نورالابصار مصنفه شیخ مومن بن حسن شبلنجی - ردِ رافضیت | دفاع…

نورالابصار مصنفه شیخ مومن بن حسن شبلنجی

  محمد علی

صفحہ 2 از 3

ترجمہ: اور ان میں سے ایک وہ جو سلیمان بن خالد اقطع کی خبر گزری کہ میں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے سنا فرماتے تھے کہ ہمارا کسی ایک نے ذکر زندہ نہ کیا اور میرے والد کی احادیث کو زندہ نہ کیا مگر زرارہ ابوبصیر لیث مرادی اور محمد بن مسلم و برید بن معاویہ عجلی نے زندہ کیا اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو کوئی اس کو مستنبط کرنے والا نہ ہوتا یہ دین کے حافظ اور میرے والد کے فرمان کے مطابق اللہ تعالیٰ کے حلال و حرام پر امین ہیں یہ ہماری طرف دنیا اور آخرت میں سبقت لے جانے والے ہیں اور ان میں سے ایک وہ خبر جو یہاں جمیل بن دراج کی گزری جو ابو عبید اللہ علیہ السلام کی گفتگو کو متضمن ہے۔ کچھ لوگوں کو میرے والد گرامی نے اللہ کے حلال و حرام کا امین مقرر کیا وہ ان کے علم کے صندوق ہیں یونہی آج وہ لوگ میرے نزدیک میرے راز کے امین ہیں اور میرے والد کے سچے اصحاب ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ زمین والوں پر کوئی سختی ڈالنے کا ارادہ کرتا ہے تو ان کی وجہ سے وہ سختی ان سے دور کر دیتا ہے میرے شیعوں کے وہ ستارے ہیں خواہ شیعہ زندہ ہوں یا مر چکے ہوں میرے والد کا ذکر ان کی بدولت زندہ ہے۔ ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہر بدعت کو دور کر دیتا ہے وہ اس دین سے بدعت کو دور کر دیتے ہیں دین میں باتوں کی آمیزش اور غلط روایات کے خلط ملط کو ان کے ذریعہ دور کر دیتا ہے یہ کہہ کر وہ رو پڑے۔ میں نے عرض کیا وہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا وہ وہ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی صلوٰة و رحمت زندگی اور موت کے بعد بھی ہے وہ برید عجلی، زرارہ، ابوبصیر اور محمد بن مسلم ہیں۔ (الحدیث) 

قارئین کرام! "ابو بصیر" کے بارے میں آپ نے پڑھا کہ جعفر صادق نے اسے شیعوں کا ستارہ فرمایا حلال و حرام کا امین اپنے والد گرامی کی احادیث کا محافظ اور السابقون الاولون میں داخل ہے اس قدر اہم شخصیت کا اہلِ سنت کی کتب اسماء الرجال میں نام و نشان نہیں ملتا۔

لہٰذا قابل غور بات یہ ہے کہ مومن بن حسن نے ابو بصیر کو (جس کی کنیت یہ ہے اور نام لیث بن بختری ہے) کہاں سے ڈھونڈ نکالا یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ مومن بن حسن بخوبی جانتا ہے کہ ابوبصیر شیعوں کا بہت بڑا مجتہد ہے اب اس کے جنتی ہونے کی نسبت سیدنا جعفر صادق کی طرف کر دی اسے کون تسلیم کرے گا؟ مختصر یہ کہ مومن بن حسن ٹھیک ہے کہ سنی ہے لیکن اس قسم کی کرامات ذکر کرنے کی وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں شیعیت موجود ہے اس کی تصنیف "نور الابصار" کو اہلِ سنت کی معتبر کتاب کہنا اور سمجھنا صحیح نہیں ہے کیونکہ مذکورہ عبارات اس کے تشیع پر دلالت کرتی ہیں۔

