ چار نجیب، اللہ تعالیٰ کے حلال و حرام کے امین ہیں اگر یہ چاروں نہ ہوتے تو نبوت کے آثار منقطع ہو جاتے اور مٹ جاتے۔

تنقيح المقال:  وَمِنْهَا مَامر هُنَاكَ مِنْ خَبرِ سُليمان بن خالد الاقطع قال سمعت ابا عبد الله علیہ السلام يقول ما أحد أحيى ذِكْرَنَا وَ أَحَادِيثَ ابي الا زرارة و ابوبصير ليث المرادى و محمد بن مسلم وبريد بن معاوية العجلي ولولا هؤلاء مَا كَانَ أَحَد يَسْتَنْبِطُ هَذَا هُؤلاء حفاظ الدِّينِ وأمناء أَبِي عَلی حَلَالِ اللَّهِ وَحَرَامِهِ هُمُ السَّابِقُونَ اليْنَا فِي الدُّنْيَا وَهُمُ السَّابِقُونَ الَيْنَا فِي الْآخِرَةِ وَمِنْهَا مَا مَرَّ هُنَاكَ مِنْ قَبْرٍ جَمِيلِ بْنِ دَرَاج الْمُتَضَمَّنِ لِقَوْلِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام إِنَّ أَقْوَاما كَانَ أَبِي ائتَمَنَ عَلی حَلَالِ اللهِ وَحَرَامِهِ کانُوا عيبته علمهِ وَكَذَالِكَ الْيَوْمَ ھم عِنْدِى هُمْ مُسْتَوْدَعُ سِرِّي وَ أَصْحَابُ إِبى حَقًّا إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِأَهْلِ الْأَرْضِ سُوءا صَرَفَ بِهِمْ عَنْهُمُ السُّوءَهُمْ نُجُومُ شِيعي أَحْيَاء وَامْواتا يُحْيُونَ ذِكْرَ إِبى بِهِم یکشِف الله كل بدعةٍ يَنْفُونَ عَنْ هَذِهِ الدِّينِ انْتِحَالَ المبطلين وتأوَّلَ الْغَالِينَ ثُمَّ بَكى فَقُلْتُ مَنْ هُمُ فَقَالَ مَنْ عَلَيْهِمْ صَلواتُ اللَّهِ وَرَحْمَتُه أَحْيَاء وامواتا بريد العجلي وذرارة و ابوبصير ومحمد بن مسلم الحديث 

 (1: تنقيح المقال جلد 2 صفحہ 45 من ابواب اللام مطبوعہ تہران)

 (2: جامع الرواه جلد 2 صفحہ 34 باب اللام بعده الیأليث المرادی مطبوعہ ایران)

صفحہ 1 از 3