نور الابصار: محمد بن عسکری حسن (امام مہدی) آپ کی والدہ ماجدہ ام ولد ہیں ان کو نرجس کہا جاتا تھا بعض ان کو صقیل اور بعض سوسن کہتے ہیں آپ کی کنیت ابو القاسم ہے آپ کا سب سے مشہور لقب مہدی ہے آپ نوجوان درمیانہ قد چہره خوبصورت اور بال لمبے کندھوں تک تھے ناک لمبی اور چہرہ منور تھا آپ کا چوکیدار محمد بن عثمان اور مواصل معتمد تھا تاریخ ابنِ الوردی میں ہے کہ محمد بن حسن خالص ہجری 255 میں پیدا ہوئے شیعہ کہتے ہیں آپ سرمن را اپنے والد کے گھر سُرنگ میں داخل ہو گئے تھے جبکہ ان کی والدہ ماجدہ دیکھ رہی تھیں اور واپس نہ آئے آپ کی عمر اس وقت نو برس تھی یہ سن ہجری 265 کا واقعہ ہے اس سن میں اختلاف ہے شیخ ابو عبد اللہ محمد بن یوسف بن محمد کنجی نے اپنی کتاب البیان فی اخبار صاحب الزمان میں ذکر کیا کہ امام مہدی کے غائب ہونے کے بعد زندہ اور باقی رہنے کی دلیل یہ ہے کہ ان کی اور عیسٰی بن مریمؑ خضرؑ، الیاسؑ جو اللہ تعالیٰ کے ولی نبی ہیں کی بقا اور کانا دجال اور ابلیس لعین جو اللہ کے دشمن ہیں کی بقاء ممتنع نہیں ہے ابراہیم بن سعید نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ وہ شخص سیدنا خضرؑ ہوں گے جو صحیح مسلم کے الفاظ ہیں۔ ابلیس لعین کی بقاء اور زندہ رہنے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے "إِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ" یقیناً تمہیں قیامت تک مہلت ہے سیدنا مہدیؑ کی بقاء اس ارشاد کی تفسیر ہے (نور الابصار: مترجم جلد دوم صفحہ 105 تا 107)

نور الابصار کی مختلف مذکورہ عبارات کا خلاصہ یہ ہے کہ:

1: اِمام حسن عسکری یعنی اِمام مہدی 255ھ میں پیدا ہو چکے اور ابھی تک وہ زندہ ہیں۔

2: ان کے باقی ہونے کی دلیل نقلی تاریخ ابن الوردی اور فصول المہمہ تصنیف علی بن محمد المعروف ابن سبّاغ کے علاوہ ابو عبد اللہ محمد بن یوسف کنجی سے دی۔

 3: اِمام مہدی کے زندہ ہونے کی دلیل عقلی محمد بن یوسف کنجی کے حوالہ سے پیش کی گئی یعنی حضرت عیسٰیؑ، خضرؑ، اور اِلیاسؑ زندہ ہو سکتے ہیں تو امام مہدی زندہ کیوں نہیں ہیں اور ابلیس ملعون بھی زندہ ہے تو اِمام مہدی کے زندہ ماننے میں کیا رکاوٹ ہے؟

قارئین کرام! مومن بن حسن نے اِمام مہدی کے پیدا ہونے کے بعد اب تک زندہ موجود ہونے کا جو عقیدہ ذکر کیا ہے وہ دراصل اہلِ سنت کا نہیں بلکہ رافضیوں کا عقیدہ ہے اور اس عقیدہ کے اثبات پر جن حوالہ جات کو پیش کیا وہ بھی کٹر شیعہ مصنفین ہیں ہم نے ان کی تفصیل اسی میزان الکتب میں ذکر کر دی ہے اہلِ سنت کا اِمام مہدی کے بارے میں یہ عقیدہ ہے کہ قرب قیامت آپ پیدا ہوں گے اور چالیس سال زندہ رہنے کے بعد انتقال فرما جائیں گے عقد الدرر میں اس پر بہت سی احادیث مذکور ہیں۔

عقد الدرر: وعن على بن ابي طالب قال يلى المهدى أَمْرَ النَّاس ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ سَنَةَ. اخرجه ايضا الحافظ ابو عبد الله نعيم بن حماد في كتاب (الفتن) وعن أرطاة (يَبقَى الْمَهْدِى أَرْبَعِينَ عاما) اخرجه ايضا نعيم بن حماد في كتاب (الفتن) وعن حذيفة بن اليمان قال قال رسول الله يَلْتَفِت الْمَهْدِى وَقَدْ نَزَلَ عِيسى ابن مريم عليه السلام فَذَكَرَ الحديث وَفِي آخِرِهِ فَيَمُكُتُ ارْبَعِينَ سَنَةً يعنى المهدي عليه السلام اخرجه الحافظ ابونعيم الاصفهاني في مناقب المهدى وابو قاسم الطبراني في معجمه وعن أرطاة قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ الْمَهْدِي يَعِيشُ أَرْبَعِينَ سَنَةً ثُمَّ يَمُوتُ عَلَى فِرَاشِهِ

(عقد الدرر فى اخبار المنتظر مصنفه الشيخ علامه يوسف بن يحيى الشافعي صفحہ 306 الباب الحادی عشر حدیث نمبر 376)

صفحہ 2 از 3